امریکہ ، میانمر کے فوجی سربراہ ، پاکستانی سرجن سمیت 52افراد پر تعزیرات عائد

امریکہ ، میانمر کے فوجی سربراہ ، پاکستانی سرجن سمیت 52افراد پر تعزیرات عائد

واشنگٹن (آئی این پی)امریکہ نے میانمر کے جنرل اور ایک پاکستانی سرجن سمیت 52افراد پر تعزیرات عائد کردیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکہ نے میانمار فوج کے سربراہ پر تعزیرات عائد کی ہیں جن پر روہنگیا مسلمانوں کیخلاف نسل کشی کی مہم کی قیادت کا الزام ہے۔میانمار کے جنرل مونگ مونگ سوئی دنیا بھر میں انسانی حقوق کی انحرافی کرنیوالے 52افراد میں شامل ہیں۔جن پر امریکی محکمہ خزانہ نے تعزیرات عائد کی ہیں۔اِن میں گیمبیا کے سابق صدر، یحی جمیع شامل ہیں، جن کے بارے میں امریکہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے قتل کرانے کے لیے ایک دستہ تیار کیا جنہیں ہدایات دی گئیں کہ ان افراد کو راستے سے ہٹایا جائے جو ان کی نظروں میں ان کی قیادت کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔ایک پاکستانی سرجن مختار حامد شاہ کے خلاف بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ مالیات نے بتایا ہے کہ سرکاری پولیس کا خیال ہے کہ مختار حامد شاہ انسانی اعضا کی چوری اور سمگلنگ میں ملوث رہا ہے۔گلنارہ کریموف، ازبکستان کے سابق مطلق العنان کی بیٹی ہیں، جن پر بھی تعزیرات لگائی گئی ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ ایک منظم تنظیم سے مل کر جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث رہی ہیں، جن کے اثاثوں کی مالیت 1.3 ارب ڈالر ہے۔یہ تعزیرات عالمی میگنسکی ہیومن رائٹس اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ کے تحت لاگو کی گئی ہیں، جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بدعنوانی کے ضمن میں امریکی حکومت کو غیر ملکی افراد پر تعزیرات لاگو کرنے کا اختیار دیتا ہے، جس سے امریکہ کو اجازت ملتی ہے کہ وہ غیر ملکی افراد کا احتساب کرے۔

امریکی محکمہ مالیات

مزید : علاقائی