یہ دونوں سعودی بہنیں بھاگ کر ترکی جا پہنچی، لیکن کس سے بچنے کے لئے؟ ایسی تفصیل منظرِ عام پر کہ سعودی عرب میں ہنگامہ برپا ہو گیا

یہ دونوں سعودی بہنیں بھاگ کر ترکی جا پہنچی، لیکن کس سے بچنے کے لئے؟ ایسی ...
یہ دونوں سعودی بہنیں بھاگ کر ترکی جا پہنچی، لیکن کس سے بچنے کے لئے؟ ایسی تفصیل منظرِ عام پر کہ سعودی عرب میں ہنگامہ برپا ہو گیا

  

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی د وبہنیں اپنے ملک سے فرار ہونے کے بعد ترکی جا پہنچی ہیں۔ ان کے فرار کی وجہ کچھ اور نہیں بلکہ اپنے ہی قریبی ترین عزیزوں کا خوف ہے، اور اب جبکہ ان کا والد انہیں واپس لانے کی کوشش کر رہا تو وہ پہلے سے کہیں زیادہ خوفزدہ ہیں۔وہ ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں کہ انہیں زبردستی واپس نہ بھجوایا جائے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ مملکت اپہنچتے ہی انہیں قید کر یا جائے گا، بلکہ ان کی جان کو خطرہ لاحق ہو گا۔ 

الجزیرہ کے مطابق 30 سالہ اشواق حمود اور 28 سالہ اریج حمود کے وکیل کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کو یہ خوف لاحق ہے کہ ان کے اپنے گھر والے ان کے خلاف پرتشدد رویہ اختیار کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے عزیزوں کے تشدد اور بدسلوکی کی وجہ سے ہی سعودی عرب سے فرار ہوئی تھیں ۔

یہ دونوں بہنیں براستہ ہانگ کانگ ، نیوزی لینڈ فرار ہونا چاہ رہی تھیں لیکن اس میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ چونکہ سعودی شہریوں کو ترکی میں آمد پر ویزہ کی سہولت دستیاب ہوتی ہے لہٰذا یہ دونوں نیوز ی لینڈ جانے میں کامیاب نہ ہوئیں تو ترکی جا پہنچیں۔ رواں سال فروری میں یہ ترکی پہنچیں اور چند ماہ تک خاموشی سے وہاں مقیم رہیں، البتہ جب انہوں نے اقامتی اجازت نامے کیلئے درخواست دی تو انہیں حراست میں لے لیا گیا ۔

لڑکیوں کے والد نے ، جو کہ بااثر آدمی بتایا جاتا ہے، سعودی حکام کے ذریعے بیٹیوں کی واپسی کی کوشش شروع کر دی ہے ۔ اس نے الزام نے عائد کیا ہے کہ دونوں لڑکیاں دہشت گرد گروپ میں شامل ہونے کیلئے شام جانے کا ارادہ رکھتی تھیں ۔ ترک حکام نے دونوں بہنوں کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کر لیا تھا تاہم انہوں نے عدالت سے رجوع کر لیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ جب تک اس معاملے کی سماعت مکمل نہیں ہو جاتی انہیں واپس نہ بھیجا جائے۔ کیس کی سماعت استنبول کی عدالت میں جاری ہے ۔

مزید : عرب دنیا