سیاسی کھیل تماشے

سیاسی کھیل تماشے
سیاسی کھیل تماشے

  



اب بلاول بھٹو زرداری غلامی کا ایک نیا نظریہ لے آئے ہیں کہ وہ سیاسی کٹھ پتلی کی غلامی نہیں کرنا چاہتے…… تو کیا پھر اس کی غلامی کرنا چاہتے ہیں جس نے بقول ان کے سیاسی کٹھ پتلی کو بنایا ہے؟ میرے نزدیک تو یہ سب سیاسی کھیل تماشے کا حصہ ہے۔ وہ کھیل تماشہ جو کسی نہ کسی شکل میں ہمارے ہاں جاری رہتا ہے…… بلاول بھٹو زرداری سے امید تھی کہ وہ سیاسی کھیل تماشے کا حصہ نہیں بنیں گے اور سیاست کے سنجیدہ پہلوؤں کی طرف آئیں گے، مگر وہ بھی اسی رنگ میں رنگے گئے ہیں …… کہاں گئے وہ مولانا فضل الرحمن جو بڑے دھوم دھڑکے سے میدان میں آئے تھے اور بلاول بھٹو زرداری بھی ان کے تماشوں سے متاثر ہو کر ان کے کنٹینر پر جا کھڑے ہوئے تھے۔ موقع کی تلاش میں رہنے والے کوئی بڑا کام کیسے کر سکتے ہیں؟ اس وقت بلاول بھٹو زرداری مولانا فضل الرحمن کو سیاسی امام مان کر ان کے پیچھے جا کھڑے ہوئے تھے، اب ان کا نام بھی نہیں لیتے…… اتنی بڑی سیاسی جماعت جب ایک مذہبی پس منظر رکھنے والے سیاستدان کے پیچھے جا کھڑی ہوتی ہے تو اصل تماشہ وہ خود کرتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کو کٹھ پتلی کہہ کہہ کر بلاول بھٹو زرداری کی زبان خشک ہو گئی ہے…… کیا اس کا کوئی فائدہ بھی ہوا؟ کیا کوئی فرق پڑا یا صورت حال جوں کی توں ہے؟…… سندھ میں کوئی بڑی تبدیلی نظر آتی یا لوگ کتوں کے کاٹنے سے نہ مر رہے ہوتے، تو بلاول بھٹو زرداری کے لئے کہیں زیادہ اچھا ہوتا۔ کٹھ پتلی کی غلامی سے نجات کا دعویٰ خوشنما سہی، مگر اس کا عوام کے مسائل سے کیا تعلق؟ یہ غلامی تو عوام کے مسائل کی وجہ نہیں، اصل وجہ تو وہ غلامی ہے جو اُن کے حصے میں بُری حکومت، کرپشن، نا انصافی اور سہولتوں کی عدم فراہمی کے باعث آئی ہوئی ہے۔

نجانے کون سا ایسا جادو گر ہے جو روزانہ بیٹھ کر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ عوام کو کس نئے تماشے میں الجھانا ہے؟ اصل مسائل پر توجہ دینے کو کوئی تیار نہیں، سب تماشوں سے لیس ہو کر میدان میں آتے ہیں، پھر کچھ دن بعد پتہ چلتا ہے کہ جس بات کا بڑا شور تھا، وہ تو ایک تماشے کے سوا کچھ بھی نہیں تھی۔ حیرت ہے کہ اب کوئی بھی حکومت کے جانے کی بات نہیں کر رہا، حالانکہ گزری ہوئی کل تک اپوزیشن کا ہر بندہ یہی پیش گوئی کر رہا تھا۔ بعض تو یہ تک کہہ رہے تھے کہ حکومت کو ایک دن بھی مزید دیا گیا تو ملک برباد ہو جائے گا۔ اب وہی منہ میں خاموشی کی گولیاں ڈال کر کسی نئے تماشے کی تلاش میں ہیں۔ آخر کیا ہوا ہے کہ سب حکومت کو گھر بھیجنا بھول گئے ہیں؟ …… لایعنی بیانات سے اپنی سیاست کو زندہ رکھنے والے اس ملک کی کیا خدمت کر رہے ہیں؟ کیا عوام کی ترجمانی بس یہی ہے کہ حکومت کو کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ کہہ کر وقت گزارا جائے؟ کیا عوام کو درپیش ایشوز پر دھرنے نہیں ہو سکتے، جلوس نہیں نکل سکتے؟ سب سے بڑا اور نا ممکن مطالبہ کر کے اور باقی سب مسائل پر مٹی ڈال کر سیاست کرنے کا وتیرا عوام کے ساتھ مذاق کے سوا کچھ نہیں، مگر یہ سلسلہ ڈھٹائی کے ساتھ جاری ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ حکومت کو اس کے دعوے یاد دلائے جائیں، انہیں پورا کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جائے، اسمبلی میں ان وعدوں کے حوالے سے تحاریک پیش کی جائیں، عوام کے سامنے حکمرانوں کو ایکسپوز کیا جائے، لیکن ایسا تو کچھ بھی نہیں ہوتا، بس ایک ہی گردان جاری رہتی ہے…… حکومت سلیکٹڈ ہے، حکمران کٹھ پتلی ہیں۔ صاف لگتا ہے کہ ایسا صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے کیا جاتا ہے، عوام کے مسائل سے ان کا دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔

