طبی دواساز اداروں کے خلاف اندھی کارروائیوں کا مقصد کیا ہے؟

طبی دواساز اداروں کے خلاف اندھی کارروائیوں کا مقصد کیا ہے؟
طبی دواساز اداروں کے خلاف اندھی کارروائیوں کا مقصد کیا ہے؟

  

پنجاب میں یونانی ادویہ سازاداروں کے خلاف کریک ڈاؤن نے ہر کسی کو حیران کردیا ہے کہ حکومت نے توجعلی ادویات والوں کو پکڑنے کا اعلان کیا تھا مگر اس نے انتہائی اہمیت کے حامل ملکی و عالمی شہرت رکھنے والے اداروں کو بھی اس صف میں لاکھڑا کیا ہے جن کی ساکھ عالمی معیارات پر پوری اترتی ہے ۔اس حوالے سے عجیب طرح کی خبریں مشہور ہیں کہ کارروائی کرنے والے اداروں کو اس قانون کا علم ہی نہیں کہ جس کی مبینہ خلاف ورزی کے جرم میں اُن مثالی اداروں کو عبرت ناک سزا دی جارہی ہے جو کئی دہائیوں سے ملک کا نام روشن کئے ہوئے ہیں ۔دوسری جانب جس افسر سے بات کی جائے وہ اپنی مجبوری بیان کرتا ہے کہ انہیں ہر صورت اوپر والوں کا ٹارگٹ پورا کرناہے ۔یہ ٹارگٹ کس نے انہیں دیااور اسکے نتائج کیا نکلیں گے ،یہ کوئی ادارہ نہیں جانتا نہ حکومت اسن اندھی کارروائیوں کے مضر نتائج پر غور کررہی ہے ۔یونانی ادویہ ساز اداروں کے خلاف ہونے والی اندھی کارروائیوں پر ادویہ ساز اداروں کی تنظیم پی ٹی پی ایم اے کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیااور اب تک سینکڑوں اداروں اور انکے سٹاکسٹ کے خلاف کارروائیاں عمل میں لائی جاچکی ہیں ۔اس حوالے سے جب ہماری ملک کے معروف یونانی ادارے لاثانی فارما کے چیف ایگزیکٹو مہر عبدالوحید سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ہائی کورٹ میں ڈریپ کو چیلنج کرتے ہوئے استدعا کی ہے کہ جو قانون یونانی ادویہ سازی کے بنیادی طریقہ کار سے متصادم ہوتو اسے کیسے نافذ کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ حکومت جعلی ادویہ ساز اداروں کو پکڑے اور انسانیت کے دشمنوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے مگر ان کارروائیوں میں اچھے اداروں کی پگڑیاں اچھالنا مناسب نہیں ہے۔

مہر عبدالوحید نے کہا کہ متبادل طریقہ علاج ڈبلیو ایچ او کے ایجنڈے پر بھی شامل ہے اور دنیا بھر میں ہر ملک میں اسکے ہاں مروجہ طریقہ علاج کی حوصلہ افزائی کرکے اسکو جدید پیمانے پر استوار کرنے کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے لیکن جب ہم اپنے ملک کی جانب دیکھتے ہیں تو اس خطے میں صدیوں سے رائج یونانی ادویہ اپنی ہی حکومتوں اور اداروں کی جانب سے شدید ترین مخالفت کا سامنا کرتی آرہی ہیں حالانکہ ڈرگ ایکٹ 1976میں یونا نی، آیورو یدک اور ہو میو پیتھک ادویات کو ڈرگ کی تعریف سے استثناء دیا گیا تھا، کیونکہ ان ادویات کی فلاسفی اور ان کی تیاری ایلو پیتھک سے بالکل مختلف ہے، لیکن DRAP نے اس استثناء کو ختم کر دیا۔ ۔حالانکہ عوام میں طب یونانی نہایت مقبول عام ہے اور سستااور موثر علاج ہونے کی وجہ سے لوگ اسے پسند کرتے ہیں۔

