زرعی نظام پر سرمایہ دارانہ تسلط

زرعی نظام پر سرمایہ دارانہ تسلط
 زرعی نظام پر سرمایہ دارانہ تسلط

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ملک میں زراعت کی وسعت کے باعث صنعتی ترقی ہوئی، جس نے ایک ایسا طاقتور سرمایہ دار طبقہ جنم دیا جو معاشرے پہ جاگیردارنہ تسلط کو ختم کر کے پہلے ملکی معیشت پہ حاوی ہوا پھر سیاست پہ اپنی گرفت مضبوط کر لی، تاہم حیرت انگیز امر یہ ہے کہ عام طور پہ دنیا بھر میں سرمایہ دار کلاس صنعتی ترقی کے لئے ٹیکنیکل ایجوکشن اور زراعت کی افزائش کے عمل کو سپورٹ دیتی ہے، کیونکہ بہترین خام مواد اور ماہر رجال کار پیداواری عمل کو دوام دینے کا وسیلہ بنتے ہیں ،لیکن بدقسمتی سے ہمارا سرمایہ دار طبقہ، جو قومی پالیسیوں پر اثرانداز ہونے کی طاقت رکھتا ہے،اس نے سکل ڈیولپمنٹ پہ دھیان دیا نہ ہی خام مواد فراہم کرنے والی زراعت کو پنپنے کا موقعہ دیتے ہیں،گویا جس شاخ پہ بسیرا ہے اسی کو کاٹنے میں مصروف ہیں،اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ باہمی انحصار کے باعث صنعت و زراعت ایک دوسرے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے،جدید فارمننگ کا مستقبل بجائے خود زرعی مشینوں سے جڑا ہوا ہے اور کیش کراپس کا تصور شوگر و کاٹن ملوں کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا،ان دنوں نہری علاقوں میں کماد اور چقندر کی کاشت میں غیر معمولی اضافہ کے سبب ملک کے بیشتر علاقوں میں شوگر انڈسٹریز کو عروج ملا ہے، سی آر بی سی کینال کی تعمیر کے بعد صرف ڈیرہ اسماعیل خان میں پانچ بڑی شوگر ملیں لگائی گئیں،جن میں ایشیا کی سب سے بڑی شوگر مل بھی شامل ہے،شوگر ملوں کی جانب سے ترغیب دلانے کے بعد کسانوں میں کماد کی کاشت کا رجحان بڑھا اور یہاں کم و بیش ڈیڑھ لاکھ ایکڑ اراضی پر کماد کی کاشت پھیل گئی،بلاشبہ ابتداء میں کماد کی آمدن سے کسانوں میں بیمثال خوشحالی آئی اور کارخانہ داروں کو غیرمحدود نفع ملا، لیکن رفتہ رفتہ کاشتکار اور کارخانوں کے درمیان حائل مڈل مین نے شوگر ملز انتظامیہ کے بعض افسران کی ملی بھگت سے ٹھیکیداری کے کالے نظام کو متعارف کرا کے بغیر کسی محنت اور سرمایہ کاری کے کروڑوں روپے کمانے کی روایت ڈالی تو حرص و آز سے مملو مل انتظامیہ کے افسران چھوٹے کاشتکاروں کے استحصال پہ اتر آئے اور کماد کے کاشتکاروں کو انڈنٹ کی فراہمی روکنے لگی۔

آغاز میں جن کاشتکاروں کی معاشی مجبوریاں انہیں زیادہ دیر تک فصل کو ذخیرہ رکھنے کی اجازت نہیں دیتی تھیں۔ وہ جلد ٹھیکیداری نظام کا شکار بن جاتے،لیکن اب ضلعی انتظامیہ کے بعض اہلکاروں کی تلویث سے مڈل مین زیادہ مضبوط ہو گیا تو سینکڑوں کاشتکار اپنی سال بھر کی کمائی ان ٹھیکیداروں کو اونے پونے فروخت کرنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں،شوگر ملز انتظامیہ کے افسران کاشتکاروں کی بجائے اب ٹھیکیداروں کو لامحدود انڈنٹس کے علاوہ ایڈوانس ادائیگیاں کرکے ٹھیکیداری کے دھندے کو مضبوط بنا رہے ہیں،اس کھیل میں مل انتظامیہ کے افسران ٹھیکیداروں کے ساتھ ملکر سالانہ کروڑوں روپے بٹور لیتے ہیں،سرکاری اداروں کی چشم پوشی کے باعث اب تو اس دھندہ نے باقاعدہ کاروبارکی شکل اختیار کر لی۔

