ہم کہاں کھڑے ہیں؟

ہم کہاں کھڑے ہیں؟
ہم کہاں کھڑے ہیں؟

  



قیام پاکستان اور ہجرت کے فوری بعد بانیء پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ نے بر صغیر کے مسلمانوں کو حیاتِ نو کا سبق دیا۔ انہیں اپنا کاروبار کرنے، فیکٹریاں لگانے اور اپنے پاؤں پرکھڑا ہونے کی تلقین کی۔ وسائل کی قلت کے با وجود کاروبار ی طبقے نے قائداعظمؒ کے فرمان پر عمل کیا۔ مختصر وقت میں ہنرآشنا ئی کا بھرپور ثبوت دیا، متعدد فیکٹریاں اور کارخانے لگا اور چلا لیے۔نو زائیدہ مملکت خداداد پاکستان کے مسلمان تاجروں اور صنعتکاروں کا دنیا کے سامنے یہ پہلاتعارف تھا۔اس کے بعد ملک میں کاروبار ی ادارے بنتے اور چلتے رہے۔ کاروباری طبقے نے اسے بڑھانے اور چلانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ جب کبھی اس میں سست روی یا بندش کی صورت پیدا ہوئی، صرف حکمرانوں کی مصلحت اندیشیوں نااہلیوں یا غلط پالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہوئی۔اس امر کا ذکر بھی ضروری ہے کہ وطن عزیز پر جب کبھی جنگ، سیلاب یا زلزلے کی شکل میں مشکل وقت آیا، تاجروں اور صنعتکاروں نے وسائل سے بڑھ کر ملک و قوم کی مدد کی۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران ملک و قوم کے لئے قربانی و جاں نثاری کا موسم بہار جوبن پر تھا۔ بھارتی فوج لاہور کی ایک کلب میں صبح کا ناشتہ کرنے کا ناپاک ارادہ لئے حملہ آور ہوئی تھی، جوابی وار میں پاک فوج کے سامنے ٹھہرنہ سکی، ایسے دم دبا کر بھاگی کہ اپنا سلحہ پکڑنا بھی بھول گئی۔

شہیدوں کا معطر خون، مرد و خواتین کو اگلے مورچوں کی طرف کھینچ رہا تھا۔ دلیری و بے خوفی کا یہ عالم تھاکہ بچے چھتوں پر کھڑے ہوکر بھارتی جہازوں کا پیچھا کرتے پاک فوج کے شاہینوں کو دیکھتے اور لطف اندوز ہوتے تھے۔منع کرنے کے باوجود عام لوگ کھانا لے کر بلا خوف و خطراگلے مورچوں پر پہنچ جاتے تھے۔ماحول کی پاکیزگی کی یہ کیفیت تھی کہ منافع خوری، ملاوٹ اور چوری چکاری ایسی انسانی کمزوریاں آن واحد میں ختم ہوگئیں،۔ دکھ درد بانٹنے اور مہرو محبت سے رہنے کا چلن عام ہوا۔جنگ کی وجہ سے نقل مکانی ایسی تکلیفوں کو بھول کرلوگ پاک فوج کی کامیابیوں اور کامرانیوں کے ترانے گانے اور نعرے لگانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ جنگ کے بعد بھی جب کبھی پاک فوج کا کوئی دستہ کسی بستی یا گاؤں سے گزرتا، لوگ انہیں ہار پہناتے اور مٹھائی کھلائے بغیر جانے نہیں دیتے تھے۔ یہی موقع تھا جب دنیا کو پاک فوج کا پہلا تعارف ہوا اور ورطہ ء حیرت میں ڈال دیا۔ اپنے سے بڑی اور اسلحے سے لیس فوج کو ذلت آمیز پسپائی پر مجبور کیا۔ سیاست دانوں کی نااہلیوں، اقتدار کے لئے باہمی لڑائی جھگڑوں اور پیدا کردہ معاشی ناہمواریوں کی وجہ سے 72 برس کی تاریخ میں متعدد بار فوج کو اقتدار اپنے ہاتھ میں لینا پڑا۔اس حقیقت سے انکار کی گنجائش نہیں کہ پاکستان کی سلامتی اور حفاظت میں پاک فوج کا کردار عظیم الشان ہے۔اس کی قربانیوں اور عظیم الشان کردار کو ہر شخص سلام کرتا ہے،۔اس لئے پاکستان کا ہر شخص چاہتا ہے کہ پاک فوج یا اس کا سپہ سالار کسی موقع پر موضوع بحث ہرگز نہ بنے اورپاک فوج یا اس کے سپہ سالار کے لئے چاہتوں کے جذبوں کی ہمیشہ ریل پیل رہے۔

