واجد ضیا کا نیب کو بیان،تفصیلات منظر عام پر

واجد ضیا کا نیب کو بیان،تفصیلات منظر عام پر
واجد ضیا کا نیب کو بیان،تفصیلات منظر عام پر

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پانامہ ریفرنسز کی تفتیش کیلئے سپریم کورٹ کی جانب سے بنائی جانے والی جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا نے نیب کو کیا بیان دیا؟اس کی تفصیلات منظر عام پر آگئی ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق واجد ضیا کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے8 مئی2017 کو کام کا آغاز کیا جس کی حتمی رپورٹ10 جولائی کو جمع کرائی۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ باہمی قانونی معاونت کے لیے مختلف ممالک کو خطوط لکھے،تحقیقات کے د وران حاصل دستاویزات جے آئی ٹی رپورٹ کا حصہ ہیں اور وہ ساری دستاویزات رجسٹرارسپریم کورٹ کے حوالے کیں۔ واجد ضیانے اپنے بیان میں کہا کہ گلف سٹیل ملز کی فروخت کی بات جھوٹ ہے، قطری شہزادے کیساتھ سرمایہ کاری کی بات درست نہیں۔ واجد ضیانے یہ بھی کہا کہ برطانوی دستاویزات لندن فلیٹس کی ملکیت کا ثبوت ہیں اور شریف خاندان کی منی ٹریل بھی جھوٹی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ کیلبری فونٹ پر 2 ماہرین کی رپورٹس بھی ثبوت ہیں۔

پاک امریکا تعلقات پڑوسی ممالک کے تعاون کے بغیر کچھ ممکن نہیں :حنا ربانی کھر

واجد ضیا نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کی تصدیق کرتا ہوں، بینکوں، کمپنیوں، آمدن، ویلتھ ٹیکس کے ریکارڈ کی تصدیق کرتا ہوں اور اسحاق ڈار کے بینکوں، کمپنیوں، آمدن اور ویلتھ ٹیکس کے ریکارڈ کی بھی تصدیق کرتا ہوں۔

واضح رہے جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا نے یہ بیان 30اگست2017 کو کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے بیان ریکارڈ کرایا۔

لائیو ٹی وی دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد