حکمران ریاست مدینہ کے نام پر عوام کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں،ہم کسی بھی غیر ملکی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے:مولانا فضل الرحمن

حکمران ریاست مدینہ کے نام پر عوام کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں،ہم کسی بھی غیر ...
 حکمران ریاست مدینہ کے نام پر عوام کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں،ہم کسی بھی غیر ملکی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے:مولانا فضل الرحمن

  

مظفر گڑھ (ڈیلی پاکستان آن لائن)جمعیت علمائے اسلام (ف)اور متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولا نا فضل الرحمن نے کہا ہےکہ حکمران ریاست مدینہ کے نام پر عوام کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں لیکن یہ دھوکے اب نہیں چلیں گے،حکومت نے 100 دنوں میں ملکی کرنسی اور معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا ،مہنگائی دو سو فیصد تک بڑھ گئی ،وزیر اعظم کو آرمی چیف کتنا چلائے گا؟اب تو وہ بھی تھک گئے ہیں،مسئلہ ختم نبوتﷺ،نظریہ پاکستان اور آئین کے خلاف کوئی غیر ملکی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے ،کرتار پور کوریڈور کھول کر بھارت کو پاکستان میں مداخلت کے براہ راست راستے اور  جواز فراہم کئے جا رہے ہیں۔

مظفر گڑھ میں ناموس رسالت ﷺ ملین مارچ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ مدینے کی ریاست کے نام پر لوگوں کو دھوکے مت دو، اپنے چہرے دیکھیں یہ مدینہ کی ریاست بنانے والے نہیں، ایسی شکلوں سے مدینہ کو شرم آجاتی ہے،ہم نے جنرل ضیا الحق کے خوشنما اسلامی نعروں کو بھی  سناتھا جس نے ریفرنڈم بھی کرایا ، تم مدینہ کی ریاست کے نام پر اب قوم کو ان  دل فریب نعروں سے دھوکہ نہیں دے سکتے ،عمران خان حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب سکولز، کالجز اور یونیورسٹیوں  میں قادیانی اور عیسائی ٹیچرز ناظرہ قرآن اور اسلامیات پڑھائیں گے،کراچی ،سکھر ،لاہور ،پشاور اور جنوبی پنجاب کی عوام نے ملین مارچ میں فیصلہ دے دیا ہے،ہم کسی بھی غیر ملکی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے ،  27 جنوری کو ڈیرہ اسماعیل خان میں تحفظ ناموس رسالتﷺ  ملین مارچ ہوگا جس میں لاکھوں افراد شرکت کر کے حکومتی پالیسیوں کے خلاف فیصلہ دیں گے۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ کرتار پور راہداری سے بھارت نے لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے،پاکستانی حکمران نام لیتے ہیں سکھوں کا اور بات کرتے ہیں قادیانیوں کی ،یہ قادیان سے ربوہ کو ملانے کی سازش ہے،کرتار پور کوریڈور کھول کر بھارت کو پاکستان میں مداخلت کے براہ راست راستے اور  جواز فراہم کئے جا رہے ہیں،ہمیں بتایا جائے یہ قصہ کیا ہے ؟پاکستان سکھو ں کو راستہ دے رہا ہے جب کہ افغانستان قبائل کو راستہ دے رہا ہے،کیا آج کی حکومت اور سٹیبلشمنٹ نے پاکستانی فیڈریشن کو تباہ اور پاکستان کو توڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے؟آج ہمیں بتایا جائے کہ اس قوم کو کدھر لیجایا جا رہا ہے؟مسئلہ پاکستان کا ہے ،مسئلہ ختم نبوت ﷺ کا ہے ،مسئلہ مدارس کی سالمیت کا ہے ،مسئلہ پاکستان کے نظریئے ،آئین اور اسلامی دفعات کا ہے ،ہم اس کو نظر انداز نہیں کر سکتے ،ملک بھر کے عوام نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ہم اس ایجنڈے کو نہیں چلنے دیں گے،ہم بین الاقوامی دباؤ میں کئے گئے فیصلوں کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے مسترد کرتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہکس طریقے سے پاکستان کی معیشت کو تباہ کر دیا گیا ،تم نے دس سال نئی نسل کو  یہ اعتماد دلایا کہ پاکستان کی معیشت تباہ ہو رہی ہے ،ہم اقتدار میں آئیں گےاور تبدیلی لائیں گے ،ملکی معیشت کو ٹھیک کریں گے ،ہم دنیا سے بھیک  نہیں مانگیں گے ،باہر نوکریوں کے لئے نہیں جانا پڑے گا ،باہر والے پاکستان میں نوکریاں کریں گے لیکن آج نتیجہ یہ نکلا کہ وہ روپیہ جو نواز شریف کی حکومت کے آخری دن تک ڈالر کے مقابلے میں  106روپے تک مستحکم رہا آج صرف تین مہینے کے اندر اندر  وہ روپیہ 145 تک چلا گیا ،پاکستانی کرنسی کا بیڑہ غرق کر دیا اور آج بھیک مانگ مانگ کر ان کا منہ ٹیڑھا ہو چکا ہے اور حکمران در بدر پھر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چین جائے گا تو پہلے آرمی چیف جائے گا ،سعودی عرب جائے گا تو پہلے آرمی چیف جائے گا ،متحدہ عرب امارات جائے گا تو پہلے آرمی چیف جائے گا ،کرتار پور راہداری کھولنے کے لئے پہلے آرمی چیف جائے گا،وزیر اعظم عمران خان کو آرمی چیف کتنا چلائے گا؟مہنگائی دو سو فیصد تک بڑھ گئی ہے ، ہم ڈٹے رہیں گے اور حکومت کا مقابلہ کریں گے۔

مزید : قومی