امریکہ کی دھمکیاں اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام

امریکہ کی دھمکیاں اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام
امریکہ کی دھمکیاں اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام

  



شیر بلا شبہ شیر ہوتا ہے، نہ ڈرتا ہے اور نہ کسی کے دباؤ میں آتا ہے۔ کوئی ملک اپنے شیروں کی وجہ ہی سے عظیم بنتا ہے۔ پاکستان اگر آج عالم اسلام کی واحد اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت ہے تو ایٹمی پروگرام شروع کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو اورایٹمی دھماکے کرکے باضابطہ ایٹمی طاقت بنانے والے میاں نواز شریف کی وجہ سے ہے۔یہ دونوں میدان میں ڈٹے رہے اور کسی عالمی طاقت کی دھمکیوں کو خاطر میں نہ لائے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور میاں نواز شریف نے ہر طرح کا دباؤ برداشت کیا، لیکن شیر کی طرح ڈٹ کر کھڑے رہے۔ذوالفقار علی بھٹو کو امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے لاہور آکر دھمکی دی تھی: ”اگر تم نے ایٹمی پروگرام ختم نہ کیاتو ہم تمہیں عبرت کا نشان بنا دیں گے “…… ذوالفقار علی بھٹو جانتے تھے کہ امریکہ محض دھمکی نہیں دے رہا، لیکن وہ شیر کی طرح ڈٹ کر کھڑے ہوگئے اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام نہ صرف شروع کیا، بلکہ اسے اپنی جان پر کھیل کر جاری رکھااور پھانسی پر چڑھ گئے۔یہ ہوتا ہے شیر، جو ملک کی خاطر اپنی جان قربان کر دیتا ہے، لیکن میدان چھوڑ کر نہیں بھاگتا۔ میاں نواز شریف کو ایٹمی دھماکوں سے منع کرنے کے لئے اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن نے پانچ ٹیلی فون کئے، لیکن پاکستان کے شیردل وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اس کا جواب چھ ایٹمی دھماکے کر کے دیا۔میاں نواز شریف نے اپنی جرات کی قیمت قید و بند اور جلا وطنی کی صورت میں ادا کی۔ عوام نے انہیں تین مرتبہ وزیر اعظم منتخب کیا، لیکن وہ ایک بار بھی اپنی مدت پوری نہ کر سکے۔ یہ ہوتا ہے شیر، جو ملک کی خاطر جیل چلا جاتا ہے یا جلا وطن ہو جاتا ہے، لیکن میدان چھوڑ کر نہیں بھاگتا۔ بے نظیر بھٹو نے پاکستان کو میزائل ٹیکنالوجی سے لیس کیا تو انہیں بھی جلا وطن ہونا پڑا، حتیٰ کہ ملک میں جمہوریت کی خاطر اپنی جان قربان کر دی،لیکن وہ بھی ڈٹ کر میدان میں کھڑی رہیں۔ آج ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی میں پاکستان اپنے دشمن سے آگے ہے تو اس کا سہرا ان تینوں کے سر جاتا ہے۔ پاکستان کی بقا اس کے ایٹمی طاقت ہونے میں ہے، جس کی وجہ سے بھارت، اسرائیل اور امریکہ پاکستان کی سلامتی پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کرتے۔ پاکستان اگر ایٹمی طاقت نہ ہوتا تو کب کا عالمی ریشہ دوانیوں کا شکار ہو چکا ہوتا۔ یہ ممالک پاکستان کے خلاف ففتھ جنریشن وار تو لڑ سکتے ہیں، اپنے ایجنٹوں کے ذریعے اندرونی خلفشار بھی پیدا کرسکتے ہیں، دہشت گردی سے معصوم شہریوں کو نشانہ بھی بنا سکتے ہیں،لیکن ایک ایٹمی طاقت پر حملہ کرنے کی جسارت نہیں کر سکتے۔

