پروگریسو گروپ کا منی بجٹ لانے کے حکومتی منصوبہ کی مذمت

پروگریسو گروپ کا منی بجٹ لانے کے حکومتی منصوبہ کی مذمت

لاہور (نیوز رپورٹر) لاہور ایوان صنعت و تجارت کے پروگریسو گروپ نے وفاقی وزیر خزانہ کی جانب سے اگلے ماہ منی بجٹ اور ٹیکسوں میں اضافہ کے عندیہ پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کاروباری سرگرمیاں پہلے ہی مندی کا شکار ہیں اور ٹیکسوں میں بے جا اضافہ سے یہ بلکل ہی ٹھپ ہو کر رہ جا ئیں گیں۔ پروگریسو گروپ کے صدر اور لاہور ایوان صنعت و تجارت کے ایگزیکٹو ممبر خالد عثمان ، نائب صدر ارشد چوہدری ،محمد اعجاز تنویر ، عبدالودود علوی اور دوسروں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پہلے ہی موجودہ حکومت نے پچھلی حکومتوں کی طرح ٹیکسوں اور ریگولیٹری ڈیوٹیز میں اضافہ کیا جس کی وجہ سے اور روپے کی قدر میں کمی کے سبب کاروباری سرگرمیاں انجماد کا شکار ہیں اور اب منی بجٹ کے اعلان کاروبار کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گا۔انہوں نے کہا کے ریونیو میں اضافہ اور ملازمت کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لئے حکومت کو معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہو گا اور اس کے لئے صنعتوں اور کاروباری حضرات کو سہولیات فراہم کرنا ہوگی۔ سمگلنگ اور انڈر انوائسنگ جیسی غیر قانونی سرگرمیوں کو آہنی ہاتھ سے کچلناہوگا۔ انہوں نے کہا کے درآمدات کے روکنے سے حکومتی ریونیومیں اضافہ ممکن نہیں ہے بلکہ اس کے لئے برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا۔ اس کے لئے پاکستانی اشیاء کے لئے غیر روایتی منڈیاں تلاش کرنا ہوگی اور پاکستان کے غیر ملکی مشنز کو متحرک کرنا ہوگا۔ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کی بزنس کیمونٹی کے مسائل کے حل کے لئے جلد از جلد اقدامات کریں اور کاروباری اداروں اور تاجروں کی نمائندہ تنظیموں سے مشاورت کے بعد ایک ایسی معاشی پالیسی بنائی جائے جو کے کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ کا باعث بنے۔

مزید : کامرس