کہتے ہیں شکر خورے کو شکر مل جاتی ہے، یہی حال حکومت اور سیاستدانوں کا بھی ہے۔ عوام مہنگائی اور بُری حکومت کے دو پاٹوں میں پس رہے ہیں، لیکن ان کی باری ہی نہیں آتی اور کچھ ایسا ہو جاتا ہے کہ ساری توجہ اس کی طرف مبذول ہو جاتی ہے۔ اب تو یہ چہ میگوئیاں ہونے لگی ہیں کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے، اس کے پس پردہ کسی منصوبہ بندی کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ایک کے بعد دوسرا واقعہ پوری قوم کو ایک سمت سے دوسری سمت میں لے جاتا ہے۔ اس کی گونج اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ اس کی آڑ میں کئی عوام دشمن کام بآسانی کر لئے جاتے ہیں۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) صرف ایک ہدف لے کر نکلی ہوئی ہیں کہ حکومت کو گھر بھیجنا ہے۔ گھر کیسے بھیجنا ہے؟ اس بارے میں کچھ پتہ نہیں …… دونوں مل جائیں تو آج گھر بھیج سکتی ہیں کہ دونوں اتنی عددی اکثریت ضرور رکھتی ہیں، مگر ملنا بھی نہیں اور گھر بھیجنے کی گردان بھی جاری رکھنی ہے۔ جلسے ہو رہے ہیں، دھواں دھار تقریریں کی جا رہی ہیں، لیکن ان تمام سرگرمیوں سے عوام کو کیا ریلیف مل رہا ہے؟ اس پر غور کرنے کو کوئی تیار نہیں …… غور کیا جائے تو اس وقت پاکستانی سیاست مکمل طور پر جمود اور بے سمتی کی شکار ہے۔

اپوزیشن کی باتیں سنیں تو لگتا ہے کہ ملک میں شاید کوئی غیر آئینی حکومت قائم ہے، جس کا جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں اور جو اسمبلی کو بھی نہیں چلنے دے رہی۔ اس سے ایک تاثر تو یہ اُبھرتا ہے، جیسے ملک میں کوئی مضبوط حکومت آ گئی ہے، جو اپوزیشن کو بھی خاطر میں نہیں لا رہی…… مگر دوسری طرف جب اسی حکومت کو بلاول بھٹو زرداری اور دیگر زعماء کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ کہتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے۔ پھر تو یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ پارلیمینٹ کے اندر اس حکومت کے خلاف آواز اٹھائی جائے اور جواب مانگا جائے کہ وہ منتخب ہونے کے باوجود کٹھ پتلی کا کردار کیوں ادا کر رہی ہے؟کتنے ہی معاملات تعطل کا شکار چلے آ رہے ہیں، حتیٰ کہ چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تقرری کا معاملہ بھی طے نہیں ہو رہا۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف لندن میں برا جمان ہیں اور وہیں بیٹھ کہ وزیر اعظم کے کٹھ پتلی ہونے کا شکوہ کر رہے ہیں۔ یہ بھی ایک تماشہ ہے کہ آپ منظر سے غائب ہو جائیں اور یہ توقع رکھیں کہ اپوزیشن آپ کے بغیر اپنا بھرپورکردار ادا کرتی رہے گی۔ تھوڑی سی سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والا بھی یہ جانتا ہے کہ ملک میں اس وقت سیاست کی بجائے کھیل تماشے ہو رہے ہیں۔ ان کھیل تماشوں میں مختلف واقعات کا تڑکا لگ جاتا ہے تو ان کا مزا دو آتشہ ہو جاتا ہے۔ کبھی کسی عدالتی فیصلے اور کبھی پی آئی سی جیسے واقعہ پر وہ ہنگامہ برپا ہوتا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ جب سے پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ آیا ہے، سیاست میں بھونچال بھی آیا ہوا ہے۔ جنہوں نے یہ مقدمہ بنایا، وہ بھی چپ رہنا چاہتے ہیں اور جنہوں نے یہ کہا تھا پرویز مشرف کو اس غداری پر کڑی سزا ملنی چاہئے، وہ بھی اس فیصلے کی مخالفت کر کے سپریم کورٹ میں فریق بننا چاہتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری اس معاملے میں بھی مار کھا گئے ہیں اور جنرل پرویز مشرف کے خلاف اکبر بگٹی اور اپنی والدہ کے مقدمات کا حساب مانگتے ہوئے یہ بھول گئے کہ پرویز مشرف کو گارڈ آف آنر دے کر پیپلزپارٹی نے باہر بھیجا تھا۔ گڑے مُردے اکھاڑنے سے گریز کرنا چاہئے، کیونکہ ان میں کوئی مردہ اپنا بھی نکل آتا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...