گستاخانہ مواد اشاعت کیس ، 5ملزم بلا گرز کیخلاف ثبوت نہیں ملے : ایف آئی اے کا اعتراف

گستاخانہ مواد اشاعت کیس ، 5ملزم بلا گرز کیخلاف ثبوت نہیں ملے : ایف آئی اے کا ...

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ جن پا نچ افراد پر انٹرنیٹ پر گستاخانہ مواد شائع کرنے کا الزام لگایا گیا، ان کیخلاف ثبوت نہیں ملے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے انٹرنیٹ پر گستاخانہ مواد کیخلاف فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران ایف آئی اے نے اعتراف کیا کہ گستاخانہ مواد کی اشاعت کرنے سے متعلق جن 5 افراد پر الزام لگایا گیا، ان کیخلاف ثبوت نہیں ملے۔ایف آئی اے کے اعتراف پر جسٹس شوکت صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ جن کیخلاف شواہد نہیں، ان کیخلاف کارروائی نہیں ہونی چاہیے، توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والا دوہرے جرم کا مرتکب ہوتا ہے، عدالت فیصلہ کرے گی کہ الزام لگانے والا جھوٹا ہے یا شواہد ناکافی ہیں۔اس موقع پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے صحافیوں سے سوال کیا کہ بتائیں جھوٹی خبر دینے کی کیا سزا ہے؟ ایف آئی حکام نے عدالت عالیہ کو بتایا چار گرفتار ملزموں سے تفتیش مکمل کرکے ٹرائل کورٹ میں چا لان پیش کردیا جبکہ بیرون ملک فرار 4 ملزموں کو واپس لانے کیلئے بھی انٹرپول سے رابطہ کرلیا گیا ہے۔دوسری جانب ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے شکوہ کیا کہ ان کے پاس صرف 15 تفتیشی افسر ہیں، جبکہ سائبر کرائم کی 12 ہزار شکایات موصول ہوئی ہیں، تاہم سہولیات کے فقدان کے باوجود کام جاری ہے۔بعدازاں عدالت نے فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق قانون سازی اور کارروائی کی تفصیلات طلب کر لیں۔یاد رہے رواں برس پانچ بلاگرز پر سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد شائع کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

ایف آئی اے

مزید : علاقائی