عالمی برادری میں امریکہ کی تنہائی

عالمی برادری میں امریکہ کی تنہائی

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔جنرل اسمبلی میں قرار داد128ووٹوں سے منظور کر لی گئی، جس میں امریکہ کا نام لئے بغیر مطالبہ کیا گیا ہے کہ بیت المقدس کے سٹیٹس کا معاملہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مذاکرات اور اقوام متحدہ کی ماضی کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔امریکہ اور اسرائیل سمیت صرف نو ممالک نے اِس قرارداد کی مخالفت کی،جن میں چھوٹے جزائر اور غیر معروف ممالک شامل ہیں،35ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔امریکہ کے صفِ اول کے اتحادیوں برطانیہ، جرمنی، فرانس، جاپان اور بھارت کے علاوہ مصر، اُردن، عراق اور سعودی عرب نے قراداد کی حمایت کی، امریکہ کو سلامتی کونسل میں بھی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا تھا، جہاں چودہ ممالک نے قرارداد کی حمایت کی اور امریکہ نے ویٹو کر دی۔ فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نے قرارداد کی منظوری کا خیر مقدم کیا، قرارداد میں امریکہ سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا، قرارداد پاکستان، یمن اور عراق نے پیش کی۔

قرارداد کی اتنی بھاری اکثریت سے منظوری کے باوجود امریکہ اپنی ہٹ دھرمی پر ڈٹا ہوا ہے اور اقوام متحدہ میں اس کی مستقل مندوب نِکی ہیلی نے غصے کے عالم میں اعلان کیا کہ امریکی فیصلہ واپس نہیں ہو گا، اس موقعہ پر بھی امریکہ نے یہ رویہ اختیار کیا کہ امریکہ اقوام متحدہ کا سب سے بڑا ’’کنٹری بیوٹر‘‘ ہے اِس لئے اُس کے فیصلے کا احترام ہونا چاہئے، اسرائیل تو اِس پر سیخ پا ہے ہی اور اُس کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس شرمناک تھا، دیکھا جائے تو امریکہ اپنے اس فیصلے میں یکا و تنہا رہ گیا ہے۔ قرارداد کی حمایت میں جو ووٹ آئے وہ اُن چھوٹے ممالک کے ہیں، جن کا عالمی امور میں کوئی زیادہ کردار بھی نہیں،یہ کہا جا سکتا ہے کہ پوری دُنیا ایک جانب امریکہ کے مخالف کھڑی ہے اِس لئے جمہوریت پسند مُلک کی حیثیت سے امریکہ کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہئے،کیونکہ عملاً اسرائیل اور امریکہ کے سوا دُنیا کے کسی مُلک میں امریکہ اِس فیصلے کو پسند نہیں کیا گیا اُن میں امریکہ کے قریبی حلیف ممالک بھی شامل ہیں،لیکن امریکہ نے اِس بات پر اصرار کر کے کہ فیصلہ تبدیل نہیں ہو گا، جمہوری اصولوں کی نفی کی ہے۔

قرارداد کی منظوری توقعات اور اندازوں کے عین مطابق ہوئی ہے امریکہ کو بھی پہلے سے اس کا اچھی طرح اندازہ تھا اِسی لئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے براہِ راست دھمکیاں بھی دیں اور کہا کہ اگر قرارداد منظور کی گئی تو امریکہ اُن ممالک کی امداد بھی بند کر دے گا۔ امریکی مندوب نے بہت سے ممالک کو دھمکی آمیز خطوط بھی لکھے،لیکن کسی مُلک نے اِس کی پرواہ نہیں کی،وجہ اس کی صرف یہ ہے کہ امریکہ کا یہ فیصلہ غاصب اسرائیل کی حمایت کے مترادف ہے۔اسرائیل نے بیت المقدس پر1967ء کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کوئی مُلک قبضہ شدہ زمین کو اپنا حصہ نہیں بنا سکتا،اسرائیل نے نہ صرف مقبوضہ بیت المقدس پر قبضہ کیا ہُوا ہے، بلکہ اردن اور شام کے علاقوں کو بھی اسرائیل میں شامل کر رکھا ہے۔البتہ مصر نے امریکہ کے تعاون سے اپنے علاقے واپس لے لئے تھے،لیکن اِس قرارداد کا ایک محرک بھی مصر ہی تھا، اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اِس معاملے کی مسلمانوں کے نزدیک کتنی اہمیت ہے، اسرائیل نے عالمی ادارے کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے فلسطینی علاقے میں یہودی بستیوں کی آباد کاری کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔اِن حالات میں امریکہ کا فرض ہے کہ امنِ عالم کے لئے اسرائیل کو عربوں کے علاقے خالی کرنے پر مجبور کرے اور دو ریاستی حل کے ذریعے فلسطین کو باقاعدہ ایک مُلک تسلیم کیا جائے۔