چنانچہ ہر سال کی مانند امسال بھی چاروں ملز کی انتظامیہ نے کرشنگ سیزن میں تاخیر اور گنے کی سرکاری قیمت خرید 180 روپے فی من کی بجائے 150 روپے من کے حساب سے خریدنے پہ اصرار کر کے ایسا مصنوعی بحران پیدا کیا جس نے چھوٹے کاشتکاروں کی زندگی اجیرن بنا دی،یکم دسمبر سے کاشتکاروں نے احتجاجی دھرنے دیکر امن و امان کا مسئلہ پیدا کیا تو ضلعی انتظامیہ نے ایوان زراعت کے رہنماوں کو کرشنگ سیزن شروع کر نے کے علاوہ سرکاری نرخوں پہ کماد خریدی کی یقین دہانی کرا کے دس روز سے جاری احتجاجی دھرنا ختم کر ایا، لیکن عہد و پیماں کے باوجود مقامی شوگر ملیں کرشنگ سیزن کا آغاز کر سکیں نہ 180 روپے فی من کے حساب سے کماد کی خریداری ممکن بنائی گئی۔

واضح رہے کہ کاشتکاروں کے دھرنوں اور طویل احتجاج کے بعد 9 دسمبر کوضلعی انتظامیہ کی مداخلت کے بعد چاروں شوگر ملوں کے نمائندوں نے اتوار سے کرشنگ سیزن شروع کرنے اور 180 روپے من کماد خریدنے کی تحریری ضمانت دی تھی ،لیکن یہ پوری مساعی فریب ثابت ہوئی اور شوگر ملوں نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے شوگر ملز کو سبسڈی کی عدم فراہمی کو جواز بنا کر کرشنگ سیزن کو التوامیں ڈال کے 180 فی من خریداری سے انکار کر دیا،اتوار 10 دسمبرکے روزکاشتکاروں کی کماد سے لدی ٹرالیاں جب گیٹ پہ پہنچیں تو ملز انتظامیہ نے انہیں 150 روپے من کے حساب سے کماد خریدنے کا مژدہ سنا کے پریشان کر دیا، قانونی مشکلات سے بچنے کی خاطر ملوں کے ٹھیکیدار کاشتکاروں کو سی پی آر دینے کی بجائے سفید کاغذ کی چٹ پہ صرف کماد کا وزن لکھ کر دے رہے ہیں، جس پہ قیمت خرید کا اندراج نہیں ہوتا ،یہ نہ صرف غیرقانونی عمل ہے،بلکہ ریاست کی اتھارٹی کو ماننے سے انکار کے مترادف ہے ،لیکن یہ سب کچھ صوبائی و ضلعی انتظامیہ کے خفیہ تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا،چنانچہ انتظامیہ کی ادھوری مساعی اور نیم دلانہ کوششوں نے کماد کے بحران کو دوچند کر کے کاشتکاروں کی سال بھر کی محنت کو تباہ کر دیا،مل مالکان کا کہنا ہے کہ سندھ اور پنجاب میں صوبائی حکومتوں کی جانب سے شوگر ملوں کو بیس فیصد سبسڈی دی گئی، جس کی وجہ سے وہاں گنے کا نرخ 180 روپے فی من ملتا ہے،چونکہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے ابھی تک شوگر ملز کو سبسڈی نہیں ملی، اس لئے 180 روپے من کماد خریدنے سے انہیں نقصان ہوتا ہے ،لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے، سندھ اور پنجاب کی حکومتوں کی طرف سے شوگر ملوں کو سبسڈی دی گئی تو وہاں بھی 180 روپے فی من خریداری ہوئی نہ وقت پہ کرشنگ سیزن شروع ہوا۔

