سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 6

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 6
سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 6

  

اس نے ایک ٹکڑے میں ریشم کی راکھ بھر دی اور دوسرے ٹکڑے کی پٹی باندھ دی۔ اس نے اپنے چہرے سے کسی تکلیف کا اظہار نہیں ہونے دیا۔ سوائے اس کے کہ سیدھا سید ھا لیٹ گیا۔

تھوڑی دیر کے تکلف کے بعد ملکہ نے اس کا سر اپنے بکتر پوش زانو پر رکھ لیا ۔ ٹوپی ایک طرف گر گئی ار ملکہ اس کے سیاہ ریشمیں بالوں میں اپنی انگلیاں پھیرنے لگی اور وہ اس لذت کو دوام عطا کرنے کیلئے عمر بھر شیروں سے زخمی ہونے کی دعائیں مانگنے لگا۔ ان دونوں کی زبانوں پر حفظ مراتب کے قضل لٹکتے رہے لیکن آنکھیں باتیں کرتی رہیں اور انگلیاں ہاں میں ہاں ملاتی رہیں۔ جب بھوک ناقابلِ برداشت ہو گئی تب وہ دونوں ایک دوسرے کا سہارا بن کر اٹھے اور دونوں ایک دوسرے سے گھوڑے پر سوار ہونے کا اصرار کرنے لگے۔ آخر کار ملکہ نے اس کے آگے بیٹھ کر راسیں سنبھال لیں۔

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 5

وہ ملکہ کے زرہ پوش شانے پر منہ رکھے رخساروں کو سونگھتا ہوا کمر میں بازو ڈالے بہشت کی سیر کرتا رہا۔ پھر اس نے جنگی نارنگیوں ، کھٹے سیبوں اور کچے شفتالوﺅں کے درختوں کو سوکھ جانے کی بدعائیں دیں اور آدم کی طرح جنت سے گھوڑے سے زمین پر اتر آیا۔ 

وہ ایک دوسرے کو پھل کھلا رہے تھے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور ہتھیاروں کی آوازوں سے سارا جنگل چھلک اٹھا۔ ذاتِ خاص کے رسالے کے سوار گھوڑوں سے پھاند پڑے ۔ سالار نے گھٹنوں پر کھڑے ہو کر تلوار نیام سے نکال کر چومی اور پھر نیام میں ڈال کر کھڑا ہو گیا۔ ملکہ نے انتہائی ناگواری کا اظہار کیا۔

”اگر اس تلوار زادے نے اپنے آپ کو شیر کے منہ میں نہ ڈال دیا ہوتا تو ہم مدت کے ختم ہو چکے ہوتے۔“

پھر ایک جھٹکے کے ساتھ سپاہی سے لگام لے لی اور طاﺅس کی طرح اڑ کر گھوڑے پر جم گئی اور ”جام بہشت “ کے کنارے سے شیرا ٹھوا کر قیام گاہ کی طرف گھوڑا ڈال دیا۔

جب اس کی آنکھ کھلی تو وہ نمدے کے زرد اونچے مدور خیمے کے آبنوسی پلنگ اور نحلیں بستر پر لیٹا اور مغرب کے ملائم کمبلوں میں لپٹا پڑا تھا۔ بازو میں رکھے چاندی کے شمع دان میں بارہ خوشبودار شمعیں جل رہی تھیں۔ پلنگ کے سامنے نیچی لمبی خالی میز رکھی تھی۔ بائیں بازو میں آگ لگی ہوئی تھی اور دور اجنبی بھیانک آوازیں پہرہ دے رہی تھیں۔ پھر اسے اپنے سرہانے کا ملائم گرم تکیہ جنبش کرتا محسوس ہوا۔ اس نے حیرت سے دیکھا کہ ملکہ گود میں سر لئے بیٹھی تھیں اور مسکرارہی تھیں اور ان کی صلیب اس کی پیشانی پر لرز رہی تھی۔

