انتخابی اصلاحات ایکٹ کی آئینی حیثیت سپریم کورٹ میں چیلنج

انتخابی اصلاحات ایکٹ کی آئینی حیثیت سپریم کورٹ میں چیلنج

اسلام آباد(این این آئی) سپریم کورٹ میں انتخابی اصلاحات ایکٹ کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے ایکٹ کی 13 دفعات کو غیرآئینی قرار دینے کی استدعا کردی گئی۔اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی اور عدالت عظمیٰ سے انتخابی اصلاحات ایکٹ کی 13 دفعات کو غیرآئینی قرار دینے کی استدعا کی۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ایکٹ کے ذریعے سیاستدانوں نے الیکشن کمیشن کی خود مختاری مکمل ختم کر دی اور ایکٹ کے بعد الیکشن کمیشن کی حیثیت آقا اور غلام کی ہو چکی ہے۔انہوں نے موقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن اب اپنی مرضی سے ایک معمولی نوٹیفکیشن بھی جاری نہیں کر سکتا اور الیکشن کمیشن کو آئین سے نکال کر وزارتوں اور محکموں کے ماتحت کردیا گیا ہے۔درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ کرپشن کی سزا پر نااہلی کی مدت 5 برس کرنا بھی آئینی خلاف ورزی ہے جبکہ نااہل شخص کو سیاسی جماعت کا سربراہ بنانا آئینی روح کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم اسلامی عقائد کی خلاف ورزی ہے جبکہ سیاستدانوں نے مفادات کیلئے بار بار ترمیم کر کے آئین کا چہرہ مسخ کر دیا ہے۔درخواست گزار نے عدالت عظمیٰ سے استدعا کی کہ انتخابی اصلاحات ایکٹ کو غیرآئینی قرار دے کر مکمل طور پر کالعدم کیا جائے ٗعدالت سے استدعا کی گئی کہ آئین پاکستان کو 18ویں ترمیم کے بعد اصل شکل میں بحال کیا جائے۔

انتخابی اصلاحات

مزید : صفحہ اول