شاہ زیب قتل کیس، عدالتی حکم کے بعد شاہ رخ جتوئی کو رہا کردیا گیا

شاہ زیب قتل کیس، عدالتی حکم کے بعد شاہ رخ جتوئی کو رہا کردیا گیا
شاہ زیب قتل کیس، عدالتی حکم کے بعد شاہ رخ جتوئی کو رہا کردیا گیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) سیشن عدالت نے شاہ زیب قتل کیس کے مبینہ مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی سمیت تمام ملزمان کی ضمانتیں منظور ہونے کے بعد رہائی کے احکامات جاری کردیئے جس کے بعد شاہ رخ جتوئی کو جناح ہسپتال سے رہا کردیا گیا۔

حافظ سعید کی جانب سے نواز شریف کو بڑا جھٹکا لگنے کا امکان ،وہ کیا کام کرنے جا رہے ہیں ؟جان کر شریف خاندان کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو جائے گا

سندھ ہائی کورٹ نے شاہ زیب قتل کیس کے ملزم شاہ رخ جتوئی اور دیگر کی سزائیں کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس سماعت کے لئے سیشن جج بھیجنے کا حکم دیا تھا جب کہ عدالت نے مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات بھی ختم کردی تھیں۔کراچی کی ضلع جنوبی کی سیشن عدالت نے 19 دسمبر کو کیس کی ازسر نو پہلی سماعت میں صلح نامہ اور کیس کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا فیصلہ کیا تھا۔

سماعت کے آغاز پر مقتول شاہ زیب کے والد نے صلح کے حوالے سے حلف نامہ جمع کرایا۔جب کہ انہوں نے ایک اور حلف نامہ جمع کرایا جس میں ملزمان کی ضمانت پر رہائی کے حوالے سے کوئی اعتراض داخل نہیں کیا۔مقتول شاہ زیب کے والد نے عدالت کے روبرو بتایا کہ بیٹے کے قتل کے بعد ملزمان کے اہلخانہ سے صلح ہوگئی تھی، گھر والوں کی مرضی سے ملزمان کے اہلخانہ سے صلح کی اور شاہ زیب کے قاتلوں کو اللہ کی رضا کے لیے معاف کیا، اس لیے ملزمان کی ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں۔

واضح رہے کہ 20 سالہ نوجوان شاہ زیب خان کو دسمبر 2012 میں ڈیفنس کے علاقے میں شاہ رخ جتوئی اور اس کے دوستوں نے معمولی جھگڑے کے بعد مبینہ طور پر گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جون 2013 میں اس مقدمہ قتل کے مبینہ مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی اور نواب سراج علی تالپور کو سزائے موت اور دیگر ملزمان بشمول گھریلو ملازم غلام مرتضٰی لاشاری اور سجاد علی تالپور کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

لائیو ٹی وی دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مزید : جرم و انصاف /علاقائی /سندھ /کراچی /اہم خبریں