امریکی قومی سلامتی کی نئی حکمت عملی اور پا کستان

امریکی قومی سلامتی کی نئی حکمت عملی اور پا کستان
 امریکی قومی سلامتی کی نئی حکمت عملی اور پا کستان

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جرمنی کے سابق چانسلر بسمارک نے ا پنے دور کے عالمی حالات پر 1862ء میں دلچسپ تجزیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اس دور کے مسائل تقریروں اور اکثریت کے فیصلوں سے نہیں، بلکہ تلوار اور خون سے طے ہو تے ہیں‘‘۔

18دسمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی ’’قومی سلامتی کی نئی حکمت عملی‘‘ کی دستاویز کو دیکھ کر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی بسمارک کی طرح یہی سوچ رکھتے ہیں کہ اس دور کے مسائل کا حل بھی بات چیت میں نہیں، بلکہ عسکری ہتھیاروں اور جنگی منصوبوں میں ہے۔

قومی سلامتی کی اس دستاویز اور ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر سے واضح طور پر پوری انسانیت کو خبر دار کیا گیا ہے کہ اب امریکہ اپنے سامراجی عزائم کے حصول کے لئے تیسری عالمی اور ایٹمی جنگ کرنے سے بھی گریز نہیں کر ے گا۔

امریکی مورخ آرتھر ایل نے ’’دی وال اسٹریٹ جرنل‘‘ میں اس دستاویز پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس دستاویز سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس دنیا کو پہلی جنگ عظیم کے فورا بعد والی صورت حال کی جانب لے کر جانا چاہ رہے ہیں کہ جب ہر چھوٹی، بڑی ریاست کو ہتھیاروں اور عسکری قوت پر ہی انحصار کرنا پڑتا تھا۔

جب طاقتورممالک،کمزور ممالک پر کنٹرول حاصل کرنے کو اپنا حق سمجھتے تھے۔ بنیادی طور پر اس 68 صفحات کے دستاویز میں امریکی سلامتی کو لاحق خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے اور ان خطرات سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی بیان کی گئی ہے۔

اس دستاویز کے بنیادی طور پر 4 ستون ہیں، امریکہ اور اس کے طرز زندگی کو کیسے تحفظ فراہم کیا جائے، امریکہ کو کیسے مزید خوشحال بنایا جائے، طاقت کے ذریعے کیسے امریکہ میں امن قائم رکھا جائے اور کیسے دنیا میں امریکی اثرورسوخ میں اضافہ کیا جائے۔

اس دستاویز کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں کھل کر چین اور روس کو ایسے ممالک قرار دیا گیا ہے، جو نہ صرف اپنا اثرورسوخ تیزی کے ساتھ بڑھا رہے ہیں، بلکہ امریکہ کی قوت، تحفظ اور خوشحالی کے لئے بھی ایک چیلنج ہیں۔

ٹرمپ کے قومی سلامتی کی دستاویز کے مطابق ’’گزشتہ کئی سال سے امریکہ کی پالیسی یہ رہی ہے کہ روس اور چین کے ساتھ معاملات کو اس حد تک نہ بگاڑا جائے کہ ان کے ساتھ بات چیت کا دروازہ مکمل طور پر بند ہو جائے، اس لئے امریکہ ان ممالک خاص طور پر چین کے ساتھ تجارتی رشتوں میں بھی منسلک رہا، امریکہ کی اس پالیسی کا مقصد یہ تھا کہ ان دونوں ممالک کو امریکی مفادات کے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے، مگر یہ پالیسی غلط ثابت ہوئی، اس لئے اب امریکہ کو کھل کر ان ممالک کے عزائم کے آگے بند باندھنا ہوں گے‘‘۔

سوویت یونین کے انہدام کے بعد امریکہ کھل کر ایک جارحانہ قوت کے طور پر سامنے آیا۔ امریکی حکمران طبقات کو علم تھا کہ دنیا میں ان کے سرمایہ داری نظام کا سکہ اسی صورت میں مانا جائے گا جب وہ دنیا میں اپنی عسکری دھاک جمائیں گے۔

1993ء میں صدر بل کلنٹن کے تحت پینٹا گون نے قومی سلامتی پر جو دستاویز جاری کی تھی۔ اس میں واضح طور پر یہ بیان کیا گیا تھا کہ’’کئی ممالک ایسے ہیں کہ جو مستقبل میں علاقائی یا عالمی طور پر بہت زیادہ اثرورسوخ حاصل کرسکتے ہیں اس لئے امریکہ کی بنیادی حکمت عملی یہی ہونی چاہیے کہ ایسی کسی بھی قوت کو ابھرنے سے روکا جائے‘‘۔

اس پالیسی کے بعد بل کلنٹن کے دور میں جس طرح سربیا پر حملہ کیا گیا اور یوگو سلاویہ کو تقسیم کیاگیا یہ اسی پالیسی کا نتیجہ تھا۔ 9/11کے واقعے کے بعد امریکہ نے ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کے نام پر 2002ء میں قومی سلامتی کے نام پر ایسی حکمت عملی اپنائی جس کے تحت امریکہ کسی بھی ایسے ملک پرحملہ کر سکتا ہے جس سے اس کے تحفظ کو خدشات لاحق ہوں۔

اسی حکمت عملی کے تحت امریکہ نے 2003ء میں عراق پر حملہ کیا۔ 2008ء میں جب بارک اوباما امریکہ کے صدر بنے تو اس وقت پو ری دنیا میں یہ تاثر تھا کہ اوباما، جارج بش کے دور کی پالیسی کو تبدیل کریں گے مگر اوباما بھی افغانستان اور لیبیا سمیت کئی ممالک میں امریکہ کی عسکری طا قت کا اظہار کرتے رہے۔

ان تمام واقعات سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ امریکہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد بھی دنیا پر اپنی دھاک جمانے کی کوشش کرتا رہا ہے تو پھر ایسے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی گئی، قومی سلامتی کی اس دستاویز کو دنیا کے امن کے لئے انتہائی خطرناک کیوں کہاجا رہا ہے؟ دراصل اس مرتبہ امریکہ کھل کر روس اور چین کے خلاف اپنے عزائم کا اظہار کر رہا ہے۔

روس اور چین دنیا کے انتہائی اثرورسوخ کے حامل ممالک ہیں، جن کے باعث ایٹمی ہتھیاروں کے ساتھ ایسے وسائل کی بھی بہتات ہے جس سے وہ دنیا کے کئی علاقوں میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے قابل ہیں۔

اس نئی قومی سلامتی کی پالیسی کو جاری کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر پا کستان سے مطالبہ کیا ہے کہ پا کستان کو ہر سال بڑی رقم دی جاتی ہے، اس لئے وہ دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔

ٹرمپ کی تقریر اور قومی سلامتی کی اس دستاویز میں پاکستان کے بارے جو باتیں کی گئی ہیں وہ ہرگز نئی نہیں ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ صدر بننے کے بعد کئی مرتبہ پاکستان کے بارے میں اس سے بھی زیادہ سخت زبان استعمال کرچکے ہیں۔

اس بات میں کسی کو بھی کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا سبب ہمارے حکمرانوں کی متضاد پالیسیاں بھی رہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ اس حقیقت سے بھی منہ موڑنا ممکن نہیں کہ 9/11کے بعدامریکہ نے اس خطے میں جو پالیسیاں بنائیں۔ ان کے سب سے زیادہ بھیانک نتائج جس ملک کو بھگتنے پڑے وہ پاکستان ہی ہے۔

ایک ایسے ملک کو جس کے حکمرانوں نے 1950ء کی دہائی سے لے کر 9/11تک کئی مواقع پر اپنے قومی مفا دات کو نظر انداز کرتے ہوئے امریکی مفاد کو ہی سامنے رکھ کراپنی پالیسیاں بنائی ہوں۔ ایسے ملک سے بھی دھمکی کی زبان میں بات کرنا نا قابل فہم رویہ ہے۔

9/11کے بعد جب سابق امریکی صدر بش، اوباما اور اب ٹرمپ کی جانب سے پاکستان سے ’’ڈو مور‘‘ کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ آج کا پاکستان 1950ء کی دہائی کے پاکستان کی طرح اپنی ہر طرح کی معاشی اور عسکری امداد کے لئے صرف امریکہ پر ہی انحصار نہیں کرتا۔ دنیا کے کئی اور ممالک کی طرح پاکستان بھی سرد جنگ کے محدود تقاضوں سے نکل کر اب صرف امریکی امداد پر ہی نہیں چل رہا۔

آج پاکستان، چین، روس، ایران، عرب ممالک اور یورپی یونین کے بہت سے ممالک کے ساتھ بھی کئی شعبوں میں تعاون کر رہا ہے۔

دوسری طرف ہمیں بھی اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ پاکستان کے حکمرانوں نے شروع سے ہی اس ملک میں ٹھوس معاشی اور سیاسی اصلاحات کرنے کی بجائے بیرونی امداد پر ہی انحصار کیا۔ ہمارے تن آسان جاگیردار، سرمایہ دار اور فوجی حکمرانوں نے اپنے وسائل خود پیدا کرنے اور ان پر انحصار کرنے کی بجائے پاکستان کی جغرافیائی اور حربی اہمیت کا استعمال کرتے ہوئے اسے امریکہ جیسی بڑی طاقتوں کے لئے ایک ’’رینٹل‘‘ ریاست بناکر رکھ دیا تاکہ کسی بھی طرح کی معاشی اور سیاسی اصلاحات کرنے کی بجائے آرام سے بیرونی امداد پر ہی کام چلتا رہے۔ اس’’رینٹل‘‘ ذہنیت سے نجات حاصل کئے بغیر عزت پانا ممکن نہیں ہے۔

مزید : رائے /کالم