مخالفین کوراستے سے ہٹانے کیلئے نیب کوقتل عام ’’کالائسنسن‘‘ جاری کردیاگیا، میاں افتخار

مخالفین کوراستے سے ہٹانے کیلئے نیب کوقتل عام ’’کالائسنسن‘‘ جاری ...

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے نیب کی حراست میں جاں بحق ہونے والے پروفیسر جاوید کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مخالفین کو راستے سے ہٹانے کیلئے قتل عام کا نیا حربہ ڈھونڈ لیا گیا ہے اور اس گھناؤنے مقصد کیلئے نیب کو بطور ادارہ استعمال کیا جا رہا ہے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ نیب حراست میں پروفیسر کی ہلاکت افسوسناک ہے اور اگر یہ سلسلہ چل پڑا تو ملک مزید انارکی کا شکار ہو جائے گا، انہوں نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات کرا کے ان عناصر کی نشاندہی کی جائے جن کی راہ میں پروفیسر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، انہوں نے کہا کہ ملک میں جو کھیل کھیلا جا رہا ہے اس کے سنگین نتائج بر آمد ہو نگے ، مسلم لیگ ن کے بعد آصف زرداری کو راستے سے ہٹانے کیلئے نیب کو استعمال کیا جا رہا ہے اور اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو دو تہائی اکثریت دلانے کی غرض سے ملک میں نئے انتخابات کی راہ ہموار کر رہی ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہم مقتدر قوتوں پر یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ نواز شریف و آصف زرداری کی قیمت پر عمران خان کو تحفظ دینے سے گریز کرے ، اب ملک میں مزید سازشی گیم نہیں چلے گی ،شیخ مجیب الرحمان کے ساتھ بھی ماضی میں یہ کھیل کھیلا گیا جس کے نتیجے میں ملک دو لخت کر دیا گیا، انہوں نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی سمیت اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریوں پر کسی خوش فہمی میں رہیں کیونکہ اگلا نمبر اب حکومتی ممبران کا ہے اور عنقریب ان کی گرفتاریوں کا عمل جلد شروع ہونے جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ حکمران کسی خوش فہمی میں نہ رہے اگر ملک میں نئے انتخابات کرانا مقصود ہیں تو پھر جنات کی شرکت کے بغیر صاف شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کرائے جائیں اور جو پارٹی اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئے اسے اقتدار حوالہ کر دیا جائے ، انہوں نے کہا کہ ملک میں ترقی،امن کے قیام ،روزگار کی فراہمی اور انسانیت کی عزت و احترام کیلئے شفاف انتخابات کے سوا کوئی آپشن نہیں، کٹھ پتلی وزیر اعظم کی ملک میں گنجائش نہیں اور پاکستان مسلط کردہ حکومتوں کا متحمل نہیں ہو سکتا ، میاں افتخار نے کہا کہ موجودہ حکومت کے چار ماہ میں پاکستان سفارتی سطح پر تنہا رہ گیا ہے اور تمام دوست ممالک ناراض ہیں ، انہوں نے کہا کہ سٹیبلشمنٹ اپنا کام چھوڑ کر مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی کی کامیاب ترین حکومتوں کو دنیا کے سامنے ناکام ثابت کرنے اور عمران خان کی نا اہل حکومت کو کامیاب شو کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، انہوں نے کہا کہ ناکام اور نا اہل حکومت نے ملک کی معیشت تباہ کر دی ہے ڈالر150کے قریب پہنچ چکا ہے جبکہ مسلط وزیر اعظم اور ان کی ٹیم اس تباہی سے پہلو تہی میں مصروف ہے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہم امن ،ترقی اور روزگار کے خواہاں ہیں اور یہ سب صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب اسٹیبلشمنٹ سیاست میں مداخلت سے گریز کرے اور اپنا کٹھ پتلی سیٹ اپ لانے کی بجائے سیاسی معاملات سیاسی قیادت کے حوالہ کرے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر