ارکان پارلیمنٹ کے کاغذات نامزدگی ، دہری شہریت اور اثاثے ظاہر کرنے کا خانہ نکالنے کا اقدام چیلنج

ارکان پارلیمنٹ کے کاغذات نامزدگی ، دہری شہریت اور اثاثے ظاہر کرنے کا خانہ ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )الیکشن ایکٹ مجریہ 2107ء کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے کاغذات نامزدگی سے دہری شہریت اور اثاثوں کو ظاہر کرنے کا خانہ نکالنے کااقدام لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے ،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے اس سلسلے میں دائر سینئراینکر پرسن حبیب اکرم کی درخواست پروفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیاہے،فاضل جج نے اٹارنی جنرل کو بھی 15 جنوری کو عدالتی معاونت کے لئے طلب کر لیاہے۔درخواست گزار نے کاغذات نامزدگی کے فارم اے اور بی میں تبدیلی کو بیرسٹر سعد رسول کی وساطت سے چیلنج کیاہے ۔درخواست میں وفاقی حکومت، وزات قانون و انصاف اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے الیکشن ایکٹ 2017ء انتہائی عجلت میں پارلیمنٹ سے منظور کروایا ہے، پارلیمنٹ میں اس قانون کی منظوری سے پہلے بحث بھی نہیں کروائی گئی، حکومت اور وزار ت قانون نے بدنیتی کی بنیاد پر کاغذات نامزدگی کے فارم اے سے متعدد بیان حلفی ختم کر دیئے ہیں ۔اراکین پارلیمنٹ کے کاغذات نامزدگی میں تمام زیر کفالت افراد، اکاؤنٹس کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کا بیان حلفی بھی ختم کر دیا گیا ہے۔اراکین پارلیمنٹ کے کاغذات نامزدگی کے فارم اے سے قرض کے حصول کے متعلق بیان حلفی ختم کرنے کے علاوہ کاغذات نامزدگی کے فارم اے میں شامل مقدمات میں ملوث نہ ہونے کا بیان حلفی بھی ختم کردیا گیا ہے،کاغذات نامزدگی کے فارم بی سے امیدواروں کا سالانہ آمدنی اور اثاثوں کی مالیت کا خانہ ختم کر دیا گیا ہے، درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ کاغذات نامزدگی کے فارم بی میں دہری شہریت کا بیان حلفی اور پاسپورٹ نمبر فراہم کرنے کی شرط بھی ختم کردی گئی ہے ۔الیکشن ایکٹ 2017ء کے تحت فارم اے اور بھی میں ترمیم کر کے اراکین کو تحفظ دیا جا رہا ہے، دہری شہریت، اثاثوں کی مالیت اور یر کفالت افراد کی تفصیلات فراہمی کے خانے ختم کرنے سے کوئی رکن پارلیمنٹ نااہل نہیں ہو سکے گا۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ کاغذات نامزدگی فارم اے اور بی میں ترمیم آئین کے آرٹیکلز2(اے) 4، 5، 8، 9، 17، 19 اے، 37، 62، 63، 113 اور 218 تا 220 کے علاوہ عدالتی فیصلوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔کاغذات نامزدگی میں یہ ترامیم بنیادی انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات کے بھی منافی ہیں ۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ کاغذات نامزدگی کے فارم اے اور بی میں ترمیم کا اختیار صرف الیکشن کمیشن کو حاصل ہے،الیکشن کمشن کے آئینی اختیارات کو قانون سازی کے ذریعے محدود نہیں کیا جاسکتا ۔کاغذات نامزدگی میں تبدیلی سے آئین کے آرٹیکلز 62اور63کی کئی ذیلی دفعات غیر موثر ہوگئی ہیں۔ درخواست میں کاغذات نامزدگی میں مذکورہ ترامیم کو کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی ہے ۔درخواست میں یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ کیس کے حتمی فیصلے تک وفاقی حکومت، وزارت قانون اور الیکشن کمیشن کو نئے ترمیم شدہ کاغذات نامزدگی کے فارمز پر عمل درآمد سے روکا جائے۔

اقدام چیلنج

مزید : علاقائی