کیو ایم سی کے بورڈ آف گورنرز میں کوئی بھی رکن محکمہ صحت سے وابستہ نہیں

کیو ایم سی کے بورڈ آف گورنرز میں کوئی بھی رکن محکمہ صحت سے وابستہ نہیں

نوشہرہ(بیورورپورٹ) قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس نوشہرہ جو کہ اربوں روپے کی کثیر رقم سے تعمیر ہوا لیکن اسی ہسپتال کا بورڈ آف گورنرزٹھکیداروں اور کاروباری بااثر افراد پر مشتمل ہے جس کا محکمہ صحت سے دور کا بھی تعلق نہیں سابق سیکرٹری قانون اور ایڈمنسٹریشن میں وسیع تجربہ رکھنے والے عارفین سیاسی مداخلت کی وجہ سے مستعفی ہونے پر مجبور جبکہ محکمہ صحت کی سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر شبینہ جو کہ بورڈ آف گورنر کے اجلاس تک آنا گوارہ نہیں سمجھتی کو بھی بورڈ آف گورنر کی رکن منتخب کرکے قاضی میڈیکل کمپلیکس نوشہرہ کی انتظامی ، مالی اور طبی کارکردگی پر سوالیہ نشان بنادیا اس سلسلے میں ایک ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ قاضی میڈیکل کمپلیکس نوشہرہ کے بورڈ آف گورنرز میں کوئی بھی رکن محکمہ صحت سے وابستہ نہیں اور نہ تجربہ رکھنے والے ہیں اسی بورڈ آف گورنر کی ایک خاتون رکن سابق ڈائریکٹر جنرل صحت ڈاکٹرشبینہ واحد تجربہ کار رکن ہے لیکن تاحال اس نے بورڈ کے کسی بھی اجلاس میں شرکت گوارہ نہیں کی ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیاہے کہ بورڈ کے تمام اراکین میں سے اکثریتی اراکین یا تو ٹھیکیداروں اور یا کاروباری وبااثر افراد پر مشتمل ہیں اور ہسپتال کے انتظامی امور کیلئے کوئی خاطر خواہ پالیسی تاحال مرتب نہیں کی گئی اور قاضی میڈیکل کمپلیکس اب تک کئی گوں ناگوں مسائل سے دوچار ہیں جس سے ہسپتال میں آنے والے مریضوں کو سہولیات کی بجائے مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ نوشہرہ میڈیکل کالج میں دھڑا دھڑ غیرقانونی بھرتیاں جاری ہیں اور اسی غیرقانونی بھرتیوں میں سے ڈائریکٹر فنانس کی ایک رشتہ دار خاتون کو بھی ایک پرکشش آسامی پر بھرتی کی گئی ہے جبکہ اسی بھرتیوں میں مقامی تجربہ کار، قابل افراد کو نظرانداز کیاجارہا ہے ان سے عوام کو کوئی امید نہیں کہ یہ عوام کی فلاح کے لیئے کچھ کریں گے، قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس ہسپتال نوشہرہ کا اللہ ہی حافظ ہوں!

مزید : پشاورصفحہ آخر