بھارت کی تازہ جارحیت

بھارت کی تازہ جارحیت

  



لائن آف کنٹرول کی بگڑتی صورت حال پر وزیر اعظم عمران خان نے سخت رد عمل کا اظہار کیاہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت باز نہ آیا تواس جنگی جنون پر اسے منہ توڑ جواب دیں گے۔وزیر اعظم نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ مودی کا ایجنڈا فاشزم ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کوبھی خبردار کیا کہ اگر بھارت نے فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے پاکستان پر کوئی ملبہ ڈالنے کی کوشش کی توبھارت کو منہ توڑ جواب دینے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہو گا۔

بھارت نے ایک بار پھر لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی شروع کر دی ہے۔ ہفتے کی شب بھارتی فوج نے بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی،آبادی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 2 عام شہری شہید ہوگئے۔بھارتی میڈیااس دوران حسب معمول طرح طرح کے دعوے کرتا اوربے پر کی اڑاتا رہا۔ اس نے دعویٰ کیاکہ بھارتی فوج نے وادیئ نیلم میں دہشت گردوں کے کیمپ پر حملہ کر کے اسے تباہ کر دیا ہے، بلکہ بھارتی میڈیا تو اس بات پر بھی مصر رہا کہ بھارتی فوج نے وادیئ کیرن پر قبضہ کر لیا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس پروپیگنڈے کا ٹوئٹر کے ذریعے پیغام میں توڑ کیا کہ وادیئ نیلم یا کیرن میں فائرنگ کا زیادہ تبادلہ نہیں ہوا، یہ سب انڈین میڈیاکی دروغ گوئی ہے۔ اس سے قبل بھی بھارت متعدد بار پاکستان میں دہشت گردوں کے کیمپ پر سرجیکل سٹرائیک کے جھوٹے دعوے کر چکا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی بتایا کہ ایل او سی پر بھارت کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں ہو ئیں، جن کا ”جیسے کو تیسے کی صورت“منہ توڑ جواب دیا گیا۔ فائرنگ کے جواب میں پاک فوج نے جارحانہ انداز اپنایا جس سے بھارتی فوج کی کئی چیک پوسٹیں تباہ ہو گئیں اوربھارتی فوجیوں کی ہلاکت کی بھی اطلاع آئی۔

چند روز قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی حرکات کو مد نظر رکھتے ہوئے اقوام متحدہ کو خط کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ ایل او سی پرپانچ جگہ سے خار دار تار کاٹ دی گئی ہے جو ہمارے حریف ملک کی بد نیتی کا ثبوت ہے اور چند ہی روز میں ثابت بھی ہوگئی،بھارت یقینا اس کارروائی کی منصوبہ بندی میں ہی مصروف تھا۔ بھارتی آرمی چیف بھی پاکستان کو دھمکی دے چکے تھے۔ ”الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے“ کی عملی مثال بنتے ہوئے سارا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی تھی کہ پاکستان سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے جس کی وجہ سے لائن آف کنٹرول پر صورت حال شدت اختیار کر سکتی ہے۔

اس سال کے آغاز میں بھی بھارت پاکستا ن پر حملے کی ٹھانے بیٹھا تھا، اس نے پلوامہ حملے کو بنیاد بنا کر پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی، لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا، یوں لگتا تھا کہ اب جنگ شروع ہوئی کہ ہوئی۔اس کے ان حربوں کاپاک فوج نے بھرپور مقابلہ کیا اوربالآخر بھارت کو منہ کی کھانا پڑی۔پاکستان نے اپنی فضائی حدود بند کر دیں،فضائیہ کے جوانوں نے بھارتی طیارہ مار گرایا،پائلٹ ابھی نندن کو حراست میں بھی لے لیا،قیدی ہونے کے باوجودپاکستان نے اس کے ساتھ بہترین سلوک کیا اور پھرخیر سگالی جذبے کے تحت رہا کر کے بھارت کو اخلاقی و سفارتی سطح پر شکست دی لیکن بھارت پر اس کا کوئی خاطر خواہ اثر نہ ہوا اور وہ اپنی روش پر قائم رہا۔

بھارت معلوم نہیں کون سی دنیا میں رہ رہا ہے،اس کے اپنے اندرونی حالات بدسے بدتر ہوتے جا رہے ہیں، پھر بھی وہ پاکستان کے خلاف محاذ کھڑا کرنا چاہتا ہے۔بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف مظاہرے جاری ہیں، فساد ہو رہے ہیں، جھگڑے ہو رہے ہیں اور ان کا دائرہ پورے ملک میں پھیل چکا ہے۔بہار، اتر پردیش میں حالات کشیدہ ہیں، سکول کالج بند ہیں،انٹر نیٹ بند ہے،اور اب بھارتی حکام نے مظاہرین کی زمینیں ضبط کرنا شروع کر دی ہیں اور اپنے میڈیا کو ان کی کوریج سے روکنے کی کوشش بھی شروع کر دی ہے۔اس سے قبل آئین میں ترمیم کر کے مقبوضہ کشمیر کو مزید مقبوضہ بنانے کی کوشش بھی کی جا چکی ہے۔کشمیر کو دہلی کی غلامی میں لے کر کشمیریوں سے سارے حقوق چھین لئے، ابھی تک کرفیو نافذ اور کاروبار زندگی معطل ہے۔پاکستان نے ہر قومی اور بین الاقوامی فورم پر اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پوری شدت سے مسئلہ کشمیر کے معاملے کا حل تلاش کرنے پر زور دیا، دنیا کے ضمیر کو جھنجوڑنے کی کوشش کی۔ ان کی اس تقریر نے ہر انسان کے دل پر اثر کیا، لیکن بھارتی حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔

بھارتی اقدامات سے صاف ظاہر ہے کہ وہ مسلمانوں کی نسل کشی پر تلا بیٹھا ہے، اس کے سیکولر ہونے کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔اس کا بھیانک چہرہ پوری دنیا کے سامنے ہے لیکن اس کا راستہ روکا نہیں جا رہا۔ دنیا بھر میں موجود انسانی حقوق کی تنظیمیں اور امن و بھائی چارے کی تسبیح پڑھتے ممالک عملاً آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔بھارت ایک کے بعد ایک حرکت ایسی کرتا جا رہا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ درندگی کی کوئی حد نہیں ہے،وہ منہ زور بھینسے کی مانند اپنے آپے سے باہر ہو چکا ہے، لگتا ہے طاقت کے نشے میں بد مست حکمرانوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بالکل ہی ختم ہو چکی ہے، وہ اس طرح اپنی تباہی کا سامان کر رہا ہے۔پاکستان کبھی بھی اس کی سامراجی اور بالا دستی کا خواب پورا نہیں ہونے دے گا۔پاکستان امن کا خواہاں ضرور ہے اور اس کی ہر ممکن کوشش ہے کہ معاملات بات چیت کے ذریعے طے کئے جائیں، لیکن اگر وہ اپنی روش پر گامزن رہا اور اس نے جنگ مسلط کرنے کی کوشش جاری رکھی تو پھر نتائج کی ذمہ داری بھی اسی کی ہو گی۔بین الاقوامی طاقتیں اور ادارے بروقت حرکت میں آئیں اور دنیا کے امن کو درپیش خطرات کا ازالہ کریں۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...