فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر308

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر308

ایک دن اداکار ہمالیہ والا نے ہمارے پاس سو سو روپے کے دو نوٹ رکھوائے اور کہا ”آفاقی یہ تم رکھ لو۔ پھر تم سے لے لوں گا۔“

ہم نے کہا ”واپس لینے ہیں تو دیتے کیوں ہو؟“

بو لے ”یار میرے پاس ہوں تو خرچ ہو جائیں گے۔ تم بھروسے کے آدمی ہو رکھ لو“

ہم نے ان کے دو سو روپے رکھ لئے۔ رات کو ایک ڈنر میں جانا تھا جہاں ہمالیہ صاحب مگن ہوگئے اور ترنگ کے عالم میں بھول گئے کہ نوٹ ہمارے پاس رکھوائے ہیں۔ ہوٹل واپس آنے کے بعد وہ مختلف لوگوں کے کمروں میں جا کر اپنے نوٹ تلاش کرتے رہے اور کمروں کی تلاشی لیتے رہے۔

ہم اور سیّد کمال دونوں ایک ہی کمرے میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ روشنی بجھا کر ابھی سونے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ ہمالیہ والا دبے پاﺅں کمرے میں داخل ہوئے اور الماریوں‘ میزوں کی درازوں کی تلاشی میں مصروف ہوگئے۔

کمال نے حیران ہو کر پوچھا ”یہ کیا کر رہے ہیں؟“

ہم نے کہا ”شاید اپنے نوٹ ڈھونڈ رہے ہیں۔“

ہمالیہ والا چلے گئے تو ہم نے انہیں یہ قصّہ سنایا۔

وہ کہنے لگے ”یار وہ بھول ہی گئے ہیں تو دو سو روپے تم ضبط کر لو۔“

چند لمحے بعد ہمالیہ صاحب دوبارہ اسی عالم میں کمرے میں داخل ہوئے۔ وہ صرف انڈر ویئر اور بنیان پہنے ہوئے تھے۔ انہیں دیکھ کر ہم دونوں پھر سوتے بن گئے۔ وہ دبے پاﺅں الماری کی طرف گئے۔ الماری میں لٹکے ہوئے کپڑوں کی تلاشی لی اور پھر ہمارے سرہانے کی طرف بڑھے تو کمال نے اچانک روشنی جلا دی۔

ہمالیہ صاحب بوکھلا گئے۔

کمال نے انجان بن کر پوچھا ”ارے ہمالیہ صاحب آپ؟ کیا بات ہے خیریت تو ہے نا؟“

انہوں نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا پھر آہستہ سے کہا ”میرے دو سو روپے گم ہوگئے ہیں کسی کو مت بتانا۔“

”مگر آپ ہمارے کمر ے میں کیوں آئے ہیں؟“

”یوں ہی بس روپے تلاش کرنے چلا آیا“

کمال نے کہا ”ہمالیہ صاحب نوٹ آپ کے وہاں گم ہوئے‘ تلاش کرنے آپ یہاں آگئے۔ وہ نوٹ ہمارے کمرے میں کیسے آ سکتے ہیں؟“

وہ کہنے لگے“ چپ کرو یار کبھی کبھی ایسا ہو جاتا ہے، خیر کوئی بات نہیں، تم چُپ چاپ سو جاﺅ شاباش اور دیکھو کسی کو بتانا مت اوکے؟“

”اوکے“ وہ کمرے سے چلے گئے۔

ہم نے کہا ”ہمارا خیال ہے کہ انہیں دو سو روپے واپس کر دیں۔“

بولے ”بالکل نہیں۔ انہیں ساری رات تلاش کرنے دو سب کو تنگ کرنے دو۔“

صبح ناشتے کی میز پر سب اکٹّھے تھے اور ہر کوئی عطاءاللہ شاہ سے شکایت کر رہا تھا کہ ہمالیہ والا نے ساری رات ہمیں پریشان کیا ہے۔ سونے نہیں دیا۔ عطاءاللہ شاہ صاحب کو ہم سارا قصّہ سنا چکے تھے۔

انہوں نے بالکل انجان بن کر ہمالیہ والا سے پوچھا ”کیوں بھئی ہمالیہ صاحب ،یہ سب آپ کی شکایت کر رہے ہیں کہ آپ نے رات انہیں سونے نہیں دیا۔“

وہ بولے ”شاہ جی میں خود بھی تو جاگتا رہا ہوں“

شاہ صاحب نے پوچھا ”تو کیا آپ کی رقم مل گئی؟“

”جی نہیں ابھی تک تو نہیں ملی۔“

شاہ صاحب نے کہا ”اس کا مطلب یہ ہے کہ آج پھر آپ ساری رات ہر ایک کمرے کی تلاشی لیں گے؟،آپ نے تو پورے ہوٹل میں ہمیں شرمندہ کردیا ہے ،پورے وفدکا سر شرم سے جھک گیا ہے“

ہمالیہ والے بگڑ کربولے ”تو میں کیا کروں ، میرے پیسے گم ہوگئے ہیں اور میں تلش بھی نہ کروں “

شاہ صاحب بولے ”تو کیا پیسے ننگے ہوکر تلاش کرنے تھے؟اس میں ہم لوگوں کا تو کوئی قصور نہیں ہے ۔ بہتر ہے کہ سب لوگ چندہ کر کے آپ کی رقم پوری کر دیں۔ اسی میں سب کا بھلا ہے۔ “

”کوئی بات نہیں شاہ جی پیسے کا کیا ہے، ہاتھ کا میل ہوتا ہے۔“

ناشتے کے بعد ہم نے ایک طرف لے جا کر دو سو روپے ان کی خدمت میں پیش کر دئیے۔ انہوں نے نوٹوں کو دیکھا پھر ہمیں دیکھا اور انہیں فوراً یاد آگیا۔ ”تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتا دیا تھا؟“ انہوں نے ناراض ہو کر پوچھا۔

”آپ نے پوچھا ہوتا تو بتاتے۔ ہمیں کیا خبر تھی کہ آپ بھول جائیں گے اور پھر سارے ہوٹل میں تلاش کرتے رہیں گے۔“

مشرقی پاکستان کا ذکر چل نکلا ہے تو کچھ وہاں کی فلمی صنعت کا بھی بیان ہو جائے۔ قیام پاکستان کے بعد ڈھاکہ میں اہم فلم تقسیم کاروں کے دفاتر قائم ہوگئے تھے۔ اس سے پہلے تقسیم کاری کا مرکز کلکتہ تھا۔ ڈھاکہ میں فلم سازی کا کوئی تصوّر ہی نہیں تھا۔ یہاں تک کہ کلکتہ کے فلم ساز اپنی شوٹنگ کے لئے بھی ڈھاکہ کا رخ نہیں کرتے تھے۔ ڈھاکہ کا ایک تاریخی شہر ضرور تھا مگر کلکتہ کے نزدیک ہونے کی وجہ سے ترّقی کا سارا زور کلکتہ شہر پر ہی رہا تھا۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر307

قیام پاکستان کے بعد کلکتہ سے سٹار فلمز کے مالک افتخار عالم نے ڈھاکہ کا رخ کیا۔ اس وقت کے عام رجحان کے مطابق ان کے بڑے بھائی کلکتہ ہی میں مقیم رہے اور وہاں دفتر چلاتے رہے۔ افتخار عالم صاحب نے ”سٹار فلمز“ کے نام سے ڈھاکہ میں جو دفتر قائم کیا تھا اس کا بیشتر انحصار مغربی بنگال اور بھارتی فلموں کی درآمد پر ہی تھا یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کافی عرصے تک پاکستانی فلموں پر کوئی دھیان نہ دیا۔ جب بھارت سے فلموں کی درآمد پر پابندی عائد ہوگئی اور مغربی پاکستان میں صنعت فلم سازی نے ترّقی کی تو مجبور ہو کر انہوں نے پاکستانی فلموں کی طرف بھی توّجہ دی لیکن بدقسمتی سے ان کا زیادہ تر رجحان بلکہ ہمدردیاں بھارتی فلموں سے ہی وابستہ رہی تھیں۔ یہاں تک کہ جب پاکستان میں بھارتی فلموں کی بندش کے سلسلے میں ڈھاکہ میں منعقد ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اس وقت کے وزیر قانون نے ایک بل پیش کیا تو افتخار عالم صاحب اور ان کی ہم نوا بھارتی فلموں کی لابی نے ہر طرح اسے ناکام بنانے کی کوشش کی۔ ارکان اسمبلی اور ان کی بیگمات کو کلکتہ کی سیر کرائی گئی۔ وہاں ہر ایک کو دو دو چار چار ہزار روپے کی شاپنگ کرائی گئی اور دوسرے تحائف بھی پیش کئے گئے۔ یہ لوگ صاحبِ زر اور صاحبِ اثر تھے۔ انہیں ہندوﺅں کی تائید بھی حاصل تھی۔ پیسے خرچ کرنے کی استطاعت بھی رکھتے تھے۔ اس لئے انہوں نے بھارتی فلموں پر پابندی کے بل کو روکنے کےلئے ہر ممکن کوشش کر ڈالی۔ آخر یہ ان کے منافع اور کاروبار کا مسئلہ تھا۔ بہرحال صدر ایوّب خان کی ذاتی دلچسپی اور وزیر قانون خورشید صاحب کی مخلصانہ کوششوں سے یہ بل قانون میں بدل گیا تو مجبوراً بھارتی فلموں کے دوسرے تقسیم کاروں نے بھی پاکستانی فلموں کی خریداری میں دلچسپی لینی شروع کر دی۔ 

کلکتہ سے محدود پیمانے پر بھارتی فلمیں کافی عرصے تک درآمد ہوتی رہیں اور سٹار فلمز والوں کی کوشش رہی کہ پاکستانی فلم ساز بھارتی فلموں کے چربے بناتے رہیں۔ وہ جن فلم سازوں کی فلموں کے حقوق خریدتے تھے انہیں بھارتی فلموں کے سکرپٹ اور کہانیاں بھی فراہم کر دیا کرتے تھے۔ بہرحال رفتہ رفتہ بھارتی فلموں کی درآمد کا سلسلہ ختم ہوا تو لا محالہ مغربی پاکستان سے اردو فلموں کے حقوق خریدنے کے رجحان میں اضافہ ہوگیا۔

مشرقی پاکستان میں بنگلہ زبان کی فلموں کی کافی مانگ تھی مگر وہاں فلم سازی کے لئے کسی بھی قسم کی سہولت سرے سے موجود ہی نہیں تھی۔ اس کے باوجود چند سرپھروں نے فلم سازی کی طرف توجہ دی اور تمام تر مشکلات اور سرمائے کی کمی کے باوجود بنگلہ زبان میں فلمیں بننے کا بیڑا اٹھایا۔ (جاری ہے)

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر309 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...