ملکہ ترنم نور جہاں کو مداحوں سے بچھڑے 16سال بیت گئے

ملکہ ترنم نور جہاں کو مداحوں سے بچھڑے 16سال بیت گئے
ملکہ ترنم نور جہاں کو مداحوں سے بچھڑے 16سال بیت گئے

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن ) سروں کی ملکہ نور جہاں کی آج 16ویں برسی منائی جارہی ہے ۔

ابتک نیوز کے مطابق اپنی آواز سے لاکھوں دلوں پر راج کرنے والی اور پاک بھارت جنگ کے دوران ملی نغمے گا کر پاک فوج کے جوانوں کا لہو گرمانے والی ملکہ ترنم نور جہاں کو آج ہم سے بچھڑے 16سال بیت گئے ، انہوں نے تمغہ امتیاز اور پرائیڈ آف پرفارمنس بھی اپنے نام کر رکھا ہے ۔

سابق صدر آصف علی زرداری کے متعلق بڑی خبر آگئی ، تفصیل جاننے کیلئے یہاں کلک کریں

ملکہ ترنم نورجہاں کا اصل نام اللہ وسائی تھا اور وہ 21 ستمبر1926ءکو محلہ کوٹ مراد خان قصور میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اپنی فنی زندگی کا آغازبطور چائلڈ سٹار 1935ءمیں کلکتہ میں بننے والی فلم شیلا عرف پنڈ دی کڑی سے کیا۔ چند مزید فلموں میں کام کرنے کے بعد 1938ءمیں وہ لاہور واپس آگئیں جہاں انہوں نے فلم ساز دل سکھ پنجولی اور ہدایت کار برکت مہرا کی فلم گل بکاﺅلی میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ یہی وہ فلم تھی جس سے بطور گلوکارہ بھی ان کی شہرت اور مقبولیت کا آغاز ہوا، اس کے بعد انہوں نے فلم یملا جٹ اور چوہدری میں کام کیا۔

اوگرا کو وزارت پٹرولیم کے ماتحت کرنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

1941ءمیں موسیقار غلام حیدر نے انہیں اپنی فلم خزانچی میں پلے بیک سنگر کے طور پر متعارف کروایا اسی سال بمبئی میں بننے والی فلم خاندان ان کی زندگی کا ایک اور اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ اسی فلم کی تیاری کے دوران ہدایت کار شوکت حسین رضوی سے ان کی محبت پروان چڑھی اور دونوں نے شادی کرلی۔

قیام پاکستان سے پہلے ان کی دیگر معروف فلموں میں،دوست، لال حویلی، بڑی ماں، نادان، نوکر، زینت، انمول گھڑی اور جگنو کے نام سرفہرست ہیں قیام پاکستان کے بعد انہوں نے فلم چن وے سے اپنے پاکستانی کیریئر کا آغاز کیا اس فلم کی ہدایات بھی انہی نے دی تھی بطور اداکارہ ان کی دیگر فلموں میں گلنار، دوپٹہ، پاٹے خان، لخت جگر، انتظار،نیند، کوئل، چھومنتر، انار کلی اور مرزا غالب کے نام شامل ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے اداکاری سے کنارہ کشی اختیار کرکے خود کو گلوکاری تک محدود کرلیا۔

ساہیوال میں جی ٹی روڈ پر 12گاڑیاں ٹکرا گئیں ،5افراد جاں بحق ،3زخمی

انہوں نے 995 فلموں کے لئے نغمات ریکارڈ کروائے جن میں آخری فلم گبھرو پنجاب دا تھی جو 2000ءمیں ریلیز ہوئی ۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور نشان امتیاز عطا کیا تھا جبکہ ان کے مداحوںنے انہیں 18 برس کی عمر میں ہی ملکہ ترنم کا خطاب عطا کردیا تھا۔

1965ءکی جنگ میں انہوں نے میرے ڈھول سپاہیا ، اے وطن کے سجیلے جوانوں ، ایہہ پتر ہٹاں تے نیئی وکدے، او ماہی چھیل چھبیلا، یہ ہواﺅں کے مسافر ، رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو، میرا سوہنا شہر قصورنیں سمیت بے شمار ملی نغمے گا کر قوم اور فوج کے جوش و ولولے میں اضافہ کیا۔نورجہاں 23 دسمبر 2000ءکو دنیا سے رخصت ہوئیں ۔وہ کراچی میں ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسود ہ خاک ہیں۔

مزید :

قومی -