امریکہ نے انصاف پسندی سے منہ موڑ کر اسرائیل نوازی شروع کر رکھی ہے،جس کی وجہ سے اب پوری دُنیا اُس کے اِس فیصلے کی مخالفت پر مجبور ہے،امریکہ اِس فیصلے کے بعد سے تنہائی کا شکار ہے اب اُسے معلوم ہو چکا ہے کہ معاملہ دھمکیوں سے حل ہونے والا نہیں اِس کے لئے سنجیدہ مذاکرات کرنے ہوں گے اور فکرو دانش کے ذریعے کوئی ایسا راستہ نکالنا ہو گا، جو فلسطینیوں کے لئے قابلِ قبول ہو، لیکن ایسے لگتا ہے کہ صدر ٹرمپ اسرائیل کے محبت میں زمینی حقائق کو بھی فراموش کر بیٹھے تھے۔اگر انہوں نے جلد بازی میں فیصلہ نہ کیا ہوتا تو اُنہیں جنرل اسمبلی کی قرارداد کی صورت میں اِس طرح کی عدیم النظیر سبکی کا سامنا نہ کرنا پڑتا،مزید ڈھٹائی یہ ہے کہ قرارداد کے بعد بھی امریکہ اپنے اِس فیصلے پر ڈٹا ہوا ہے،حالانکہ جن امریکی عوام کے نام پر اُس نے یہ فیصلہ کیا تھا وہ بھی اِس سے خوش نہیں اور اندرونِ مُلک اُن کی مقبولیت میں 31فیصد کمی ہو گئی ہے۔

اب امریکہ کے لئے معقولیت کا راستہ تو یہ ہے کہ وہ عالمی برادری کی رائے کا احترام کرتے ہوئے فیصلہ بدل دے، یا پھر ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑ کر ٹرمپ کی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنانا شروع کر دے اور واقعتا اُن ممالک کی امداد بند کر دی جائے جو اِس قرارداد کی منظوری میں شریک ہوئے،لیکن سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اب پوری دُنیا کے خلاف محاذ آرائی کرے گا،پہلے ہی اس کی جنگی پالیسیوں کی وجہ سے ایک طرف افغانستان اور مشرقِ وسطیٰ میں تباہی و بربادی کا کھیل کھیلا جا رہا ہے، تو دوسری طرف امریکہ شمالی کوریا کو بھی ایٹمی جنگ کی دھمکیاں دیتا رہتا ہے،جس کے جواب میں شمالی کوریا بھی کہتا ہے کہ امریکی شہر اُس کے جوہری نشانے پر ہیں یہ، زبانی جنگ اگر بڑھ جائے تو پوری دُنیا کا امن خطرے میں پڑ جائے گا، اِس لئے اِس خطرناک راستے کو ترک کرنا ضروری ہے۔

امریکہ افغانستان کا مسئلہ بھی جنگ سے حل کرنے کے موڈ میں ہے، لیکن ایسا ہوتا بھی نظر نہیں آتا، اِس لئے بہتر یہی ہے کہ دُنیا کو اشتعال دِلانے والے اقدامات ختم کر کے مسائل حل کئے جائیں۔امریکی صدر کو اب اچھی طرح اندازہ ہونا چاہئے کہ طاقت کی زبان سے مسائل حل نہیں ہوتے،بلکہ بگڑتے ہیں۔ امریکہ نے اگر دھمکی دے کر یہ سمجھ لیا تھا کہ دُنیا کے سارے ممالک کو خوفزدہ کر کے قرارداد نامنظور کرائی جا سکتی ہے تو یہ بہت ہی سطحی سوچ تھی۔ ایسے لگتا ہے کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کے اندر جو جہاندیدہ لوگ موجود ہیں صدر ٹرمپ نے یا تو اُن سے مشورہ ہی نہیں کیا یا اگر کیا تو اُن کی بات نہیں مانی،اب بھی امریکہ کے پاس فیصلہ واپس لینے کا آپشن موجود ہے، اِس لئے بہتر یہی ہے کہ اسرائیلی ناراضی کی پروا کئے بغیر امریکہ اپنا فیصلہ بدل لے اور فلسطین کے ساتھ زیادتیوں کا سلسلہ ختم کر کے غاصب اسرائیل سے اُس کی زمین خالی کروائی جائے اور اس پر فلسطینی مملکت کا حق تسلیم کیا جائے۔

مزید : رائے /اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...