افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا

افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا

امریکہ نے شام کے بعد، افغانستان سے بھی اپنی آدھی فوج واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے، سات ہزار امریکی فوجیوں کو کابل سے نکالا جائے گا،اِس ضمن میں منصوبہ بندی کے لئے زبانی احکامات دے دیئے گئے ہیں،صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ اعلان سترہ سالہ افغان جنگ کی پالیسی میں اچانک تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے،کیونکہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان پہلی مرتبہ براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے۔ پہلا دور یو اے ای میں ہو چکا اور مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے، فریقین نے اظہارِ خیر سگالی کے لئے ایک دوسرے کے قیدی بھی رہا کئے ہیں تاہم اِن مذاکرات کا حتمی نتیجہ کیا نکلتا ہے اِس کا فی الحال کوئی اندازہ نہیں، فوجیوں کی تعداد میں کمی پر کتنے ہفتوں یا مہینوں میں عمل کیا جائے گا،اِس بارے میں ٹائم لائن طے کی جا رہی ہے۔وزیر دفاع جیمز میٹس نے شام سے امریکی فوجوں کی واپسی کے اعلان کے ساتھ ہی مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے،جس پر صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ نئے وزیر دفاع کا اعلان جلد ہی کر دیا جائے گا۔جیمز میٹس نے استعفا صدر ٹرمپ کے نقطہ نظر سے اختلاف کرتے ہوئے دیا ہے وہ شام سے فوجیں نکالنے کے بارے میں صدر کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر قائل کرتے رہے اور جب اس میں ناکام ہو گئے تو انہوں نے استعفا پیش کر دیا، اپنے استعفے میں انہوں نے لکھا ہے کہ اتحادیوں کے ساتھ احترام سے پیش آیا جائے، نیٹو نے بھی شام سے فوجوں کے انخلا کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ داعش کے خلاف کارروائیوں میں تعاون جاری رکھا جائے گا۔ روس کے صدر پیوٹن کا کہنا ہے کہ شام میں امریکی فوج غیر قانونی اور امن کے حصول میں رکاوٹ تھی۔

پہلے تو صدر ٹرمپ نے شام سے فوج کے انخلا کا اچانک اعلان کر کے اپنے اتحادیوں کو حیران، بلکہ پریشان کر دیا اور ابھی وہ اس پریشانی سے سنبھلے نہ تھے کہ انہوں نے افغانستان سے بھی اپنی آدھی فوج نکالنے کا اعلان کر دیا۔ یہ سترہ سالہ افغان جنگ میں امریکہ کی جانب سے ایک بڑا یوٹرن ہے۔ ویسے تو صدر اوباما بھی افغانستان سے فوج نکالنا چاہتے تھے، لیکن اُن کی یہ کوششیں اس وقت ناکام ہو گئیں، جب فوجی کمانڈروں نے صدر کے منصوبے سے اتفاق نہیں کیا،امریکی کمانڈروں نے کئی روز تک صدر اوباما کو تفصیلی بریفنگ دی تو بالآخر صدر نے اپنا فیصلہ بدل لیا،لیکن صدر ٹرمپ کا وزیر دفاع اُنہیں قائل کرنے میں ناکام ہو گیا اور اپنی اِس ناکامی کا اعتراف انہوں نے اپنے استعفے کی شکل میں کیا۔امریکی فوج کی واپسی کے اعلان پر افغان حکومت کا موقف یہ سامنے آیا ہے کہ اِس کا افغان فوج کے حوصلوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

افغان طالبان یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ اس وقت تک امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے جب تک غیر ملکی افواج افغان سرزمین سے نکل نہیں جاتیں،لیکن اب کی بار پاکستان کی کوششوں سے وہ مذاکرات پر تو تیار ہو گئے تاہم انہوں نے اپنا یہ مطالبہ وہاں بھی دہرایا۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ صدر ٹرمپ کا اعلان افغان طالبان کے اس مطالبے کے نتیجے میں سامنے آیا ہے تاہم اتنا ضرور ہے کہ اس اعلان سے افغان طالبان کا آدھا مطالبہ تو مانا ہی گیا ہے اور بعید نہیں اگر مذاکرات درست سمت میں آگے بڑھتے رہیں تو باقی فوج بھی افغانستان سے نکل جائے، ویسے ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا سالِ رواں کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ نہ صرف افغانستان سے نکلنے کی کوئی تاریخ نہیں دے سکتے، بلکہ اب وہ افغان مسئلہ طاقت کے زور سے حل کریں گے،لیکن لگتا ہے اُنہیں احساس ہو گیا ہے کہ یہ مسئلہ فوجی طریقے سے نہیں، مذاکرات ہی سے حل ہو گا اِس لئے اب انہوں نے فوجوں کی واپسی کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکہ نے افغانستان پر براہِ راست ہوائی حملوں کا آغاز نائن الیون کے ٹھیک ایک ماہ بعد کر دیا تھا اور کارپٹ بمباری کے ذریعے طالبان کی حکومت ختم کر کے بعدازاں حامد کرزئی کو تختِ کابل پر بٹھایا،جو اپنی مدتِ اقتدار پوری کر کے رخصت ہو گئے اور اب وقتاً فوقتاً امریکہ کو ہدفِ تنقید و ملامت بناتے رہتے ہیں۔ اب اشرف غنی برسر اقتدار ہیں،لیکن اِس موقع پر یہ سوال اہمیت کا حامل ہے کہ کیا امریکہ نے افغانستان پر حملے کے مقاصد حاصل کر لئے ہیں اور واپس جاتے ہوئے کیا وہ مطمئن ہے کہ اس نے سترہ سال تک افغانستان میں جو جنگ لڑی اس میں وہ کامران ٹھہرا۔ اگرچہ اِس جنگ میں امریکہ کا جانی نقصان تو مقابلتاً زیادہ نہیں ہوا،لیکن جو اربوں ڈالر جنگ کی اس بھٹی میں جھونکے گئے ان کا بہتر مصرف بھی ممکن تھا،جنگ شروع کرنے کے تھوڑے ہی عرصے بعد صدر بش نے اعلان کر دیا تھا کہ ان کے فوجیوں نے القاعدہ کی کمر توڑ دی ہے اور اب وہ امریکہ پر حملہ کرنے کے قابل نہیں رہی، جب انہوں نے یہ بات کہی ممکن ہے زمینی حقائق یہی ہوں،لیکن اس اعلان کو ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ افغان طالبان نے دوبارہ ’’ظہور‘‘ کر دیا اور آہستہ آہستہ اور جلد ہی یہ ثابت کر دیا کہ امریکہ کا فتح کا خواب ابھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوا اور شاید کبھی ہو بھی نہ سکے، کیونکہ اگر امریکہ کو نظر آ رہا ہوتا کہ وہ فوجی طریقے سے مسئلہ حل کر لے گا اور پھر فاتح کے طور پر واپس جائے گا تو طالبان کے ساتھ مذاکرات کی چنداں ضرورت نہ تھی، جنہیں امریکہ نے ہمیشہ اپنا دشمن نمبر ایک سمجھا، لیکن امریکہ اپنی حکمت عملی ترتیب دیتے وقت عمومی طور پر جن امور کو مدِ نظر رکھتا ہے ان میں ضد اور اَنا کا معاملہ کافی نیچے ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو طالبان کے ساتھ مذاکرات کا امکان نہیں تھا،خود ٹرمپ طالبان کے ساتھ مذاکرات کو اپنی ہتک تصور کرتے رہے ہیں، مذاکرات بذاتِ خود اس امر کا ثبوت ہیں کہ وہ دشمن کے ساتھ گفت و شنید کو کبھی خارج از امکان نہیں سمجھتا۔

جب امریکہ افغانستان میں سود و زیاں کا حساب کرنے بیٹھے گا تو اس نتیجے پر پہنچے گا کہ اربوں ڈالر افغان جنگ کی نذر کرنے اور جدید ترین اسلحے کی اس سرزمین پر آزمائش کے باوجود وہ اپنی مرضی کا حل افغانستان پر نہیں تھوپ سکا۔ البتہ ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ اگر افغان طالبان نے اس پیشکش کا مثبت جواب نہ دیا تو واپس جاتے ہوئے قدم رُک بھی سکتے ہیں۔اگرچہ اس امکان کو تو رد نہیں کیا جا سکتا،لیکن امریکی وزیر دفاع کے استعفے سے لگتا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے فیصلے پر ڈٹ گئے ہیں ورنہ اگر انہوں نے اس معاملے میں کوئی نرمی دکھانی ہوتی تو وہ اپنے وزیر دفاع کے دلائل سے قائل ہو جاتے اور انہیں استعفے جیسا انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور نہ ہونا پڑتا۔ امریکہ کے اندر اور اتحادیوں میں بھی اگرچہ اِس فیصلے پر تنقید ہو رہی ہے تاہم امید کرنی چاہئے کہ اس طرح افغانستان میں بہتا ہوا خون رُک جائے گا اور امن کی جانب مثبت پیش رفت ہو گی۔

مزید : رائے /اداریہ