شکیل آفریدی کے بدلے عافیہ صدیقی کی رہائی کی باتوں میں صداقت نہیں، وزیرخارجہ

شکیل آفریدی کے بدلے عافیہ صدیقی کی رہائی کی باتوں میں صداقت نہیں، وزیرخارجہ
شکیل آفریدی کے بدلے عافیہ صدیقی کی رہائی کی باتوں میں صداقت نہیں، وزیرخارجہ

  

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ شکیل آفریدی کے بدلے عافیہ صدیقی کی رہائی کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کو ہمارے ساتھ شرائط میں لچک دکھانی ہوگی، ہمیں بہت مشکل مالی حالات ملے ہیں، جب ہم آئے سعودی عرب سے تلخیاں چل رہی تھیں لیکن اب سعودی حکومت نے 3 ارب ڈالر پاکستان کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی گرم جوشی نہیں دیکھی جا رہی تھی لیکن عمران خان نے یو اے ای کا دورہ کیا اور ان کا وفد یہاں آیا، کام کے لئے جگہ دیکھی اور رپورٹ پیش کی، آئندہ ایک سے 2 ماہ میں یو اے ای کے سربراہ پاکستان کا دورہ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، یہ بہترین خارجہ پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ خارجہ امور کے حوالے سے میں یہ کہتا ہوں کہ تبدیلی آ نہیں رہی آ گئی ہے۔وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں امن کے لئے کوششیں کرتا رہے گا، افغانستان نے مل بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اصل فیصلہ وہاں کی عوام کا ہے کیا وہ مل کر بیٹھنا چاہتے ہیں؟ امریکہ نے بھی اپنی پالیسی پر نظر ثانی کی ہے اور شرائط کے بغیر گفت و شنید کا آغاز کیا گیا ہے، طالبان کے کچھ لوگوں کو ماحول سازگار بنانے کے لئے رہا کیا گیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل بھارتی جارحیت جاری ہے، پاکستان نے اس مسئلے ہرفورم پر اٹھایا، عمران خان نے یو این کے سیکٹری جنرل سے بھی بات کی ہے کہ وہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کے لئے اپنا کردار ادا کریں اور وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکا جائے، اگر طاقت کے استعمال سے کامیابی حاصل ہوتی تو مل چکی ہوتی، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے موقف کی تائید کی گئی ہے۔وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ہماری خواہش ہے کہ پاکستان کو کرپشن سے بچایا جائے اور کوشش یہ ہے کہ اوپر سے کرپشن کے خاتمے کے لئے کام کریں، نواز شریف کے معاملے پر فیصلہ محفوظ ہو چکا ہے، جج اور عدلیہ آزاد ہے ہماری رائے سے کوئی اثر نہیں ہونا۔

شکیل آفریدی کے بدلے عافیہ صدیقی کی رہائی کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تحریک انصاف فیصلہ کر چکی ہے کہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ کا تشخص ملنا چاہیے، ہماری خواہش ہے کہ جنوبی پنجاب ترقی کی راہ میں آئے، یہ خطہ ہمیشہ سے ترقی میں پیچھے رہا ہے، آئندہ مالی سال میں جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی پنجاب صوبہ کے لئے پہلے مرحلے میں ایک سیکٹریٹ قائم کیا جائے گا، سیکٹریٹ بنانے سے لوگوں کے مسائل ان کے گھر میں حل ہوں گے، جنوبی پنجاب کے لئے بجٹ میں ترقیاتی پروگرامز کے لئے حصہ رکھا جائے گا۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد