ملتان،وکلاء کا احتجاج ختم،مطالبہ منظور!

ملتان،وکلاء کا احتجاج ختم،مطالبہ منظور!

ملتان میں وکلاء کی جانب سے جاری تحریک ختم کر کے دھرنا اُٹھا لیا گیا اور مطالبہ پورا ہونے پر اِن حضرات نے جشن منایا اور چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس ثاقب نثار کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اُن کا مسئلہ حل کرایا۔ملتان میں پرانی کچہری کی جگہ ایک پورا جوڈیشل کمپلیکس تیار کیا گیا تھا اور انتظامیہ نے پرانی کچہری کو وہاں منتقل کر دیا، وکلاء نے یہ تبدیلی نامنظور کی کہ دور ہونے کے علاوہ وکلاء چیمبر بھی نہیں بنائے گئے اِس سلسلے میں جو احتجاجی جلوس نکالا گیا وہ بے قابو ہوا اور جوڈیشل کمپلیکس میں بری طرح توڑ پھوڑ کی گئی۔اِس سلسلے میں بعدازاں پولیس نے وکلاء کے خلاف مقدمہ درج کیا تو وکلاء کی ایک معتدبہ تعداد نے رضاکارانہ گرفتاری دے دی، اِس کے بعد کچہری چوک میں احتجاجی اجتماع کے بعد دھرنا دیا گیا،جو نویں روز میں داخل ہو گیا تھا۔اس عرصے میں چیف جسٹس مسٹر جسٹس ثاقب نثار خود ملتان پہنچ گئے اور انہوں نے نئے جوڈیشل کمپلیکس کا معائنہ کیا اور رائے دی کہ یہ کمپلیکس کھیتوں میں بنا دیا گیا،جو بہت دور بھی ہے اور یہاں پوری سہولتیں بھی نہیں ہیں،اِس صورت حال کی روشنی میں انہوں نے حکم دے دیا کہ ماتحت عدالتیں فوری طور پر واپس پرانی کچہری منتقل کر دی جائیں۔یوں یہ معاملہ طے ہوا اور وکلاء نے دھرنا بھی ختم کر دیا۔ اس پر یاد آیا کہ اب دھرنے معاہدوں کے تحت ہی ختم کرنے کا سلسلہ چل نکلا اور صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے برملا کہا تھا کہ وکلاء سے بھی معاہدہ کرنا ہو گا۔بہرحال جو پہلے ہوا وہ افسوس ناک تھا اور جو اب ہوا کہ اس کی تعریف کی گئی ہے، بہتر ہو گا کہ عدالت عالیہ، ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت مل کر اِس مسئلے کا مستقل حل تلاش کریں،جو وکلا کی ضلعی اور ہائی کورٹ کی تنظیم کے منتخب عہدیداروں اور انتظامیہ کے درمیان مذاکرات اور مشاورت کرے اور اِس طرح ایک مستقل حل تلاش کیا جائے۔ اگر نئے کمپلیکس میں کام مقصود ہے تو پھر وکلاء اور سائلین کے لئے بھی تمام ضروری سہولتیں بہم پہنچائی جائیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کا بھی معقول انتظام کیا جائے۔یہ کوئی ایسا لاینحل مسئلہ نہیں ہے،بلکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ اِس تنازعہ سے سبق حاصل کیا جائے اور آئندہ جو بھی منصوبہ بنایا جائے اس کے تمام پہلوؤں کا پہلے ہی جائزہ لیا جائے کہ شکایت کا موقع نہ ملے۔

مزید : رائے /اداریہ