معاہدہ ختم ہونے پرکرایہ دار کازبردستی قبضہ غیر قانونی ہے:سپریم کورٹ

معاہدہ ختم ہونے پرکرایہ دار کازبردستی قبضہ غیر قانونی ہے:سپریم کورٹ

اسلام آباد(صباح نیوز)سپریم کورٹ نے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں مالکان اور کرایہ داروں کے درمیان تنازعات کے بارے مختلف اپیلوں کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے مالک اور کرایہ دار کے درمیان معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعدکرایہ دار کا زبردستی قبضہ جاری رکھنا غیر قانونی ہے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل تین رکنی بینچ نے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کرایہ داری معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد اس میں مالک کی مرضی سے توسیع کی جاسکتی ہے اگر مالک معاہدے میں توسیع نہ کرے تو کرایہ دار کا قبضہ جاری رکھنا غیر قانونی ہوگا اور اسلام آباد رینٹ رسٹرکشن آرڈننس مجریہ 2001کی سیکشن 17کے تحت کرایہ دار کو بے دخل کیا جاسکتا ہے۔عدالت عظمی نے اپنے 14صفحات پر مبنی فیصلہ جو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے تحریر کیا ہے میں قرار دیا ہے کہ مالک اور کرایہ دار کے درمیان کرایہ داری معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد کرایہ دار کی بے دخلی کیلئے معاہدے کا زائد المیعاد ہونا ہی کافی ہے اور اس کیلئے باقی شرائط کی ضرورت نہیں جیسا کہ اگر کرایہ دار کرایہ ادا نہ کرے،مالک کو خود جائیداد کی ضرروت پڑ گئی ہو،از سر نوتعمیر مقصود ہو یا کرایہ دار نے پراپرٹی کو نقصان پہنچایا ہو،واگزاری کیلئے کرایہ دار قانونی کرایہ داری آرڈننس مجریہ 2001کے تحت مجاز فورم سے رجوع کرسکتا ہے۔ عدالت عظمی نے امسال بیس ستمبر کو وفاقی دارلحکومت کے اند ر مالکان اور کرایہ داروں کے درمیان تنا زعات کی مختلف اپیلوں میں سماعت مکمل کرکے مالکان کے حق میں مختصر فیصلہ صادر کیا تھا۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...