باڑہ چمکنی کے رہائشیوں کا پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

باڑہ چمکنی کے رہائشیوں کا پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

پشاور (سٹی رپورٹر)ضلع کرم پا ڑہ ا چنا ر علا قہ گندھا و پاڑہ چمکنی کے رہا ئشیوں نے انتظا میہ کی جا نب سے اپنے ساتھیوں کی گرفتاری کے خلا ف گزشتہ روز پشاور پریس کلب کے سا منے احتجاجی مظا ہرہ کیا مظا ہرہ کی قیا دت حا جی خا لق نو ر ،حا جی طا رق اور گلا ب سید کر رہے تھے اس دوران مظا ہرین نے ہا تھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اُٹھا رکھے تھے جن پر اُن کے حق میں اور انتظامیہ کے خلا ف نعرے درج تھے مقررین کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے قوم حا جی خیل کے ساتھ 3ما ہ قبل راہداری معا ہدہ کیا تھا جس کے تحت ہم قوم حا جی خیل کو سوپ سٹون فی ٹرک 5ہزار رو پے را ہداری آدا کرینگے جسکا تحریر ی معا ہدہ بھی مو جو د ہو نے کے ساتھ سا تھ حا جی قوم خیل کے مشرا ن بھی اس معا ہدہ کی تصدیق کر تے ہیں جبکہ چند شر پسند عنا صر نے اس معا ہدے کو بلا وجہ ما ننے سے انکا ر کیا اُنہوں نے الزام لگا یا کہ ڈی سی کُر م محمد زبیر ،اے سی کُرم عظمت اللہ وزیر ،ایم این اے منیر اورکزئی اور کمشنر کو ہا ٹ مطا ہر زیب کی پشت پنا ہی اور سیا سی اثر ورسوخ کی بنا ء پر چند مفا د پرست عنا صر معا ہدہ سے روگر دا نی کر تے ہو ئے گندھا و اقوام کے حق پر قبضہ کر نا چا ہتے ہیں اور اب راستہ بند کر نے کے علا وہ دیگر ہتھکنڈوں کا استعما ل کر رہے ہیں جو کہ سرار نا انصا فی ہیں اُنہوں نے الزام لگا یا کہ انتظا میہ نے ہما رے مشرا ن اور قوم کے 60سے زائد لو گو ں کو بے جا قید میں رکھا ہوا ہیں جس سے ثا بت ہو تا ہے کہ قبا ئل تا حا ل ایف سی آر جیسے کا لے قانون کے عذا ب سے تا حا ل نہیں نکل سکے ہیں اُنہوں نے کہا کہ گندھا و قوم اور ٹھیکیدار کے ما بین کسی بھی قسم کا کو ئی تنا زعہ نہیں ہیں جبکہ پا کستان کے کسی بھی علا قہ میں راستہ کا کو ئی ٹیکس نہیں ہیں مگر اس کے با وجو د بھی ہم سے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہیں جو کہ ہمارے معا شی قتل کے متعرا دف ہیں قبا ئلی مشرا ن نے وزیر اعظم عمرا ن خا ن ،چیف جسٹس ثا قب نثا ر ، آر می چیف اور گورنر خیبر پختونخوا سے اپیل کی کہ حا لا ت کی سنگینی کا ادراک کیا جا ئے اور جو عنا صر اس میں ملو ث ہیں اُن کے خلا ف ایک غیر جا نبدارانہ کمیٹی تشکیل دیکر ہمیں انصا ف فرا ہم کیا جا ئے بصورت دیگر مطا لبا ت منظور نہ ہو نے کی صورت میں گور نر ہا ؤس اور وزیر اعلیٰ ہا ؤس کے سامنے احتجاجی مظا ہرہ کر نے پر مجبور ہو جا ئینگے اور اس دوران کو ئی بھی نا خوشگوار واقع رونما ہوا تو اُس کی تمام تر زمہ داری انتظا میہ پر عا ئد ہو گی جبکہ مظ اہرین نے بعد ازاں گورنر ہا ؤ کے سا منے بھی احتجاجی مظا ہرہ کیا ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر