چائے کی پیالی میں طوفان(2)

چائے کی پیالی میں طوفان(2)
چائے کی پیالی میں طوفان(2)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

انٹرنیٹ، ٹیلی ویڑن اور پھر ویب سائٹس نے اس حد تک مارکیٹ متاثر کی کہ امریکہ اور یورپ سمیت دنیا بھر میں ہزاروں اخبارات بند ہوئے یا لاکھوں صحافیوں اور پریس ورکرز کو تیکنیکی وجوہات کا بہانہ بنا کر گھر بھیج دیا گیا جسے کبھی Downsizing اور بعض اوقات Rightsizing کا نام دیا گیا جبکہ کبھی Layoff کہا گیا۔

دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح یہ رجحان پاکستان میں بھی روز اول سے جاری ہے لیکن وزیراعظم عمران خان کے حکومت سنبھالنے کے بعد سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے کارکنوں کو فارغ کرنے میں اس قدر تیزی آئی ہے کہ ایک عام شخص بھی یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ پاکستانی میڈیا اور بالخصوص اخبارات میں ہونے والی ڈاؤن سائزنگ By Default (پہلے سے طے شدہ) ہے یا By Design (ارادتاً) ہے۔

اس سوچ کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ڈاؤن سائزنگ اور دیکھتے ہی دیکھتے تین ہزار سے زائد افراد کو بے روزگار کرنے میں بعض ایسے ادارے بھی شامل ہیں جو کل تک خود کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے علم بردار رہے ہیں چنانچہ ایسے اداروں کی جانب سے کارکنوں کو بیک جنبش قلم روزگار سے محروم کرنا کسی اچنبھے سے کم نہیں۔
پاکستان کو اخبارات اور اخباری صنعت کے حوالے سے دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت ایک امتیازی حیثیت حاصل ہے کیونکہ یہاں کے کثیرالاشاعت اور قدیم اخبارات کے اجرا میں کاروبار سے زیادہ نظریہ کارفرما رہا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مدہم تو شاید ہو گیا ہے لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔یہ ہے نظریہ پاکستان جس کا تحفظ میڈیا سمیت ہر پاکستانی کا فرض اولین ہے۔

نظریہ پاکستان اور بعد ازاں قیام پاکستان بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی فراست، تدبر، خلوص اور دور اندیشی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انگریزوں اور ہندوؤں کی سازشوں اور پر زور مخالفت کے باوجود 14اگست 1947ء کو پاکستان ظہور میں آیا۔ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں نے قائد اعظم کی قیادت میں قیام پاکستان کے لیے بے شمار اور عظیم قربانیاں دیں۔ لاکھوں مسلمانوں نے اس مقصد کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا۔
تحریک پاکستان میں جہاں برصغیر کے مسلمانوں کے ہر طبقے کے لوگوں نے بھرپور حصہ لیا وہاں ہمارے مسلم اخبارات اور خصوصاً آردو اخبارات نے تحریک پاکستان کے مقاصد اور اس مشن کے حصول میں جو بھرپور حصہ لیا وہ صحافت کی تاریخ میں ہمیشہ ایک درخشاں باب کی صورت میں محفوظ رہے گا۔ ہندو اخبارات نے مسلمانوں کے خلاف اس وقت پروپیگنڈہ شروع کردیا تھا جبکہ دوسری طرف مسلم اخبارات میں علیحدہ مملکت کے قیام کے بارے میں مضامین اور مقالہ جات چھپنے شروع ہوگئے تھے۔

تحریک آزادی میں مسلمانوں کا مشہور اخبار’’ زمیندار‘‘ تھا۔ 9 نومبر 1909ء کو بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان نے زمیندار کی ادارت سنبھالی تو علامہ اقبال نے فرمایا کہ ‘ظفر علی خان کا قلم دین کے بڑے بڑے مجاہدین کی تلوار سے کم نہیں’۔

اسی دور میں جب 23 مارچ 1940ء کو قرارداد لاہور پیش ہوئی تو نوائے وقت لاہور، ایک بیدار مغز مسلمان نوجوان حمید نظامی کی زیر ادارت پندرہ روزہ اخبار کی شکل میں میدان صحافت میں اترا۔
اردو اخبارات میں یہ واحد اخبار تھا جس نے مسلمانوں اور ان کی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کے نقطہ نظر کی کامیابی کے ساتھ موثر ترجمانی کی۔ اس ضرورت کے پیش نظر قائداعظم کے ارشادات اور پیغام کے ساتھ نوائے وقت 29 مارچ 1944ء سے روزنامہ کی شکل میں شائع ہونے لگا اور حمید نظامی کی محنت نے جلد ہی نوائے وقت کو مسلمانوں کا ایک مقبول اخبار بنا دیا۔ حمید نظامی کے بعد مرحوم مجید نظامی کی زیر ادارت نوائے وقت نظریہ پاکستان کی حفاظت اور قیام کے مقاصد کی تکمیل کے لیے کوشاں رہا اور اب رمیزہ نظامی اس کی محافظ ہیں۔نظریہ پاکستان کا دوسرا محافظ اور تحریک پاکستان کا سرخیل اخبار ‘جنگ’ تھا جسے میر خلیل الرحمٰن نے دہلی سے شروع کیا اور بعد ازاں اخبار اور اہل وعیال سمیت پاکستان تشریف لے آئے۔میر صاحب نے سرمائے کی عدم دستیابی کے باوجود ‘جنگ’ کے نام سے 1941 میں دلی سے شام کا ایک اخبار شائع کیا۔ وہ جنگ عظیم دوم کا زمانہ تھا۔

انہوں نے اس دوران جنگ عظیم کے علاوہ جدوجہد آزادی کو بھی خبروں میں نمایاں مقام دیا۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے پورے خاندان سمیت پاکستان ہجرت کی اور برنس روڈ کراچی پرایک چھوٹا سا کمرہ لے کر 15 اکتوبر 1947 کو روزنامہ جنگ کا باقاعدہ آغاز کیا۔ یہ وہ دن تھے جب جنگ شام کا اخبار تھا۔ جلد ہی جنگ اخبار نے کامیابیاں حاصل کرنا شروع کر دیں۔(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -