پر مٹ کے نام پر کسانوں، کاشتکاروں کا معاشی قتل جاری

پر مٹ کے نام پر کسانوں، کاشتکاروں کا معاشی قتل جاری

لاہور (رپورٹ :اسد اقبال)حکومت کی طرف سے کاشتکاروں کو دیے جانے والے ریلیف اور گنا کی مقررہ امدادی قیمت کے سلسلہ میں شو گر ملز مالکان نے اپنا ہی فارمولہ متعارف کرواد یا ہے اور پر مٹ کے نام پر کاشتکاروں کے معاشی قتل کی بنیاد رکھ دی ہے حکومت کی جانب سے گنا کی فی من امدادی قیمت 180روپے مختص ہونے کے باوجو د پنجاب میں شو گر ملیں روٹین پر مٹ کے نام پر 160روپے ، ڈیلی پر مٹ کے نام پر 145روپے اور سپیشل پر مٹ کے نام سے شو گر ملیں کسانوں سے 130روپے فی من گنا خرید رہی ہیں ستم بالا ستم یہ کہ مڈل مافیا نے چھوٹے کاشتکاروں کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 110روپے فی من گنا خرید کر معاشی استحصال کر رہے ہیں ۔جس پر پنجاب بھر کے گنا کے کاشتکاروں اور کسان تنظیموں نے صدائے احتجاج بلند کر نا شروع کر دیا ہے ۔دوسری جانب جنوبی پنجاب کی تین شوگر ملیں عدالتی حکم پر تاحال بند ہو نے سے ڈیڑھ لاکھ ایکڑ پرکاشت کر دہ گنا خراب یعنی سو کھنے کا اندیشہ لاحق ہو گیا ہے جس سے کاشتکاروں کو کروڑوں روپے مالی نقصان کا سامنا کر نا پڑے گا ۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب بھر میں واقع 40کے قریب شو گر ملو ں میں رواں سال کرشنگ سیزن شروع ہو گیا ہے ۔پنجاب میں کل 21لاکھ ایکڑ رقبہ پر گنا کاشت ہے جس میں سے 12لاکھ سے زائد گنا جنوبی پنجاب میں کاشت کیا گیا ہے ۔ کرشنگ سیزن میں تاخیر کے باعث گنے کے کاشتکاروں کو جہاں شدید مشکلات کا سامنا رہا وہیں خریداری کا سلسلہ توشروع ہو گیا ہے تاہم گنے کے کاشتکاروں کوگنا کی امدادی قیمت پر فروخت کسانوں کے لیے خواب بن کر رہ گئی اور پنجاب کے کاشتکار شو گر ملز مالکان کو اونے پونے داموں گنا فروخت کر نے پر مجبور ہیں ۔پاکستان سے گفتگو کر تے ہوئے سمال فارمرز کے صدر راؤ افسر نے کہا کہ شو گر ملز مالکان گنا کے کاشتکاروں کو امدادی قیمت پر گنا کی خرید کی بجائے مختلف طریقوں سے اونے پو نے داموں خرید کر کسانو ں کا مالی نقصان کر رہے ہیں جبکہ سیکرٹری زراعت اور محکمہ کے اعلی افسران اپنے دفاتر تک محدو د شو گر ملز مالکان کو کھلی چھٹی دیے ہوئے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...