حکمرانوں اور سیاست دانوں میں حرص و آز اور اقتدار کے لئے رسہ کشی نے ہمیشہ معاشرے اور کاروباری ماحول کو خراب کیا ہے۔ کاروباری افراد نے خون پسینہ ایک کرکے کاروبار چلائے اور کارخانے لگائے، لیکن حکمرانوں نے اپنی غلط پالیسیوں اور بعض اوقات قومیانے کے نام پر کاروبار چھین کر متعلقہ افراد کو بے دست و پا کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔دنیا نے دیکھا کہ ایک عوامی حکومت نے مالکان سے کارخانے اور فیکٹریاں چھین کر بیورو کریسی کے حوالے کردیں،پھر جلد ہی ایسی فیکٹریاں یا کارخانے سکریپ بن گئے اور ملک و قوم کا اربوں روپے کا سرمایہ مٹی ہو گیا۔ عوام کے نام پر ہزاروں افراد کو بے روزگار کردیا گیا۔ بڑی مشکل اور دن رات کی عرق ریزی کے بعد صنعتکاری کو پٹڑی پر چلایا جا سکا۔بیورو کریسی کے کل پرزوں کوجب بھی موقع ملتا ہے، کاروباری افراد کو زک پہنچانے اور کاروبار کو نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کرتے۔ ٹیکس حکام اس سلسلے میں ہمیشہ پیش پیش ہوتے ہیں۔ان کا پیدا کردہ خوف و ہراس کاروباری افراد کے رگ و ریشے میں سرایت کر چکا ہے۔ جب تک خوف کے سارے سوراخ پوری بند نہیں کئے جاتے، اس وقت تک کاروبار اور ٹیکس میں خوشدلانہ ماحول پیدا نہیں ہو سکے گا۔موجودہ دور میں ایک زیادتی یہ ہوئی ہے کہ خزانہ، سٹیٹ بینک اور ایف بی آر اہم محکمے بیرونی افراد کے ہاتھوں میں دے دیئے گئے، جنہیں کاروبار بڑھنے یا گھٹنے سے کوئی سروکار نہیں۔انہیں سروکار ہے تو صرف آئی ایم ایف کے قرض کی واپسی سے ہے۔یہی وجہ ہے کہ آئے روز بجلی اور گیس کے نرخوں میں بے تحاشا اضافہ کیا جا رہا ہے۔کاروباری طبقہ بار بار دہائی دے رہا ہے کہ مہنگی ترین بجلی اور گیس سے تیار ہونے والی مصنوعات عالمی منڈیوں میں فروخت نہیں ہو سکیں گی۔ براہ کرم ان بار بار کے اضافوں کو واپس لیا جائے، لیکن شاید حکومت کی بیرونی معاشی ماہرین کے سامنے دال نہیں گلتی،اس لئے ضروری ہے کہ بیرونی غیر منتخب ماہرین کی بجائے ملکی منتخب افراد سے استفادہ کیا جائے۔ انہیں یقینی طور پر نفع نقصان کی صورت میں درد ہوگا۔ عوام کے سامنے جواب دہی کا خوف بھی دامن گیر رہے گا۔

مزید : رائے /کالم