سب سے پہلے تعلیم کی پالیسی اپنانی ہوگی  

سب سے پہلے تعلیم کی پالیسی اپنانی ہوگی  
 سب سے پہلے تعلیم کی پالیسی اپنانی ہوگی  

تحریر۔عادل محمود

آج کا مسلمان دنیا کی محبت اورچکا چوند میں اس قدر گم ہو گیا ہے کہ اسے اپنے اسلاف کی علمی عظمت بھی یاد نہیں۔وہ مسلمان جنہوں نے علم کو فروغ دیااور پہلے کتاب پڑھی ،اسکے بعد تلوار اٹھائی تھی ....علم سے زیادہ طاقتور کوئی اور چیز انکے نزدیک نہ تھی۔ٹیکنالوجی بے شک نعمت ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کمپوزنگ نے جسطرح غرناطہ اور بغداد کے کاتبوں کی یاد بھلا دی ہے جو سینکڑوں اور ہزاروں نسخے ہاتھوں سے تیار کرتے تھے،یہی زوال دوسرے شعبوں میں بھی در آیا ہے۔ وہ نسخے کیا ہوئے۔یعنی وہ نسخہ جات جن میں عظیم مسلمان سائنسدانوں، طبیبوں، کیمیا دانوں، مفکروں اور دانشوروں کی یاداشتیں رقم تھیں۔اور یہ نسخہ جات مسلمانوں کے علمی تجربہ کی عکاسی کرتے تھے۔اسی کے زور پے مسلمانوں نے دنیا پر حکومت کی مگر افسوس کہ یہ علمی میراث زیادہ دیر تک مسلمانوں کا مقدر نہ رہ سکی۔

جب منگولوں نے بغداد پر حملہ کیا اور مسلمانوں کا وہ بیش قیمتی خزانہ جواُن کی صدیوں کی محنت کا نچوڑ تھا، وہ کتابیں، وہ کڑی محنت سے لکھے گئے نسخے دریا برد کر دیئے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دریائے دجلہ کا پانی ان کتابوں کی سیاہی سے سیاہ ہو گیا ۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے جسکو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔جہاں بعض کتابوں کو دجلہ میں ڈالا گیا اور بعض کو جلا دیا گیا وہاں سے کچھ کو یورپین ساتھ لے گئے۔ ان قابل قدر تحریروں کو گنوا کر مسلمان اتھاہ تاریکیوں میں ڈوبتے چلے گئے یہاں تک کے علامہ اقبال بھی یہ کہ اٹھنے پر مجبور ہو گئے

گنوا دی ہم نے اسلاف سے جو میراث پائی تھی

ثریا سے زمیں پر، آسماں نے ہم کو دے مارا

اس میراث کو کھو دینے کے بعد مسلمانوں سے تاج حکمرانی چھن گیا، زبوں حالی انکا مقدر بن گئی۔ اور آج تک وہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل نہ کر سکے۔ علم کے حصول کے بغیر حکمرانی تو کیا ترقی بھی نصیب نہیں ہو سکتی۔یہی وجہ ہے کہ چرچل اور ہٹلر نے جنگ عظیم اوّل سے پہلے تعلیمی مراکز کو نقصان نہ پہنچانے کی شرط رکھی اور دنیا نے دیکھا کہ جنگ کی تباہ کاریوں کے با وجود انہوں نے اپنی علمی میراث کو محفوظ رکھا اور اسی راز کی بدولت دنیا کی آنکھوں میں اپنا مقام بحال رکھا۔

غیر مسلم طاغوتی طاقتیں جن کے پاس آج دنیا کی باگ دوڑ ہے وہ مسلمانوں کی علمی میراث کے بل بوتے پر حکمرانی کر رہی ہیں۔ سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ انہوں نے آج تک اپنے کسی سائنسدان کواتنا مشہور نہیں کیا جتنا وہ اپنے گلوکاروں اور اداکاروں کو کرتے ہیں۔ تاکہ ہم مسلمان جسٹن بائبر یا مائیکل جیکسن تو بنیں مگر آئزک نیوٹن، سٹیفن ھاکنگ یا سٹیو جابز نہ بنیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان طاغوتی طاقتوں کے اصل عزائم کو پہچانیں اور وہی گمشدہ مقام حاصل کرنے کے لیے تگ ودو اور جدوجہد کریں۔اور اس مقام تک ہمیں صرف علم کا حصول ہی پہنچا سکتا ہے۔ جسکے لیے ہمیں ڈانس کلب،شیشہ کلب یا نائٹ کیفے کی نہیں بلکہ معیاری سکول، کالج اور یونیورسٹیوں کی ضرورت ہے۔سب سے پہلے علم کو پالیسی بنانا ہوگا،تبھی ہم کچھ کرپائیں گے۔

(بلاگر سرگودھا یونیورسٹی میں پلانٹ پیتھالوجی اور مائکرو بائیولوجی کے طالب علم ہیں)

..

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...