دہشتگردی کیخلاف جنگ میں اپنے حصے کا کام کر لیا ، پاکستان برائے فروخت نہیں : پاک فوج ، اتحادی ممالک ایک دوسرے کو دھمکیاں نہیں دیتے : دفتر خارجہ

دہشتگردی کیخلاف جنگ میں اپنے حصے کا کام کر لیا ، پاکستان برائے فروخت نہیں : ...

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے ہم برائے فروخت نہیں، امریکہ سے پیسوں کی نہیں اعتماد کی ضرورت ہے ، ہم نے بہت کر لیا، امریکہ اور اس کے اتحادی اب افغانستان میں کارروائی کریں، افغانستان میں طالبان کے ٹھکانے ختم کرنا ہونگے، ایٹمی اثاثے محفوظ ہیں ،انہیں کوئی خطرہ نہیں ، امریکہ اسکا اعتراف کر چکا ہے ،کشمیر کی جدوجہد آزادی میں تیزی آئی ہے۔ افغان مہاجرین کی واپسی سے دہشتگردوں کی سہولت کاری میں کمی ، پاکستان کے حالات اچھے ہونگے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہو ئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ، پاکستان عسکری سا ز و سامان امریکہ سے خریدتا ہے۔ 9/11کے بعد پاکستان اور امریکہ کا تعاون رہا ، ہم پر افغانستان کی جنگ مسلط کی گئی۔ پاکستان ہمیشہ ا فغا نستان سے تعاون کرتا رہا ہے۔ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جو کام کیا وہ کسی نے نہیں کیا، ہم نے اپنے علاقوں سے دہشتگردوں کے ٹھکا نے ختم کر دیئے ہیں۔ پاکستان نے دہشتگردوں کیخلاف کارروائیاں کیں ۔ دہشتگردی کیخلاف پاکستان جیسی جنگ کس نے لڑی۔ پاکستان نے امریکہ سے بھرپور تعاون کیا، پاکستان نے بہت کر لیا، اب امریکہ اور اتحادیوں کی باری ہے۔ پاکستان کے بغیر امریکہ القاعدہ کیخلاف کامیابی حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ اتحادی فوج کوافغانستان سے دہشتگردوں کے ٹھکانے ختم کرنا ہوں گے۔ افغانستان میں غیر ملکی فوجوں کو مشکل کا سامنا ہوتا ہے۔ افغان فورسز صحیح کام کریں تو پاکستان سے جا کر کون وہاں دہشتگردی کر سکتا ہے۔ پاکستان سے کابل حملے میں سہولت کاری کیسے ہو سکتی ہے۔ سرحد سے ہزاروں میل دور کابل میں پاکستان سے کوئی کیسے حملہ کر سکتا ہے ۔ دہشتگردی کیخلاف ملنے و الے پیسے کولیشن سپورٹ فنڈ کے تھے ، امریکہ اور دیگر ممالک دہشتگردی کیخلاف پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کریں ۔ افغان مہاجرین کی واپسی سے پاکستان کے حالات اچھے اور دہشتگردی کی سہولت کاری ختم ہو جائے گی۔ پالیسی بنانا حکومت کا کام ہے۔ ہم صرف تکنیکی معاونت کرتے ہیں۔ 2017ء میں بھارت نے سب سے زیادہ سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی بھارت مقبوضہ کشمیر میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی جدوجہد میں تیزی آئی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا تھا اسمبلی کے ان کیمرہ اجلاس میں جو فیصلے ہوئے ان پر عمل ہو گا ۔دریں اثناء مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ کا کہنا تھا ہمیں بار،بار امداد دینے کی باتیں ہورہی ہیں ہمار ا تو دہشت گردی میں 120ارب ڈالر مالی اور 50ہزارقیمتی جانوں کانقصان ہو اہے، دہشتگردی کی جنگ کو ہم اب تک بھگت رہے ہیں، 15سال سے ا مریکہ اورافغان انتظامیہ نے ا من کیلئے کیاکیا؟ امریکہ افغانستان پرحقیقت پسندانہ طرزعمل اپنائے، افغانستان کے مسا ئل حقیقت پسندانہ طرزعمل سے ہی حل ہونگے، پاکستان نے علاقائی امن کیلئے حکومتی،سفارتی اورانٹیلی جنس میکنزم بناکردیا۔