ملکہ کے جسم کی ناقابل ِ بیان خوشبو سے اس کا جسم معطر ہو گیا۔ اس نے ملکوتی طمانیت سے لمبی سانسیں لے کر آنکھیں بند کر لیں۔ پھر اس کا سرتخت اور ٹھنڈے تکیے پر رکھ دیا گیا۔ پلنگ کی پشت پر جو الماری تھی اس کا سامان اٹھا اٹھا کر ملکہ میز پر رکھنے لگیں۔ وہ خون کی طرح سرخ مخمل کا شب خوابی لباس پہنے تھیں جس میں کمر کے نیچے چاروں طرف جھول پر پلیٹیں پڑی تھیں اور جو اوپر چست ہو گیا تھا۔ جب وہ ہاتھ اٹھاتیں تو ڈھیلی آستینیں پھسل جاتیں اور کچی چاندی کی کلائیاں برہنہ ہو جاتیں۔ سرخ بال دونوں شانوں پر ڈھیر تھے۔ اس پس منظر میں ان کے تابناک چہرے پر نگاہ نہ ٹھہرتی تھی۔ پھر انہوں نے اپنے شانے کا سہارا دے کر اسے اٹھایا اور میز کی طرف رخ کر کے بٹھا دیا جس پر چاندی کی پلیٹوں میں خشک میوے ، تازے پھل، تلاہو ا گوشت اور تازہ شوربا اور میٹھے بسکٹ ڈھیر تھے۔ اس کی بیداری کے انتظار کا ذکر کئے بغیر وہ مہذب بھوکے انسانوں کی طرح کھانے لگیں اور اسے خیال آیا کہ وہ الف لیلیٰ کے ابو الحسن کی طرح بیداری میں خواب دیکھ رہا ہے۔ اس یقین سے اسے مسرت ہوئی کہ ایک حلیل المرتبت ملکہ اپنی نجی زندگی میں ایک عام شامی عورت کی طرح پر محبت اور خدمت گزار ہوتی ہے۔

پہلی بار اسے یہ موقع نصیب ہوا تھا کہ ایک مطلق العنان ملکہ اور حسین ترین نامحرم عورت کی بے تکلف قربت سے آسودہ ہو سکے۔اس کے بازو کا زخم جیسے مندمل ہونے لگا۔وہ ایک آئینہ اٹھار دیکھنے لگا۔ اس کے گلے پر آبِ زر کی بیلوں کے درمیان خطِ نسخ میں امراءالقیس کے زندانہ اشعار اس فنکاری سے لکھے ہوئے تھے گویا زرد پھول کھلے ہوں۔ ملکہ نے دونوں آبگینے لبریز کر دیئے۔ اس نے نبیذ کی محفلوں کی داد دی تھی اور سرخوش ہوا تھا۔ لیکن اس گھنگھور سرمستی سے ناآشنا تھا جو درپیش تھی۔ وہ آبگینوں سے آنکھ ملاتے بھی جھجک رہا تھا۔

ملکہ نے خود اعتمادی سے اشارہ کیا اور اس نے آبگینہ اٹھا لیا اور دنیا کے سب سے حسین ساقی کی تقلید میں نصف سے کم نگل گیا۔ اسے محسوس ہوا جیسے گھوڑے نے سر پر ٹاپ مار دی ہو۔ دوسرے دور میں وہ کسی حد تک انگیز کر سکا ۔ تیسرے آبگینے کے بعد وہ یہ بھی بھول گیا کہ وہ دنیا کی سب سے ظالم فوجوں کے قلب میں بے دست و پا ہے اور اسے معلوم ہوا کہ وہ اپنے قصر کی سنسان پردہ پوش غلام گردش میں گھس آیا ہے اور مغرب کو وہ البیلی کنیز اپنے آقا کی خدمت سے مشرف ہے جسے اس کے والد نے ہزاروں دینار سرخ میں خرید کر اپنے بیٹے کو بخش دیا ہے۔ اس نے مسرور آنکھیں اٹھا کر دیکھا بلکہ اپنے شفق گوں لباس میں صبح کے سورج کی مانند آنکھیں خیرہ کئے دے رہی تھیں۔ دراز پلکیں نیم باز آنکھوں پر لڑ کھڑا رہی تھیں۔ گہری آنکھیں اور گہری ہو گئیں ۔ مشرق کے افسانوں کی عاشق ملکہ طلوع ہوتے ہوئے مشرق کے سب سے بڑے سلطان کی بے پناہ دلکشی سے مسحور ہو چکی تھی۔ اس نے ہاتھ بڑھایا اور ملکہ ٹو ٹ کر اس کے آغوش میں آگئی۔

صبح کو لوئی شہنشاہِ فرانس کی آمد کا ہنگامہ گرم ہوا۔ وہ دریائے اردن کے شمال مشرق کی اسلامی آبادی کو تہ و بالا کر رہا تھا۔ ملکہ کی دوسری زندگی کی اطلاع ملی اور وہ فوراً سوار ہو گیا۔(جاری ہے)

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 7 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فاتح بیت المقدس