خطے کے حالات، امریکہ اور ہم؟

خطے کے حالات، امریکہ اور ہم؟
خطے کے حالات، امریکہ اور ہم؟

  

’’بڑے میاں سو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ‘‘ امریکی صدر ٹرمپ تو ہمارے خطے کے حوالے سے اپنی پالیسی بیان کر چکے اور ان کی طرف سے دھمکی بھی دی جاتی رہی ہے تاہم ان کے نائب تو دو ہاتھ آگے نکلے کہ انہوں نے بھی پاکستان ہی کو خبردار کیا اور واضح الزام لگا کر کہا ’’پاکستان دہشت گردوں کو پناہ دے گا تو نقصان اٹھائے گا‘‘ کہ صدر ٹرمپ نے اسے ’’نوٹس‘‘ پر لگا رکھا ہے۔

حضرت مائیک پنس نے یہ سب افغانستان میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے قبل وہ صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے مل چکے تھے۔

یہ کوئی پہلی بار نہیں کہ کسی امریکی عہدیدار کی طرف سے ایسا کہا گیا ہو، یہ تو ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کا حصہ ہے، ابھی چند روز قبل ہی ٹرمپ نے جتایا کہ امریکہ پاکستان کو امداد دیتا ہے، دوسرے معنوں میں پیسے لیتے ہو تو مزدوری بھی کرو،اس کا جواب بھی دے دیا گیا تھا کہ پاکستان کو امریکی حلیف بن کے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا اور ہزاروں جوانوں نے جامِ شہادت بھی نوش کیا۔

یہ بھی بتا دیا گیا تھا کہ امریکہ نے تو ابھی کولیشن سپورٹ فنڈ کے50ارب ڈالر دینا ہیں۔ امریکی صدر نے تو اپنی پالیسی بیان کرتے ہوئے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا بھی ذکر کیا اور تشویش ظاہر کر دی تھی۔

یہ صورتِ حال بہت واضح ہے اور دردِ دِل رکھنے والے حضرات یہ نشاندہی کرتے چلے آ رہے تھے کہ امریکی عزائم اچھے نہیں، امریکہ، بھارت کے ساتھ مل کر خطے میں اپنی پالیسی پر عمل چاہتا ہے، اور ہم (پاکستانی) اس سے لاپرواہو کر اپنی سیاسی محاذ آرائی میں اُلجھے ہوئے ہیں، تاہم اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صورت حال جو بھی ہے ہمارے دفاعی اور خارجی ادارے اِن حالات سے بے خبر نہیں ہیں کہ باقاعدہ طور پر جواب بھی دیا جاتا ہے اور اب تو ایک اور ثبوت بھی دیا کہ کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی کا اجلاس بُلا لیا گیا،لیکن یہ تو واضح ہے کہ ٹرمپ کی نئی پالیسی کے بعد ہی یہ طلب کیا گیا۔اس میں مختلف امور پر غور کر کے اس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ ہمسایہ رقیب اسلحہ کے ڈھیر لگا کر خطے کا امن خطرے میں ڈال رہا ہے۔

یہ واضح کیا گیا کہ پاکستان اسلحہ کی دوڑ کا مخالف ہے اور ایسا ماحول نہیں چاہتا تاہم دفاعی نقطہ نظر سے کم از کم حد تک تو خبردار رہا جائے گا،اس کے ساتھ ہی پُرزور طریقے سے اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ تر ہاتھوں میں ہے اور پاکستان اِس سے خبردار ہے۔

یہ گزارشات یوں کیں کہ ہمارے مُلک میں جو معروضی حالات پائے جاتے ہیں ان کے مطابق تمام سیاسی قوتیں مختلف حوالوں سے محاذ آرائی پر تلی ہوئی ہیں۔

یوں بھی ایک نئی صورت پیدا ہو چکی کہ وزیراعظم کو فاٹا بل پر ڈیڈ لاک کے لئے ’’ہدایات‘‘ لینے کے لئے لاہور آنا پڑا۔انہوں نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ(ن) کے مرکزی صدر محمد نواز شریف سے ملاقات کر کے مشاورت کی،اس میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف بھی تھے، جن کو حال ہی میں صدر مسلم لیگ(ن) نے آئندہ انتخابات میں اپنی جماعت کا امیدوار برائے وزارتِ عظمیٰ نامزد کیا ہے۔

بہرحال یہ ان کا اپنا جماعتی مسئلہ ہے، اصل بات تو یہ ہے کہ وفاق کی سطح پر اب سیاسی اور عسکری قوتوں کے درمیان ہم آہنگی موجود ہے تو اس کا فائدہ بھی ہونا چاہئے، اگرچہ حکومت نے ٹرمپ کی نئی پالیسی کے حوالے سے بھی اپنا جواب تو دیا ہے تاہم ضرورت اِس امر کی ہے کہ مُلک کے اندر بھی ایسا ماحول پیدا ہو جسے ’’قومی‘‘ کہا جا سکے اور یہ سب اتفاق رائے اور قومی جذبے ہی سے ممکن ہے کہ تمام تر سیاسی تحفظات رکھتے ہوئے بھی ہماری سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو مُلک سے متعلق نازک قومی مسائل پر مکمل اتفاق رائے کا اظہار کرنا چاہئے،اِس سلسلے میں انہی صفحات میں پہلے بھی عرض کیا گیا تھا کہ حکمران جماعت پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ برسر اقتدار ہونے کی وجہ سے ریاست کے تحفظ کی ذمہ داری نبھائے اور ساتھ ہی ساتھ مُلک کے اندر قومی اتفاق رائے والی فضا قائم کرے اور یہ کوئی ناممکن بات نہیں،وزیراعظم فیصلہ کریں اور مُلک کو درپیش خطرات اور امریکی دھمکیوں کی روشنی میں سب کو مدعو کریں، ان کے ساتھ کھلے دِل سے تبادلہ خیال کریں اور حالات کے مقابلے کے لئے یہاں بھی پالیسی بنا لی جائے،اِس امر کا اظہار بہت ضروری ہے کہ اہم تر قومی مسائل حل کرنے کے لئے پوری قوم یکسو اور ایک صفحہ پر ہے،لیکن محاذ آرائی کی موجودہ فضا میں یہ سب نہیں کیا جا رہا،حکومت اگر فیصلہ کر کے پہل کرے تو پھر دوسرے سیاسی رہنماؤں سے بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ آگے بڑھ کر مجوزہ اکٹھ میں شریک ہوں اور خطرات کے مقابلے میں قومی بیانیہ مرتب کر کے مشتہر کریں۔

یہاں تو یہ صورتِ حال ہے کہ اپوزیشن جماعتیں بضد ہیں اور اپنے اپنے موقف کو درست جان کر چاہتی ہیں کہ اُن کی بات مان لی جائے،جبکہ اتفاق رائے کے لئے مشترکہ اجلاس کا انعقاد ضروری ہے،علاوہ ازیں حزب اقتدار بھی اپنے حلیفوں اور اپنے موقف کے حوالے سے لچک سے گریزاں نظر آتی ہے۔

یہ سب خطرے سے آنکھ چرانے والی بات ہے کہ بہتر عمل وہ ہے، جس کے تحت کئی ترامیم بھی اتفاق رائے سے منظور ہوئیں۔ضرورت اِس امر کی ہے کہ خطے کے حالات کا مکمل طور پر ادراک کیا جائے۔

امریکہ،بھارت اور افغان گٹھ جوڑ کو یہ کہہ کر نظر انداز نہ کیا جائے ’’ساہنوں کیہہ‘‘ اس وقت صرف سرحدی اور عالمی خطرات ہی نہیں ہیں، اقتصادی حالت بھی خوش کن نہیں، قرضوں کی اقساط بھی قرضے لے کر ادا کرنا پڑتی ہیں، درآمد کے مقابلے میں برآمد کا فرق بہت اور خسارہ زیادہ ہے۔موسمی تغیرات نے ملکی پیداوار کو بھی متاثر کیا ہے۔

زرمبادلہ کے ذخائر مصنوعی تھے،ڈالر شیر بن گیا، بازار میں مہنگائی نے لوگوں کے بجٹ خراب کر دیئے، بے روزگاری بھی بہت زیادہ ہے، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، حالات تو یہ ہیں کہ نئی نئی جدید بستیاں آباد ہو جاتی ہیں، قبرستان اور کھیل کے میدان نہیں ہوتے اور پہلے جو تھے وہ یا تو بہت ناکافی ہو چکے اور یا پھر قبضہ گروپوں کے قبضے میں ہیں۔

یہ ایک اجمالی ساجائزہ ہے، اِن حالات میں ہمیں دشمنوں سے نبرد آزما ہونا ہے۔ہم دہشت گردی اور جرائم کا سامنا کر رہے ہیں اور اسی بنا پر امریکہ گٹھ جوڑ کر کے ہمیں دباتا ہے، ایسے میں ایک اجتماعی قومی پالیسی کی ضرورت ہے۔

اتحاد کا اظہار لازمی ہے اور پھر ملکی مسائل کے لئے بھی مل جل کر چلنا ہی بہتر ہو سکتا ہے۔ کون ہے جو بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے گا۔آنکھیں بند کر لینے سے کچھ نہیں ہو گا،وزیراعظم صاحب! ہمت کیجئے اور کل جماعتی نمائندہ کانفرنس بُلا لیں،تحفظات نہ رکھیں، سب کو بُلائیں اور قومی پالیسی مرتب کریں۔

مزید : رائے /کالم