اس کے مقابلے میں کمزور آدمی معمولی سے دباؤ پر میدان چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے اور اپنی کمزوری کے بہانے تراشتا ہے۔یہی رویہ پرویزمشرف نے اس وقت اختیار کیا جب امریکہ کی جانب سے یہ دھمکی دی گئی کہ ”ہم پاکستان کو پتھر کے دور میں پہنچا دیں گے“…… ان سے زیادہ بہادر تو ذوالفقار علی بھٹو تھا جو ہنری کسنجر جیسے امریکی وزیر خارجہ کی دھمکیوں سے نہیں ڈرا، یا پھر میاں نواز شریف تھا کہ جتنی کالیں امریکی صدر نے کیں، اس سے زیادہ ایٹمی دھماکے کر کے دکھائے۔

جنرل پرویز مشرف کے بعد اب ویسا ہی رویہ وزیر اعظم عمران خان نے اختیار کیا،جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے کہنے پر ملائشیا میں ہونے والی سربراہی کانفرنس میں شریک ہونے سے انکار کردیا۔ عمران خان جب سے سیاست میں آئے ہیں، مسلسل ملائشیا کے وزیر اعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد سے اپنی عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں۔ وزیراعظم بننے کے بعد بھی وہ ہر موقع پر مہاتیر محمد کی مثال ضرور دیتے ہیں۔ کوالا لمپور سربراہی کانفرنس میں ملائشیا، ترکی، ایران، قطر اور پاکستان کے سربراہان نے شرکت کرنا تھی، جس میں سب سے اہم ایجنڈا مسلم ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون اور ترقی تھا، تاکہ دوسروں پر انحصار کی بجائے مسلمان اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں اور ترقی یافتہ ممالک بنیں،یعنی کشکول توڑیں اور بھیک مانگنے کی بجائے عزت سے رہیں اور ترقی کریں۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد کے علاوہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان بھی اس کانفرنس کے روح رواں تھے۔ عمران خان جب سے اقتدار میں آئے ہیں، ان دونوں لیڈروں کی عظمت اور ویژن کے گن گا رہے ہیں، لیکن جب عملی اقدامات کا وقت آیا تو میدان چھوڑ کر بھاگنے کو ترجیح دی۔عمران خان کے اس یوٹرن پر ڈاکٹر مہاتیر محمد کا ردعمل تو کافی مدبرانہ تھا، لیکن صدر رجب طیب اردوان اپنے غصے پر قابو نہ پا سکے۔ پاکستان کے ساتھ ترکی سے زیادہ محبت کسی اور ملک میں نہیں کی جاتی۔ 70 سال میں آج تک وہاں کبھی کوئی مضمون پاکستان کے خلاف نہیں چھپا تھا۔ اب عمران خان کے اس فیصلے کے بعد وہاں کا میڈیا بھی اپنے صدر کی طرح غم و غصے کی حالت میں نظر آتا ہے۔ پچھلے ایک ڈیڑھ سال میں عمران خان نے ملائشیا اور ترکی سے تعلقات مضبوط بنانے کی جو بھی کوششیں کی تھیں، ان سب پر پانی پھر چکا ہے۔ ترکی کے سرکاری میڈیا نے بھی صدر رجب طیب اردوان کے غصے کے حوالے سے کافی تفصیل دی ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب نے اس بات سے ہی انکار کر دیا ہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان نے عمران خان کو کوئی دھمکی دی ہے۔

