نواز شریف کے بکھرے رتن

نواز شریف کے بکھرے رتن
 نواز شریف کے بکھرے رتن

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

حالیہ دنوں میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے نوازے گئے،میرٹ کے بغیر ہونے والے تین ’’خوش قسمت‘‘ عہدوں سے فارغ ہوئے ہیں۔ عطاء الحق قاسمی کی چونکہ چھٹی حس بہت تیز ہے، اس لئے انہوں نے کوئی عدالتی حکم آنے سے پہلے ہی پی ٹی وی کی چیئرمین شپ سے استعفا دے دیا۔

ابصار عالم چیئرمین پیمرا تھے، 33لاکھ روپے ماہانہ خرچے پر عیش کررہے تھے کہ لاہور ہائی کورٹ نے انہیں برطرف کردیا۔ آج کل کانسٹیبل کی بھرتی کے لئے بی اے کی شرط ہے، جس کی تنخواہ چند ہزار ہوتی ہے، مگر اسی بی اے کی ڈگری پر ابصار عالم 33 لاکھ ماہانہ کا مراعات یافتہ پیکیج لیتے رہے۔

نواز شریف کی شاہانہ شاہ خرچیاں کس کس کو نوازتی رہیں۔

اُدھر چیئرمین پی ٹی اے بھی اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر نوکری سے فارغ کردیئے گئے۔ وفاق کی ڈھٹائی ملاحظہ فرمائیں کہ ابصار عالم کی برطرفی کے خلاف یہ کہہ کر درخواست دائر کردی کہ فوری طور پر نئے چیئرمین پیمرا کا تقرر ممکن نہیں۔ اس لئے ابصار عالم کو کام جاری رکھنے کی اجازت دی جائے، جسے ہائی کورٹ کے فاضل جج نے فوری مسترد کردیا۔

عطاء الحق قاسمی خیر سے لاہور واپس آگئے ہیں اور اخبارات کے ایڈیٹرز سے رابطے بھی بڑھارہے ہیں، کل ہی وہ خبریں کے چیف ایڈیٹر ضیا شاہد کے پاس بھی گئے اور اپنی کتابیں پیش کیں۔

میرا نہیں خیال کہ انہوں نے چیئرمین پی ٹی وی ہوتے ہوئے ایسی ملاقاتیں کی ہوں۔ کچھ اخبارات میں اُن کے خلاف چیختی چنگھاڑتی سرخیوں کے ساتھ خبریں بھی لگی ہیں، جن میں پی ٹی وی کے مالی معاملات کے ساتھ ساتھ اخلاقی بگاڑ کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ یہ معمول کی بات ہے، کیونکہ جو سرکار کے فیوض و برکات سے فیض یاب ہوتا ہے، اُسے اِن مراحل سے بھی لازماً گزرنا پڑتا ہے۔

میں تو صرف یہ سوچ رہا ہوں کہ نواز شریف کو آخر یہ عادت کیوں پڑ گئی ہے کہ وہ جب بھی اقتدار میں آتے ہیں، اپنے نورتن ضرور ساتھ لاتے ہیں۔ مجھے تو نہیں یاد پڑتا کہ کسی حکمران نے اس طرح دوست نوازی یا دوست پروری کی ہو اور اُسے کوئی فائدہ بھی پہنچا ہو۔

بے نظیر بھٹو نے اپنے دور میں جو لوگ میرٹ سے ہٹ کر لگائے تھے، وہ اُن کے لئے طعنہ بنے رہے، پیپلز پارٹی نے سید یوسف رضا گیلانی کے عہدِ اقتدار میں چُن چُن کر جو تعیناتیاں کیں، وہ سپریم کورٹ سے کالعدم بھی ہوئیں اور مقدمات بھی بنے، کچھ تو سید یوسف رضا گیلانی ابھی تک بھگت رہے ہیں۔ اسی رویے کی وجہ سے حج سکینڈل بھی بنا جو حکومت کی ساکھ کو بری طرح تباہ کرگیا۔

سیانے کہتے ہیں، جب آپ کسی کو اُس کی بساط سے بڑھ کر عہدہ دیتے ہیں، تو بے شک وہ آپ کا ذاتی غلام بن جاتا ہے، مگر آپ کی نیک نامی یا اپنے ادارے کی ساکھ میں کوئی اضافہ نہیں کرسکتا۔ اب مثلاً عطاء الحق قاسمی کی مثال لیجئے۔

ایک بڑے کالم نگار اور ادیب کی حیثیت سے اُن کا ایک مستند حوالہ ہے۔ اول تو انہیں خود نہیں چاہئے تھا کہ 72سال کی عمر میں پی ٹی وی کے چیئرمین کا عہدہ قبول کرتے۔

ساری عمر کی ریاضت کو ایک عہدے کے لئے قربان کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟ تاہم خود نواز شریف بھی اُن کے ساتھ یہ ’’زیادتی‘‘ نہ کرتے تو اچھا ہوتا۔ وہ اُن کے دوست اور پرانے خیرخواہ ہیں، انہیں نواز نے کے اور بہت سے راستے تھے، لیکن انہیں چیئرمین پی ٹی وی بناکر گویا انہوں نے عطاء الحق قاسمی کی غیر جانبداری بھی ختم کردی۔ اپنی پوسٹنگ کا حق ادا کرنے کے لئے عطاء الحق قاسمی نے اُس کے بعد جتنے بھی کالم لکھے، اُن سب میں نواز شریف کی شان میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے اور عمران خان کے خلاف لکھا حتیٰ کہ کالم میں غیر مہذب زبان تک استعمال کی۔ مجھے یقین ہے کہ اگر وہ چیئرمین پی ٹی وی کے منصب پر فائز نہ ہوتے تو اپنے کالم کو اتنا یک طرفہ اور آلودہ بھی نہ کرتے۔

اب ظاہر ہے، جب عطاء الحق قاسمی نے پارٹی ورکر کا روپ دھار لیا تو نواز شریف کے لئے اُن کی بات میں کیا وزن رہ گیا۔ قارئین اتنے تو احمق نہیں کہ ایک نوازے گئے شخص کی باتوں کے پس پردہ مفاد کو نہ دیکھ سکیں۔

مجھے یقین ہے عطاء الحق قاسمی نے چیئرمین پی ٹی وی نہ بنائے جانے پر بھی نواز شریف کی حمایت ہی میں لکھنا تھا، البتہ کبھی کبھی متوجہ کرنے کے لئے کوئی شکوہ بھی زبان پر لے آتے۔ جیسا کہ چیئرمین پی ٹی وی بننے سے پہلے کبھی کبھی اُن کے کالموں میں نظر آتا رہا۔

بھٹو دور میں عطاء الحق قاسمی کا لکھا ہوا وہ کالم یاد ہے ’’ تیری دو ٹکیہ کی نوکری‘‘ کے عنوان سے یہ کالم نوائے وقت میں چھپا تھا، وہاں سچ کے لئے عطاء الحق قاسمی نے نوکری کو جوتے کی نوک پر رکھا تھا، مگر یہاں سچ کو خیر باد کہنے کے لئے پُر کشش نوکری کو ماتھے پر رقم کیا اور تاریخ کا یہ سبق بھول گئے کہ شاہوں کی عطا سے ملنے والے مناصب مردانِ حر کے لئے کلنک کا ٹیکہ بن جاتے ہیں۔

نواز شریف کو عطاء الحق قاسمی کی طرح ابصار عالم میں بھی کوئی ایسی خوبی نظر آگئی ہوگی، جس سے متاثر ہوکر انہوں نے ابصارِ عالم کو بھی نواز دیا۔ کیا بہتر نہ ہوتا کہ اپنے اس مداح کو وہ ٹی وی پروگرام ہی کرنے دیتے اور وہ ایسے عالم میں کہ جب نواز شریف کے خلاف مختلف چینلز پر ایک محاذ کھلا ہوا تھا، ایک مدلل اور اچھا پروگرام کرکے اُن کا دفاع کرتے۔ چیئرمین پیمرا لگا کر انہوں نے ایسے صحافیوں کو بھی اپنے خلاف کرلیا جو ابصار عالم کو پسند نہیں کرتے تھے۔

آپ ذرا پچھلے ڈیڑھ دو برسوں کے پروگرام دیکھیں، اُن میں پیمرا کے کردار کی وجہ سے حکومت پر خواہ مخواہ تنقید کے نشتر برستے نظر آئیں گے۔ ابصار عالم کو میرٹ سے ہٹ کر تعینات کرکے نواز شریف کو اپنے دورِ حکومت اور بعدازاں کیا فائدہ حاصل ہوا؟ فیض آباد دھرنے کے دنوں میں ٹی وی چینلوں پر دو روز پابندی لگا کر ایک ایسی تاریخ رقم کردی گئی،جس کا داغ اب مشکل ہی سے دھلے گا۔

یہ بہت آزمودہ بات ہے کہ جو لوگ بادشاہ کی طرف سے نوازے جائیں، وہ شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری میں آگے چلے جاتے ہیں، اس کا بادشاہ کو نقصان تو ہوتا ہے، فائدہ بالکل نہیں ہوتا۔ ابصار عالم نے اپنے دور میں ذاتی لڑائیاں بھی لڑیں اور ان لڑائیوں کا نزلہ اُن پر کم اور حکومت پر زیادہ گرا۔

پیمرا کا کام چینلوں کو ضابطۂ اخلاق کے دائرے میں رکھنا ہے، لیکن جب ضابطۂ اخلاق میں بھی پسند نا پسند کا خیال رکھا جائے گا ،پھر آوازیں تو اُٹھیں گی۔

ابصار عالم ایک طرف حکومت اور نواز شریف کے خلاف پروگراموں پر گرفت کرتے رہے اور دوسری طرف انہوں نے عدلیہ کے خلاف وزیروں کی پریس کانفرنسیں ٹیلی کاسٹ ہونے دیں۔

گویا پیمرا موجودہ حالات میں ایک پارٹی بن گیا۔ نواز شریف اب شاید ہی خود اقتدار میں آسکیں، لیکن انہیں اپنے طرزِ حکمرانی کا بنظر غائر جائزہ ضرور لینا چاہیے۔

میرا اپنا تجزیہ یہ ہے کہ نواز شریف کو آج جن مشکلات نے گھیر رکھا ہے، اُن میں زیادہ تر دخل اُن کے اِردگرد رہنے والے عمالِ حکومت کا ہے۔ یہ لوگ نواز شریف کو سیدھے مشورے دیتے اور اُن کی ہر بات پر واہ واہ نہ کرتے تو میاں صاحب پارلیمنٹ کو بھی اہمیت دیتے اور سیاسی تنہائی کا شکار بھی نہ ہوتے۔

جمہوریت میں وفاداروں کی فوج بھرتی کرنے سے کام نہیں چلتا۔ یہ آمروں اور بادشاہوں کا وتیرا ہے، جمہوریت کی کامیابی تو میرٹ میں کارفرما ہوتی ہے۔ اہل اور میرٹ پر تعینات ہونے والے افراد حکمرانوں کی نیک نامی میں اضافہ کرتے ہیں۔

بادی النظر میں نواز شریف کی یہ اچھی عادت ہے کہ وہ اپنے دوستوں اور خیر خواہوں کو بھولتے نہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ملتان میں ایک ٹرانسپورٹر شیخ ظہور ہوا کرتے تھے۔ وہ خود کو نواز شریف کا ادنیٰ کارکن کہتے اور اخبارات کے فرنٹ پیج پر اُن کے حق میں اشتہارات چھپواتے۔

مجھے یہ بھی یاد ہے کہ ایک بار نواز شریف ملتان پریس کلب آئے تو انہوں نے وہاں موجود کمشنر اور ڈی آئی جی سے شیخ ظہور کا ہاتھ پکڑ کر تعارف کرایا اور کہا اس کا خاص خیال رکھا جائے۔ جس دن پرویز مشرف نے نواز شریف کا تختہ اُلٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تو اگلے دن شیخ ظہور کا اشتہار فوج کے حق میں اور نواز شریف کے خلاف شائع ہوا۔ بعد میں وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے یہ کام ایجنسیوں نے زبردستی کرایا۔ عرصہ پہلے وہ وفات پاچکے ہیں، تاہم نواز شریف شاید آج بھی انہیں اچھے لفظوں میں یاد کرتے ہوں۔ نواز شریف کی یہ شخصی خوبی اپنی جگہ، مگر ریاستی اداروں میں اپنے چہیتوں کو بٹھا کر انہوں نے اپنی طرزِ حکمرانی کے بارے میں جو منفی ردِ عمل پیدا کیا، اس کی قیمت بہت زیادہ ہے، وہ اس سے اگر خود کو بچالیتے تو اُن تیروں سے بھی بچ جاتے جو اُن کے حصے میں دوسروں کی وجہ سے آئے۔ قومی خزانے سے اتنے بڑے بڑے پیکیج دے کر نوازنے کا انداز اچھا تاثر کیسے چھوڑ سکتا ہے اور مستزاد اُن لوگوں کی ڈھٹائی جو ہمیشہ انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں، لیکن دولت کو آتا دیکھ کر اپنے ضمیر کو میٹھی نیند سلادیتے ہیں!

مزید : رائے /کالم