لاہور میں بھی کراچی کا منظر

لاہور میں بھی کراچی کا منظر

  



کراچی کے بعد لاہور بھی گندگی سے دو چار ہو گیاا ور میڈیا (الیکٹرونک) نے یہاں جمع ہوئے کوڑے اور گندگی کے ڈھیروں کو کچرہ کنڈی کا نام دے دیا ہے۔ لاہور میں کوڑا کرکٹ اٹھانے کا کام ایک کمپنی کرتی ہے اور اس کے عوض صوبائی حکومت سے معاہدے کے مطابق معاوضہ لیتی ہے۔ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی گزشتہ کئی ماہ سے خسارے کا شکار ہے اور اپنے کارکنوں کو تنخواہ بھی نہیں دے پا رہی۔ کمپنی کے مطابق صوبائی حکومت کی طرف سے مقررہ رقم ادا نہیں کی جا رہی۔ آج 22 دسمبر ہے اور تین دن بعد 25 دسمبر کرسمس کا تہوار ہے۔ اس موقع پر سینٹری ورکرز کو پیشگی تنخواہ ادا کر دی جاتی ہے، لیکن کمپنی تو گزشتہ ماہ کی تنخواہ بھی ادا نہیں کر پائی۔ اس سلسلے میں کمپنی نے تین ارب روپے کا فوری مطالبہ کیا ہے، جو ادا نہیں ہو سکا، چنانچہ کمپنی کی طرف سے کام بند کر دیا گیا اور کوڑا کرکٹ نہیں اٹھایا گیا، جس سے مختلف آبادیوں میں کوڑے دان بھر جانے کے باعث کوڑا اردگرد پھیل چکا ہے۔ تکنیکی طور پر کمپنی دیوالیہ ہو گئی ہے۔ لاہور اور پنجاب کے دوسرے دو تین بڑے شہروں میں صفائی اور کوڑا ٹھکانے لگانے کا کام کمپنی کے سپرد ہے، جو دوست ملک ترکی کی ہے۔ پنجاب کے شہری ہر ماہ باقاعدگی سے صفائی ٹیکس ادا کرتے ہیں کہ واسا یہ پانی کے بلوں کے ساتھ وصول کرتا ہے، جسے روکا بھی نہیں جا سکتا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ جن محلے والوں نے گھریلو کوڑا اٹھوانے کے لئے نجی لوگوں کو لگایا ہوا ہے اور ان کو ماہانہ ادائیگی کرتے ہیں، وہاں سے کوڑا اٹھا لیا جاتا ہے اور لوگ گلی بھی صاف کرا لیتے ہیں، لیکن مجموعی طور پر صورت حال بدتر ہو چکی ہے۔ پہلے بھی صفائی کی صورت حال قابل رشک نہیں تھی، اب تو برا حال ہو چکا ہے اور ہرجگہ تعفن پھیل گیا ہے۔ جن علاقوں میں ڈھیر لگ چکے ہیں، وہاں برا حال ہے۔ یہ لمحہ فکریہ ہے اور عوام کا مطالبہ ہے کہ پنجاب حکومت فوری توجہ دے، اگر ادائیگی کے باعث یہ صورت حال ہے تو یہ فوراً کی جائے اور اگر کچھ دوسرے معاملات ہیں تو ان سے نمٹا جائے۔ شہریوں کو اس نئی پریشانی سے نجات دلائی جائے۔

مزید : رائے /اداریہ