ترجمان پاک فوج

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) امریکی نائب صدر مائیک پنس کے پاکستان سے متعلق بیان پر دفتر خارجہ نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے اتحادی ممالک ایک دوسرے کو نوٹس پر نہیں رکھا کرتے۔ نوٹس پر ان کو ہونا چاہیے جہاں منشیات کی پیداوار اور کر پشن میں اضافہ ہوا،گزشتہ روزترجمان دفتر خارجہ نے کہا نوٹس پر افغانستان کو ہونا چاہیے جو دوسروں پر الزام تراشی کرتا ہے، جن کی مختلف علا قوں میں عملداری کم ہوئی اور جہاں داعش نے اپنے قدم جمائے، افغانستان میں قیام امن اور مفاہمتی عمل کے طریقہ کار پر بھی توجہ دینی چا ہیے، ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے کہا امریکی نائب صدر کا بیان امریکہ کیساتھ ہونیوالی حالیہ بات چیت سے مختلف ہے، افغانستان کو د ا عش کی جڑیں مضبوط کرنے،دوسروں پر الزام تراشی کرنیوالوں کو نوٹس ملنا چاہیے۔ادھر ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کا اجلاس چیئرمین سینیٹرنزہت صادق کی صدارت میں ہوا ، جس میں سیکر ٹر ی خارجہ تہمینہ جنجو عہ نے کمیٹی کو بریفنگ میں آ گاہ کیا کہ امریکی نائب صدر اور پینٹا گون کے پاکستان مخالف بیانات پرتشویش ہے،پاکستان نے دہشت گردوں کی محفوظ ٹھکا نے ختم کردیئے، امریکی سکیورٹی پا لیسی پر پا کستا ن نے واضح جواب دیا ہے، پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف بلا تفریق کاروائی کی ہے، پاکستان امریکی ہرزہ سرائی کو یکسر مسترد کر تا ہے ، پاکستان مسلسل دشمن ممالک کی ریاستی دہشتگردی کا نشانہ ہے،پاکستان کو مسلسل بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، پاکستان بھارت سے تما م مسائل پر مذاکرات چاہتا ہے،بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی برپا کر رکھی ہے، امریکی صدر کے یکطرفہ کاروائی کے بیان پر امریکہ کیساتھ بات چیت میں مصروف ہیں،امریکہ کو ہمارے خدشات پر بھی توجہ دینا چاہئے،امریکہ کو پاکستان اور بھارت کیساتھ ایک جیسا برتاؤ کرنا چاہئے،بھارت اور افغان انٹیلی جنس ایجنسیاں جو کر رہی ہیں اس پر شدید تشویش ہے ،پاکستان کو ہار ٹ آ ف ایشیا کا نفر نس کے اجلاس میں بڑی کامیابی ملی، بھارت میں 64 دہشتگرد تنظیمیں ہیں،محرم کے دوران 9 دہشتگرد حملوں میں سے 8 افغا نستان سے ہو ئے،افغان سرزمین پر موجود دہشتگردوں کے ٹھکانے پاکستان کیلئے مسئلہ ہیں، سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کے دورہ پاکستان کے حوالے سے بھی کمیٹی کو بریفنگ دی اوربتایا جیمز میٹس نے دورہ کے دوران وزیراعظم، وزیر دفاع، وزیر خارجہ اور دا خلہ سے ملاقاتیں کیں،خطے کی سکیورٹی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات سمیت القاعدہ ،نائن الیون اور افغانستان پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ا فغا ن سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہونے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ،جیمز میٹس نے معاملے کے حل کا یقین دلایا، پاکستان نے بھارت کے د ہشتگردی میں ملوث ہونے کے ثبوت دیے ،جبکہ پاکستان کے انتہائی ذمہ دار ملک اور اپنے نیوکلیئر اثاثوں کیلئے انتہائی فول پروف انتظا مات کے حوالے سے بھی آگا ہ کیا جسے امریکی وزیر دفاع نے تسلیم کیااور کہا دہشتگردی کیخلاف پاکستان نے مثبت اقدامات اٹھائے ہیں، سیکر ٹر ی خا رجہ نے کہاامریکی قومی سلامتی حکمت عملی پر مفصل جواب دیا ہے،انہوں نے امریکی الزامات کا جواب پڑھ کر سنایااور کہا وزارت خارجہ اپنی کامیابیوں کی تشہیر نہیں کر تا ، شاید یہی غلطی ہے،ہار ٹ آ ف ایشیا کانفرنس کے اجلاس میں پاکستان نے جو رضامندی ظاہر کی بھارت نے اسکا غلط مطلب لیا ہے ، بھارت کی 64 دہشتگرد تنظیمیں ہیں،پاکستان نے باکو اجلاس میں بھارتی دہشتگرد تنظیموں کو بھی شامل کرنے کی بات کی ، پاکستان کی تجویز پر با کو اجلاس میں بہت شور مچا،پاکستان نے مطالبہ کیا کہ پھر پہلی یکطرفہ فہرست بھی ختم کی جائے ۔ پا کستا ن کو باکو امرتسر میں ہار ٹ آ ف ایشیا کا نفرنس کے اجلاس میں کانفرنس میں بڑی کامیابی ملی، جس پرسینیٹ خارجہ امور کمیٹی نے وزارت خارجہ کو کامیابی پر خراج تحسین پیش کیا ۔ سیکر ٹری خارجہ نے کہا بھارت اور امریکہ کا معاملہ علیحدہ علیحدہ دیکھ رہے ہیں ۔ بھا رت کیساتھ مسئلہ کشمیر کا معاملہ نہیں بھول سکتے،مسئلہ کشمیر میں ر یا ستی دہشتگردی عروج پر ہے۔بھارت کہتا ہے صرف دہشتگردی پر بات کریں گے،ہم کہتے ہیں ضرور کریں سا تھ میں کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کی بات بھی ہوگی۔یاد رہے امریکی نائب صدر مائیک پنس نے اپنے تازہ ترین بیان میں کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ دینے سے پاکستان کو بہت کچھ کھونا پڑ ے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو نوٹس پر رکھا ہوا ہے۔

پاکستان

مزید : صفحہ اول