مہاجروں کو کیڑے مکوڑے سمجھنے والے اپنا قبلہ درست کریں، لندن والوں سے جان چھوٹی تو یہاں کے بیوپاری آگئے:مصطفی کمال

مہاجروں کو کیڑے مکوڑے سمجھنے والے اپنا قبلہ درست کریں، لندن والوں سے جان ...
مہاجروں کو کیڑے مکوڑے سمجھنے والے اپنا قبلہ درست کریں، لندن والوں سے جان چھوٹی تو یہاں کے بیوپاری آگئے:مصطفی کمال

  

حیدر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سربراہ پاک سر زمین پارٹی مصطفی کمال نے کہا ہے کہ کراچی میںمہاجروں کو کیڑے مکوڑے سمجھنے والے پہلے اپنا قبلہ درست کریں، تاثردیاگیاکہ حیدرآباد کے عوام کراچی کوسندھ سے الگ کرناچاہتے ہیں۔یہ قوم شعور رکھتی ہے، محب وطن ہے اور پڑھی لکھی ہے۔

رینجرز کی کارروائیاں سیاسی انتقام نہیں ،سیکیورٹی فورسز نے مضبوط شواہد کی بنیاد پر کارروائی کی،چوہدری نثار کی نوازشریف کو بریفنگ

تفصیلات کے مطابق حیدر آباد پکا قلعہ میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حیدرآباد کے عوام نے آج میراسرفخر سے بلند کردیا،حیدرآباد والے شعوررکھتے اور حب الوطن ہیں،اردو بولنے والوں نے ثابت کردیا کہ وہ متحد رہنا چاہتے ہیں۔ لندن والوں سے ہماری جان چھوٹی تو اب یہاں کے بیوپاری آگئے ہیں،ان کی جانب سے تاثر دیا گیا تھاکہ اردو بولنے والے حب الوطن نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم بول بول کر تھک گئے کہ اس قوم کو گرا ہوا نہ سمجھو،جھوٹ کا تاثر چھوڑنے والوں نے 23اگست کو ایک اور ایم کیو ایم بنائی۔گورنر سندھ کوبھی 13برسوں بعد پارٹی سے نکال دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ عوام نے جس کو رکھوالا بنایا وہی راہزن بن گیا لیکن آج پکا قلعہ کے لوگوں نے جھوٹ کو نیست و نابود کردیا ہے ۔تین سالوں میں8ہزار ارب روپے قرضہ لیا گیا ،ہسپتالوں میں ادویات بھی نہیں ہیں جبکہ شہر اب کچرا کنڈی بن گیا ہے۔حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پتہ ہی نہیں کہ ملک کی آبادی کتنی ہے،کیا مردم شماری کروانے سے ریاست کمزور ہو جائے گی؟مردم شماری کے بغیر حکومت کب تک اور کیسے چلاو گے؟

عوام کو کسی نے روٹی کپڑا مکان،کسی نے پختون اور کسی نے کچھ اورکہہ کردھوکادیا::پرویز خٹک

مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ اگر کسی خود کش دھماکے میں لوگ شہید ہوتے ہیں تو پورا میڈیا وہاں پہنچ جاتا ہے ،پورا ملک افسوس میں آ جاتا ہے لیکن ساڑھے3لاکھ بچے غذائی قلت اور پانی کی قلت کاشکاربن کرمررہے ہیں،ایک کروڑ بچے ذہنی اور جسمانی بیماری کا شکار بن گئے ہیں ،ان کی طرف کسی کی توجہ نہیں جاتی،ان ماوں کی فریاد کوئی نہیں سننا چاہتا ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک خوراک خود پیدا کرتا ہے اور باہر کے ملکوں کو بھی بھیج سکتا ہے لیکن اسی ملک کے اپنے بچے بھوک سے مر رہے ہیں۔ بم دھماکوں سے لاشیں دیکھ کرپوراملک اداس ہوجاتاہے ، معصوم بچوں کی ماوں کادکھ کسی کونظرنہیں آرہا؟ ۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے بڑا لیڈ نہیں بننا،مجھے ان ماوں کا لیڈر بننا ہے ،مجھے ان تمام مرنے والے معصوم بچوں کا لیڈر بننا ہے ۔

مزید :

حیدرآباد -