پاکستان کا وہ علاقہ جہاں نوجوان لڑکیوں کی کھلم کھلا خرید و فروخت کی جارہی ہے

پاکستان کا وہ علاقہ جہاں نوجوان لڑکیوں کی کھلم کھلا خرید و فروخت کی جارہی ہے
پاکستان کا وہ علاقہ جہاں نوجوان لڑکیوں کی کھلم کھلا خرید و فروخت کی جارہی ہے

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے جنوبی علاقوں میں بھٹہ مزدوروں اور ہاریوں کا استحصال معمول قرار پا چکا ہے جسے وہ خود بھی اپنی قسمت سمجھ کر خاموشی سے برداشت کرتے رہتے ہیں۔ شاید ان کی یہی خاموشی جاگیرداروں اور وڈیروں کو مزید شہ دیتی ہے۔ یہ لوگ ان وڈیروں سے معمولی قرض لے کر ان کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں اور بسااوقات اس قرض کی بھرپائی کے لیے انہیں اپنی عزت بھی پامال کروانا پڑجاتی ہے۔ یہی کچھ پیارولنڈھ کی امیری کاشی کوہلی اور اس کے شوہر کے ساتھ ہوا۔ ان کے لیے ہوئے قرض کی سزا ان کی 14سالہ بیٹی جیوتی بھگت رہی ہے۔ امیری کاشی کا کہنا ہے کہ قرض دہندہ شخص اس کی بیٹی کو رات کے وقت اٹھا کر لے گیا۔ جب وہ صبح جاگے تو ان کی بیٹی موجود نہیں تھی۔

’دنیا کے امیر اور معروف ترین مرد چپکے چپکے میرے سے یہ شرمناک کام کرواتے ہیں‘ خاتون نے دنیا کے معروف ترین لوگوں کا پول کھول دیا

خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جیوتی کے والدین اس کے غائب ہونے پر فلاحی کارکن ویرو کوہلی کے پاس گئے اور لڑکی کی بازیابی میں مدد کی درخواست کی۔ ویرو کوہلی جیوتی کے ماں کے ہمراہ پولیس سٹیشن گئی جہاں پولیس نے کہا کہ لڑکی اپنی مرضی سے گئی ہے۔ ویرو کوہلی کا کہنا تھا کہ ”میں نے پولیس والوں سے کہا کہ اگر لڑکی اپنی مرضی سے گئی ہے تو ہماری اس سے بات کروا دو، لیکن انہوں نے منع کر دیا۔ اس کی بجائے انہوں نے لڑکی کے مبینہ اغواءکار حامد بروہی کو بلا لیا۔ اس نے تھانے آ کر بتایا کہ ان لوگوں نے میرے ایک لاکھ روپے دینے ہیں۔ اب پولیس نے لڑکی کی طرف سے ایک اقرار نامہ ہمیں دکھا دیا ہے جس میں لڑکی نے کہا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کیا ہے اور اپنی رضامندی سے بروہی سے شادی کی ہے۔ اس نے اقرارنامے میں کہا ہے کہ اب میں اپنے گھروالوں سے نہیں مل سکتی۔“

ویرو کوہلی کا کہنا تھا کہ ”ہمارے دباﺅ پر پولیس مجھے اور ایک غیرملکی صحافی کو جیوتی سے ملوانے پر مجبور ہو گئی۔ وہ ہمیں لے کر ایک کمپاﺅنڈ میں گئے جہاں جیوتی زمین پر بچھائے گئے گدے پر بیٹھی ہوئی تھی۔ اس نے ہم سے بات کرتے ہوئے وہی باتیں دہرائیں جو اس نے اقرارنامے میں کہہ رکھی تھیں۔ اس نے کہا کہ ’میں نے بروہی سے اس لیے شادی کی، کیونکہ میں اس سے محبت کرتی تھی۔ میں نے بروہی سے کہا تھا کہ ہم ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں تو ہمیں شادی کر لینی چاہیے۔ اس نے بھی ہاں کہہ دی اور ہم نے شادی کر لی۔‘ “ ویرو بروہی کا کہنا ہے کہ اگلے دن ہم پولیس کے بغیر وہاں گئے تو اس کمپاﺅنڈ میں صرف خواتین ہی موجود تھیں اور جس کمرے میں جیوتی بیٹھی تھی اسے دیکھ کر لگ رہا تھا کہ یہ کمرہ نہیں بلکہ ایک سٹیج ہے جو لڑکیوں کی پرفارمنس کے لیے سجایا گیا تھا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -