12سال سے کم عمر بچوں کے نویں جماعت میں داخلوں پر پابندی کا ضابطہ بحال

12سال سے کم عمر بچوں کے نویں جماعت میں داخلوں پر پابندی کا ضابطہ بحال

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار اور مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بنچ نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے 12 سال سے کم عمر بچوں کے نویں جماعت میں داخلوں پرپابندی کا ضابطہ بحال کردیا ہے تاہم فاضل بنچ نے قرار دیا کہ اس فیصلے کا اثر ان طلبا پر نہیں ہوگا جو ہائی کورٹ کے حکم پر پہلے ہی نویں جماعت میں داخل ہوچکے ہیں ۔ عدالت نے دوران سماعت قرار دیا کہ بچوں کے داخلوں کی عمر مقررکرنے کے قانون کے خلاف معاملہ عدالت کے سامنے آیا تو اس کا آئین کی روشنی میں جائزہ لیا جائے گا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے مزید ریمارکس دیئے کہ پنجاب کے تعلیمی بورڈز نے اجارہ داری بنا رکھی ہے ،تمام پرائیویٹ تعلیمی ادارے بورڈز سے الحاق شدہ ہیں ، جب بچے پرائیویٹ تعلیمی ادا روں میں داخلے لیتے ہیں تو آپ ان کو کم عمر ہونے کی وجہ سے داخلے نہیں دیتے، چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے اگر کوئی بچہ دن میں کام کرتا اور رات کو پرائیویٹ پڑھتا ہے تو آپ اسکو عمر زیادہ ہونے کی بنا پر بھی داخلہ نہیں دیتے، تعلیمی بورڈز پابندی عائد کر کے تعلیم کے دروازے بند کر دیتے ہیں،فاضل بنچ نے پنجاب کے تعلیمی بورڈ ز کی اپیل پر سماعت شروع کی تو تعلیمی بورڈ کے وکیل نے ہائیکورٹ کے حکم کے بعد کم عمر میں نویں جماعت میں داخلہ لینے والے 42طلباء کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کا کم عمر بچوں کو نویں جماعت میں داخلہ دینے کا فیصلہ جاری کر رکھا ہے جبکہ پنجاب بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن ایکٹ مجریہ 1976ء کے تحت تعلیمی بورڈ کو طلباء کی عمر حد مقرر کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے، درخواست گزار کے وکیل نے دو رکنی بنچ کو آگاہ کیا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد نویں جماعت کے لئے کم از کم عمر کی حد بھی بڑھادی ہے، چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ آئین کے تحت فری کتابوں اور تعلیم کا حصول ہر شہری کا حق ہے ، کیا پنجاب کے سکولوں میں بچوں کو فری تعلیم اور کتابیں فراہم کی جا رہی ہیں، تعلیمی بورڈ کے وکیل نے کہا کہ جی ایسا ہورہا ہے ،وکیل نے مزید کہا کہ کم عمر بچوں کو نویں جماعت داخلہ دینے کا فیصلہ قانون کے مطابق کیا گیا ہے، چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ تعلیمی بورڈ کیسے بچوں کی تعلیم حاصل کرنے کی عمر کا تعین کر سکتا ہے؟ اگر کوئی بچہ لائق ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس پر قدغن لگا دیں، تعلیمی بورڈ نے کم عمر بچوں کو نویں جماعت میں داخلہ نہ دینے کی بلاوجہ پابندی لگائی ہے، عدالت کے سامنے یہ قانون چیلنج کیا گیا تو ہم کم عمر بچوں کی نویں جماعت میں تعلیم پر پابندی کو کالعدم قرار دے دیں گے۔عدالت نے اپنے حکم میں تعلیمی بورڈز کو تنبیہ بھی کی ہے کہ ہائیکورٹ کے حکم سے استفادہ کرنے والے طلباء کے رزلٹ کارڈ اور سرٹیفیکیٹس روکنے پر سخت کارروائی بھی کی جائے گی ۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...