تیل وگیس کی تلاش کا کام ڈرامے کے سوا کچھ نہیں،احسان الحق

تیل وگیس کی تلاش کا کام ڈرامے کے سوا کچھ نہیں،احسان الحق

  

صوابی( بیورورپورٹ) KPK کی تاریخ کا بڑا لیک ۔ نوشہرہ کے میٹا مارفک بلاک میں تیل وگیس کی تلاش کا کام ڈرامے کے سوا کچھ نہیں۔ چیف ایگزیکٹیو آئل اینڈ گیس کمپنی نے پوری حکومت اور عمران خان کو اندھیرے میں رکھ کر جرم کیا ہے۔ جس سے حساب لیا جانا ضروری ہے۔وزیراعلیٰ نوشہرہ میٹامارفک بلاک کی شفاف انکوئری کے لئے ایک اعلیٰ سطح انکوائری ٹیم مقرر کریں اور اُس کے نتیجے تک چیف ایگزیکٹیو KPOGCLاور دوسرے اہم عہدیداروں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں ڈالنے کی سفارش کریں۔ ان خیالات کا اظہار صوابی کی سیاسی شخصیت احسان الحق اور اینٹی کرپشن پبلک فورم کے رہنماؤں ظلال خان اور عباداللہ نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ماہرین ارضیات کی متفقہ رائے کے مطابق نوشہرہ بلاک میں تیل وگیس کا کوئی امکان نہیں تو پھر آخر کس بنیاد پر چیف ایگزیکٹیوKPOGCL رضی الدین نے یہاں کام کا باقاعدہ آغاز کرکے حکومت سے 42ملین ڈالر کی خطیر رقم مانگی ہے اُنہوں نے مزید کہا کہ مالی بحران کا شکار صوبائی حکومت کے لئے 42ملین ڈالر کا ٹیکہ جان لیوا ثابت ہوگا۔ اُنہوں نے بتایا کہ چیف نے مختلف عوامی فورمز پر 1.1بلین بیرل تیل اور 16TCFگیس کے بھاری ذخائر کا اعلان کرکے پی ٹی آئی کی حکومت خصوصاً وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور عمران خان کو یہ مژدہ بھی سنایا ہے کہ ہم KPK میں تیل کی پیداوار کو 2لاکھ بیرل یومیہ تک لے کر جائیں گے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ KPOGCLکے چیف کا گزشتہ 3 سالہ ریکارڈ گواہ ہے کہ اس طویل دورانئے میں KPOGCLنے ایک بیرل تیل پیدا نہیں کیا جبکہ ماہرین بھاری ذخائر کی موجودگی کو بھی سفید جھوٹ قرار دے رہے ہیں اور خدا خدا کرکے نوشہرہ بلاک کا افتتاح کیا گیا تو ماہرین کے مطابق یہاں تیل و گیس کی دریافت کاکوئی امکان سرے سے ہے ہی نہیں کیونکہ یہ علاقہ میٹا مارفک ہے جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ یہاں تیل ہے نہ گیس۔ اُنہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مزید بتایا کہ موجودہ چیف کا 3 سالہ کنٹریکٹ 7جنوری 2017ء کو ختم ہورہا ہے۔جبکہ ذرائع بتاتے ہیں کہ موصوف کے پاس Dual Nationalityہے اور اُس کے بچے کنیڈا میں رہائش پذیر ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ 7جنوری تک وہ اپنی جھوٹے دعوؤں کے ذریعے ٹائم نکالے اورپھر فوراً ملک چھوڑ کر باہر چلا جائے۔ لہٰذا ہم وزیراعلیٰ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ چیف اور دوسرے اہم اہلکاروں کے نام ECLمیں ڈالنے کی سفارش کریں اور ایک ہائی لیول انکوائری میں نوشہرہ میٹامارفک بلاک کی شفاف تحقیقات کریں۔ تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -