حضورؐ سے محبت کا بہترین ذریعہ ’’نعت گوئی‘‘ ہے :افتخار عارف

حضورؐ سے محبت کا بہترین ذریعہ ’’نعت گوئی‘‘ ہے :افتخار عارف

کراچی(اسٹاف رپورٹر )آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی زیر اہتمام دسویں عالمی اُردو کانفرنس کے دوسرے دن ’’حمد و نعت۔تحقیقی وفکری تناظر ‘‘ کے سیشن سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے ممتاز دانشور افتخار عارف نے اپنے خطاب میں کہاکہ اُردو زبان میں نعت کا سب سے بڑا ذخیرہ موجود ہے ۔ نعت کہنے کے حوالے سے جو بھی اپنی محبت کا اظہار کرنا چاہے اُسے نعت کہنے کا حق ہے لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ نعت کو ادب کے تناظر میں دیکھنا چاہئے اور نعت کہنے والوں کو اتنا علم ضرور ہونا چاہئے کہ اس کی نعت کے اشعار ادب کے معیار پر پورے اُتریں۔ انہوں نے کہاکہ جس عقیدے سے جس شخص کا بھی تعلق ہو ضروری نہیں کہ دوسرا بھی آپ کے عقیدے کے مطابق اپنی بات کہے، جو بھی نعت گوئی کے لئے کام کرنا چاہے اُسے اپنی بات کہنے کا پورا پورا حق ہے بس اس بات کا خیال ضرور رکھا جائے کہ نعت ادب کے تقاضوں پر پورا اُترے، انہوں نے کہاکہ نعت لکھنے والا اپنے پورے وجود کی سچائی سے نعت لکھتا ہے لہٰذا کوئی سعادت کے لئے لکھے یا ثواب کے لئے اُسے نعت لکھنی چاہئے۔قبل ازیں جہاں آراء لطفی نے کہاکہ نعت گوئی کی تاریخ بہت پرانی ہے جتنی نعتیں بھی آج تک لکھی گئی ہیں ان کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا، غیر مسلم افراد نے بھی بہت جذبے کے ساتھ نعتیں کہی ہیں، انہوں نے کہاکہ نعتیہ شاعری نے مسلمانوں اور غیرمسلمانوں میں رواداری کو فروغ دیا۔ فراست رضوی نے کہاکہ آج کے دور میں اُردو ادب کی اصناف میں نعت کو نمایاں مقام حاصل ہے معیاری نعت لکھنے کے لئے شاعر کو باعلم ہونا چاہئے، حمد ونعت لکھنا تلوار کی دھار پر چلنے کا عمل ہے ، فارسی کی نعتیہ شاعری نے نعت کے فروغ میں بڑا کردار ادا کیا ہے، نعت نگاری ایک طرزِ زندگی ہے اور زندگی کی بصیرت میں اضافے کا سبب بھی ہے۔ڈاکٹر عزیز احسن نے کہاکہ نعت کا تخلیقی سفر عربی سے فارسی اور فارسی سے اُردو میں آیا تو پہلی شعری، مثنوی کدم راؤ پدم راؤ کے مصنف فخر دین نظامی نے حمد کے بعد نعت ہی کے اشعار رقم کئے۔ نعت کی تخلیق کا سفر آگے بڑھا تو حالی، حضرت احمد رضا بریلوی، محسن کاکوروی، اقبال اور ظفر علی خاں نے مدحت نگاری کی سعادت پائی۔ حالی کی نعت بالکل سادہ الفاظ میں لکھی گئی اس عہد کی بیشتر نعتیہ شاعری بہت سادہ ہے، دریں اثناء کانفرنس کے دوسرے اجلاس میں ’’بچوں کے ادب‘‘ کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے صدر نشین رضا علی عابدی نے کہاکہ بچوں کے ادب کے لئے خصوصی طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور بچوں کے ادیبوں کی بھرپور پذیرائی بھی کی جانی چاہئے تاکہ بچوں تک اچھا ادب پہنچ سکے، ہمیں خوشی ہے کہ ’’بچوں کے ادب‘‘ کے موضوع کو عالمی اُردو کانفرنس میں رکھا گیا ہے، قبل ازیں منیر احمد راشد نے کہاکہ ہماری نصابی کتب میں ادب کا کوئی معیار نہیں ہے، ہم اپنی اسکول کی کتابوں سے بچوں کو امتحان پاس کرنے کے حوالے سے تو تعلیم دیتے ہیں لیکن اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ انہیں ادب کے قریب کیسے لایا جائے جب نصابی کتب میں ادب شامل نہ ہو تو ہم بچوں میں کیسے ادب کا ذوق پیدا کرسکتے ہیں، انہوں نے کہاکہ بچوں کی مختلف رسالوں میں بھی جو مواد شائع کیا جارہا ہے اس میں ادب سے زیادہ تبلیغ کا پہلو نمایاں ہے، بچوں کو بچہ سمجھ کر نہیں لکھنا بلکہ بچوں کو سمجھ کر ان کے لئے لکھنا چاہئے، شوق اور ذوق دونوں علیحدہ ہیں پہلے ہمیں بچوں میں شوق پیدا کرنا ہوگا تب ہی ان میں ذوق پیدا ہوگا، انہوں نے کہاکہ اگر ہم بچوں کو سمجھ کر لکھیں تو بہتر ادب تخلیق کیا جاسکتا ہے، ابنِ آس نے کہاکہ عام طور پر بچوں کے ادیبوں کو اہمیت نہیں دی جاتی ، بچوں کے لئے لکھنا مشکل کام نہیں کہ اسے بھاری پتھر سمجھ کر اور چوم کر چھوڑ دیا جائے، بچوں کے ادب میں وہ شہرت اور پیسہ بھی نہیں جو دیگر بڑے ادباء اور شعراء کے حصہ میں آتی ہے ،رومانہ حسین نے کہاکہ اُردو کی نصابی کتب عموماً بچے نہیں پڑھنا چاہتے اس کی وجہ یہ ہے کہ انگریزی کتب میں تو ہر موضوعات پر کتابیں موجود ہیں مگر اُردو زبان میں اس پر بہت کم کام کیاگیا ہے، 1986ء میں روس ، چین اور انڈیا سے بچوں کا ادب اُردو زبان میں متراجم ہوکر یہاں آتا تھا ،بچوں کے ادب میں پیسہ نہیں ہے مگر یہ ایک مشن ہے جو آج تک بطور مشن ہی چلا آرہا ہے، والدین جہاں اپنے بچوں کو اچھا کھانا، اچھے کھلونے اور اچھی تفریح فراہم کرتے ہیں وہی یہ بات بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اچھی کتابیں بھی فراہم کریں، اجلاس میں کمپیئرنگ کے فرائض علی حسن ساجد نے انجام دیئے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر