چیف جسٹس ثاقب نثار کا سندھ کے ہسپتالوں کی ابتر صورتحال پر ازخود نوٹس ،تقرروتبادلوں پرپابندی بھی اٹھالی

چیف جسٹس ثاقب نثار کا سندھ کے ہسپتالوں کی ابتر صورتحال پر ازخود نوٹس ...
 چیف جسٹس ثاقب نثار کا سندھ کے ہسپتالوں کی ابتر صورتحال پر ازخود نوٹس ،تقرروتبادلوں پرپابندی بھی اٹھالی

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)چیف جسٹس ثاقب نثار نے سندھ کے ہسپتالوں کی ابترصورتحال پر ازخود نوٹس لے لیا اور سرکاری افسروں کے تقرروتبادلوں پرپابندی بھی اٹھالی،تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سمندری آلودگی کے حوالے سے سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے سندھ کے ہسپتالوں کی ابتر صورتحال پر ازخودنوٹس لیتے ہوئے استفسار کیا کہ بتایاجائے 500بیڈزوالے کتنے میڈیکل کالجزکےساتھ ہسپتال قائم ہیں؟اورہسپتالوں سے متعلق حلف نامے داخل کرائے جائیں۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ نے چیف سیکرٹری سے استفسار کیا کہ کیا صرف پیسوں ہی سے تعلیم دلوائی جا سکتی ہے؟،پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی تعلیم کا کیا معیار ہے؟،سندھ میں کتنی میڈیکل یونیورسٹیزاورکالجزہیں ؟،انہوں نے کہا کہ ایسے بھی ڈاکٹرز ہیں جنہیں بلڈ پریشرچیک کرنا نہیں آتا،انہوں نے سندھ میں تقرروتبادلوں پر پابندی ہٹاتے ہوئے کہا کہ سوائے چیف سیکرٹری کے کسی بھی افسرکاتقرریاتبادلہ کریں،بندہ آپ کی مرضی کا ،مگرکام ہماری مرضی کا ہوناچاہئے۔

سیکرٹری صحت نے بتایا کہ سندھ میں 53 کالجز،یونیورسٹیزہیں، 15پرائیویٹ میڈیکل کالجز،12 ڈینٹل کالج ،5 نجی یونیورسٹیزہیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ ہیلتھ سیکٹرمیں سب سے بڑاہتھیارکیاہے؟ کالجزپی ایم ڈی سی کے قواعد پرپورااترتے ہیں؟،چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کسی 5 میڈیکل کالجز کا جائزہ لے کر رپورٹ جمع کرائیں، سکھر،ٹھٹھہ جائیں گے جہاں ڈاکٹر بلڈپریشرتک چیک نہیں کرسکتا،انہوں نے کہاکہ اسٹینو کا بھی حق ہے کہ اس کا بیٹاڈاکٹربنے۔

لائیو ٹی وی دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مزید : قومی