مہر عبدالوحید کا کہنا ہے کہ ملک میں نیچرل پراڈکٹس اور لائف سٹائل تبدیل کرنے کے لئے عوام میں شعور بھی یونانی اداروں نے پھیلایا ہے کیونکہ اس طریقہ علاج کی بنیاد ہی فطرت ہے۔دور حاضر میں وطن عزیزمیں یونانی طریقہ علاج کو جدید پیمانوں پر سائنسی تحقیقات سے لیس کرنے کا کریڈٹ اگر ہمدرد کے حکیم محمدسعید شہید،قرشی لیبارٹریز کے اقبال قرشی ،مرحبا لیبارٹریزکے حکیم محمد عثمان اور اشرف لیبارٹریز کے ڈاکٹر زاہد اشرف،ہربیون فارما کے ندیم خالد ایسی دیگر شخصیات کو دیاجائے تو غلط بات نہیں ہوگی ، انکی شبانہ روز محنتوں کو دیکھا جائے تو یہ خوشگوار حیرت ہوگی کہ انہوں نے پاکستان کے طبی اداروں کا نہ صرف ملک میں بلکہ بیرون ملک بھی نام روشن کیا ہے اور پاکستان سے عناد رکھنے والے ملکوں کو مارکیٹ سے باہر کردیا تھا۔یہ سب اس وجہ سے ممکن ہوا کہ پاکستان کی یونانی ادویات عالمی معیار کی حامل ہیں ۔امریکہ ،جاپان،روس ،فرانس،برطانیہ اور خلیجی ملکوں سمیت دیگر بڑے ملکوں میں بھی ان اداروں کی پراڈکٹس ایکسپورٹ ہوتی ہیں تو اس کا لامحالہ مطلب یہ ہواکہ یہ ادارے مستند ہیں اور انکی مصنوعات انتہائی معیاری ہیں ۔یہ برسوں کی محنت کا نتیجہ ہے جس پر پاکستان فخر کرتا ہے۔لیکن انتہائی افسوس ناک بات یہ ہے کہ یونانی اداروں کو اعتماد میں لئے بغیر ڈریپ نے قوانین وضع کئے جو پاکستان کے موسم اور حالات کی وجہ سے قابل عمل نہیں ہوسکتے ۔ڈریپ نے یونانی اداروں کو ایلوپیتھک اداروں کے ساتھ نتھی کرکے ان کو بھی اس طریقہ کار کا پابند بنادیا جو ادویہ سازی میں اختیار کئے جاتے ہیں حالانکہ یونانی ادویہ سازی کی بنیاد ہی ایلوپیتھک کی ضد ہے ۔دونوں کا الگ الگ ادویہ سازی کا سسٹم ہے ۔اس صریحاً جہالت کی وجہ سے یونانی ادویہ سازوں کی تنظیم پی ٹی پی ایم اے نے سندھ ہائی کورٹ سے سٹے آرڈر حاصل کیا اور عدلیہ کی مدد سے ڈریپ کو سمجھانے کی کوشش کی کہ خدارا یونانی ادویہ سازی کو ایلوپیتھک کے پیمانوں کے ساتھ نہ جوڑا جائے کیونکہ یہ غیر فطری عمل ہے۔ یہ حالات جوں توں مذاکرات کی صورت میں چل رہے تھے کہ ڈریپ اور پنجاب حکومت نے جعلی ادویات کی آڑ میں یونانی ادویہ ساز اداروں کے خلاف کریک ڈاؤن کرکے انہیں سیل کرنااور مقدمات درج کرکے مالکان کی گرفتاریاں شروع کردی۔میں سمجھتا ہوں کہ اس میں ڈریپ کی بدنیتی شامل ہے ۔اس نے موقع دئیے اور سندھ ہائیکورٹ کا سٹے مانے بغیر کریک ڈاؤن کیا ہے جبکہ ڈریپ نے پی ٹی پی ایم اے سے مذاکرات میں یہ بات تسلیم کر لی تھی کہ یونانی دواسازی کو الگ سے شمار کیا جائے گا چنانچہ نومبر 2016کے تیسرے ہفتے میں یونانی کے لئے الگ سے قواعد (DRAP)کی ویب سائٹ پراپ لوڈکئے گئے، جن کی رو سے یونانی دواساز اداروں کی ENLISTMENTکے لئے تیاری کا عمل شروع ہوا۔مگر اسکی مہلت ہی نہ دی گئی اور دسمبر شروع ہوتے ہیں یونانی اداروں پر ہلہ بول دیا گیا۔

حیرانی اس بات پر ہے کہ جو ادارے عالمی شہرت رکھتے اور کروڑوں روپے ٹیکس دیتے اور کئی دہائیوں سے اچھی ساکھ رکھتے ہیں انہیں بھی جعلی ادویہ سازوں کی قطار میں لاکھڑا کیا؟ سوال یہ ہے کہ کیا کسی ملک میں اپنے کماؤ پوت اور علاج معالجہ کے اداروں کو ادویہ سازی سے یوں روک کر ہراساں کرنا جرم نہیں ؟ ۔یہ اندھیر نگری چوپٹ راج والی بات بنتی ہے ۔سوچنے کی بات ہے کہ جو ادارے قانون اور عالمی معیارات کے مطابق کام کررہے ہیں انہیں بند کرکے لاکھوں لوگوں کو بے روزگار اور متبادل ادویہ کا بحران پیدا کرناملکی ترقی کے خلاف گھناؤنی سازش نہیں؟ جب تک یو نانی دوا ساز اداروں کا ENLISTMENT PROCESSمکمل نہیں ہو تا ، چھاپوں ، فیکٹریوں کو بند کرنے اور پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بند کر کے یو نانی دواسازی کی صنعت کو FACILITATEکیا جا نا چاہئے تا کہ ہمارے اسلاف کا یہ عظیم ورثہ ملک کے مسئلہ صحت کو حل کرنے میں اپنا مؤثر کر دار ادا کرسکے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

.

مزید :

بلاگ -