میڈیا میں یہ بات زیر بحث ہے کہ محمد بن سلمان نے عمران خان کو دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے کوالا لمپور کا رخ کیا تو سعودی عرب میں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کو زبردستی واپس بھیج کر ان کی جگہ بنگلہ دیش سے افرادی قوت منگوا لی جائے گی، دوسرے یہ کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے قومی خزانے میں جو پانچ ارب ڈالر ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کے لئے رکھوائے ہوئے ہیں، واپس لے لئے جائیں گے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سعودی سفارت کار درست کہہ رہے ہیں، کیونکہ راتوں رات چالیس لاکھ لوگ واپس بھیج کر ان کی جگہ کسی اور ملک سے لوگ نہیں منگوائے جا سکتے…… صدر رجب طیب اردوان کا غصہ درست ہو یا غلط اور سعودی سفارت کاروں کی تردید درست ہو یا غلط، یہ بات تو ثابت ہو چکی ہے کہ عمران خان دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ان کے اس فیصلے سے پاکستان کی بہت بد نامی ہوئی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پی ٹی آئی کی حکومت سب سے زیادہ بھکاری ثابت ہوئی ہے جو سوا سال کے عرصے میں سولہ ہزار ارب روپے قرض لے چکی ہے اور ملک کے بائیس کروڑ عوام کو آئی ایم ایف جیسے عالمی ساہوکار کے ہاتھوں گروی رکھ چکی ہے۔عمران خان کی بات بات پر یو ٹرن لینے کی عادت اتنی پختہ ہو چکی ہے کہ اب وہ عالمی تعلقات میں بھی بہت آسانی سے یو ٹرن لے لیتے ہیں۔ سب کو یاد ہے کہ چار سال قبل جب سعودی عرب نے یمن پر حملے شروع کئے تھے تو پاکستان کو اپنی مدد کے لئے فوج بھیجنے کے لئے کہا تھا، لیکن اس وقت بھی وزیر اعظم میاں نواز شریف نے ایک دلیرانہ فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان کو اس پرائی جنگ میں جھونکنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ اس وقت بھی سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی روزگار کما رہے تھے، لیکن میاں نواز شریف دھمکیوں کے باوجود سعودی اور اماراتی دباؤ کے آگے نہیں جھکے تھے۔

پی ٹی آئی کے سپورٹرز کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ سوا سال ہو گیا، وہ حکومت کی تمام غلطیوں کے جواز تراشتے اور بحث کرتے رہتے ہیں، جبکہ وزیر اعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کے اکثر ممبران تکبر کا شکار ہیں۔ اس طرح تو حکومت کو اپنی خامیوں کی نشاندہی کرنے اور غلطیوں کو دور کرنے کا موقع ہی نہیں ملے گا اور وہ غلطیوں پر غلطیاں کرتی جائے گی، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ عمران خان کی سیاست حرف غلط کی طرح مٹ جائے گی۔ سعودی ولی عہد کے دباؤ میں آکر عمران خان نے کوالا لمپور سربراہی کانفرنس میں نہ جا کر غلطی کی ہے، جس کا خمیازہ پاکستان کو بھگتنا پڑے گا۔پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات دیرینہ اور یک جان دو قالب کی حد تک دوستانہ ہیں، جن میں دونوں ممالک نے سینکڑوں بار ایک دوسرے کی بھرپور مدد کی ہے، خاص طور پر ماضی کے بادشاہوں شاہ فیصل، شاہ خالد اور شاہ عبداللہ وغیرہ کے زمانے میں پاکستان اور سعودی عرب ہر لحاظ سے ایک ہی تھے۔ موجودہ ولی عہد محمد بن سلمان غالباً ناتجربہ اور ضرورت سے زیادہ جارحانہ پن کی وجہ سے رواداری کو وہ اہمیت نہیں دیتے جو دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کا خاصہ رہی ہے۔ کوالا لمپور کانفرنس میں تمام فوکس اقتصادی تعاون اور معاشی ترقی پر تھا جو پاکستان کے لئے بھی بہت اہم تھا۔اب خود انحصاری کی بجائے ہمارا انحصار سعودی اور اماراتی امداد یا آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکجوں پر مزید بڑھ جائے گا۔ عمران خان نے اس بات کا بھی لحاظ نہیں کیا کہ اقوام متحدہ میں کشمیر کے مسئلے پر ملائشیا، ترکی اور ایران چٹان کی طرح پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے، جبکہ باقی تمام اسلامی ممالک بشمول سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نہ صرف بھارت کے ساتھ تھے، بلکہ انہوں نے نریندر مودی کو اپنے ملک کے سب سے بڑے اعزازات سے بھی نوازا تھا۔

مزید : رائے /کالم