پنجاب میں صرف جہانگیر ترین کی دو شوگرملز کے علاوہ سرکاری نرخوں پہ کماد کی خریداری نہیں کی جا رہی ،سندھ اور پنجاب میں اب بھی سرکاری نرخوں پہ عملدرآمد کے لئے کاشتکاروں کے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شوگر ملز کی طرف سے 180 روپے فی من کے حساب سے خریداری سے نقصان کا واویلا دھوکہ ہے ،شوگر ملوں کے مالکان کہتے ہیں کہ یہاں گنے کی اوسط ریکوری آٹھ فی صد ہے، لیکن 2014ء میں کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان مشتاق جدون نے فیصل آباد کے کین ریسرچ سنٹر سے کماد کی دو ورایٹیز کی ریکوری رپوٹ لی تو ریکوری 12 فیصد سے زیادہ تھی،بارہ فیصد ریکوری کا مطلب یہ ہوا کہ سو کلو کماد سے بارہ کلو چینی پیدا ہو گی،180 روپے فی من کے حساب سے کماد کے سوکلو کی قیمت 450 روپے بنتی ہے، جبکہ فیکٹری ریٹ 45 روپے فی کلو کے حساب سے 12 کلو چینی کی قیمت 540 روپے بنے گی اس طرح مل کو سو کلو کماد کی کرشنگ سے 90 روپے کی بچت ہو گی، یعنی 36 روپے فی من منافع ملے گا،یہاں کی چار شوگرملیں ہر سیزن میں 10 کروڑ من کماد کرش کر کے مجموعی طور پہ 3 ارب60 کروڑ کما لیتی ہیں،اسکے علاوہ شوگر ملیں سپرٹ ،اتھنول اور بجلی جیسے بائے پراڈکٹس کے علاوہ بگاس،شیرہ اور راکھ تک فروخت کر کے کروڑوں روپے اضافی کما لیتی ہیں، لیکن پھر بھی کاشتکار کو سرکاری نرخ دینے سے گریز کر کے ایگرو انڈسٹریز کے دو طرفہ نظام کو تباہ کرنے پہ تل ہوئی ہیں،امر واقعہ یہ ہے کہ ملک کے طاقتور شوگر مل مالکان نے حکومتی اداروں کے تعاون سے غریب کسانوں کو لوٹنے کا ایک منفی میکانزم بنا رکھاہے، جہانگیرترین کی دو شوگر ملوں کے سوا ، شوگر مافیا نے پنجاب میں بھی سرکاری نرخ 180 روپے فی من کی بجائے 140 روپے من کے حساب سے گنا کی خریداری شروع کر کے کسانوں کی سال بھر کی محنت کو مٹی میں ملا دیا،سندھ، پنجاب اور خیبر پختون خوا میں شوگر مافیا نے ایک ماہ کی تاخیر کے بعد بھی پوری قوت سے کرشنگ سیزن شروع نہیں ہونے دیا جس کے باعث ایک طرف چھوٹے کاشتکار اپنی کماد کی فصل مڈل مین پر اونے پونے بیچنے پہ مجبور ہوئے دوسرے کھیتوں میں کھڑی کماد خشک ہو کے وزن کم کرنے لگی،ماہرین کہتے ہیں کہ اس سال تاخیر سے کرشنگ سیزن شروع ہونے سے گندم کی بوائی بھی کم ہوجائے گی، حالانکہ وفاقی حکومت نے شوگر ملوں کو 12 ارب کی سبسیڈی کے بدلے کماد کی سرکاری قیمت 180 روپے فی من مقرر کی، لیکن شوگر ملّیں مجبور کسانوں سے کھلے عام 140 روپے فی من کے حساب سے خریداری کر کے سرکاری احکامات کی نفی کر رہی ہیں۔

کم قیمتوں پہ خریداری کے باوجود ڈیرہ اسماعیل خان جیسے علاقوں میں چھوٹے کسانوں کو اینڈنٹ فروخت کئے جا رہے ہیں، قانون کے مطابق شوگر مل مالکان کسانوں کو مل تک گنا پہنچانے کے عوض 15 روپے فی من کرایہ ادا کرنے کے پابند تھے، لیکن اب پنجاب کی تمام شوگر ملیں کرایہ کی ادائیگی سے انکاری ہیں،جس سے کسانوں کو اوسطاً ایک سو پچیس روپے من کماد فروخت کرنا پڑتا ہے،جو ملک کو اناج فراہم کرنے والے کسانوں کے معاشی قتل کے مترادف ہے،بظاہر یہی لگتا ہے کہ شوگر مل مالکان ملک کا ایسا طاقتور طبقہ ہے، جس کے سامنے حکومتیں بے بس ہیں، کیونکہ حکمراں جماعتوں کے قائدین شریف اور زرداری خاندان سمیت اکثر سیاستدان اور بیوروکریٹ شوگر ملوں کے مالک ہیں، اگر حالات اسی طرح بر قرار رہے تو کسان کماد کی فصل کو کھیتوں میں آگ لگا کے گنے کی کاشت بند کر دیں گے۔

مزید : رائے /کالم