قدرتی گیس کی شدید قلت

قدرتی گیس کی شدید قلت

  



سردی میں اضافے کے ساتھ ہی ملک بھر میں گیس صارفین ایک اور پریشانی سے دو چار ہو گئے ہیں۔ کراچی سے پشاور تک قدرتی گیس میں شدید کمی واقع ہوئی اور چولہے بھی نہیں جل پا رہے، چہ جائیکہ گیزر اور ہیٹر جلائے جائیں۔ کراچی اور سندھ کے دوسرے بڑے شہروں میں سی این جی سٹیشن بند کرنا پڑے، پھر بھی فائدہ نہ ہوا تو اب ملک بھر میں صنعتوں کی گیس بند کر کے گھریلو صارفین کو سہولت دینے کی کوشش کی گئی جو کامیاب نہیں ہو سکی اور گیس کمپنی نے بارہ بارہ گھنٹے کی گیس شیڈنگ شروع کر دی ہے، لوگ روٹی تک نہیں پکا پا رہے۔ گیس کی قلت کے باعث ایل پی جی مہنگی ہو گئی اور کئی علاقوں میں قلت بھی ہے۔ جلانے کی لکڑی اور کوئلے تو پہلے ہی گراں ہو چکے ہیں، اب لوگ مٹی کے تیل کے چولہے جلانے پر مجبور ہیں اور مہنگا تیل جلا کر آلودگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ماضی میں بھی یہ صورت حال پیدا ہوتی رہی ہے اور سابق وزیر اعظم اور حکومت نے ایل این جی منگوائی تھی تو گیس کمپنیوں کا دعویٰ تھا کہ قلت نہیں ہو گی،لیکن ایسا نہ ہوا اور اب گیس کی لوڈشیڈنگ بھی جاری ہے، لوگوں کی پریشانیاں کم ہونے میں نہیں آ رہیں۔ صارفین نے احتجاج بھی شروع کر دیا ہے۔ گیس کمپنیاں حکومت کی اجازت سے گیس کے نرخ بڑھاتی چلی جا رہی ہیں، اب پھر بڑھا دیئے گئے ہیں۔ ایسا تھوڑے عرصے میں دوسری بار ہوا ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ قلت فوراً دور کی جائے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...