کالم لکھنے والوں کے مسائل!

کالم لکھنے والوں کے مسائل!
کالم لکھنے والوں کے مسائل!

  



بہت کم پڑھنے والوں کو معلوم ہوتا ہے کہ کالم لکھنے والوں کے مسائل کیا ہیں۔ اب تک کوئی ”گیلپ اینڈ گیلانی سروے“ نہیں کیا گیا کہ ملک کی 22 کروڑ آبادی میں کتنے لوگ پرنٹ میڈیا کے بالعموم اور اخبارات کے بالخصوص باقاعدہ قاری ہیں۔ کتنے قومی زبان کے میڈیا کے پڑھنے والے ہیں، کتنے علاقائی زبانوں کے اور کتنے ایک بین الاقوامی زبان (انگریزی) کے قاری ہیں۔ کتنے لوگ ہیں جن میں اب وہ مالی سکت باقی رہ گئی ہے کہ 50 روپے کا کوئی انگریزی اخبار خریدیں اور اس کا بالا لتزام مطالعہ کریں۔ کتنے پڑھنے والوں کو یہ فرصت میسر ہے کہ وہ کسبِ روز گار کے جھمیلوں سے وقت نکالیں اور اس طرح کے مہنگے اخباروں سے کوئی ایسی خبر اخذ کریں جو ان کے کسی دکھ کا علاج ہو۔ کوئی سروے یہ نہیں بتا سکتا کہ پرنٹ میڈیا کے پڑھنے والوں کی ہمدردیاں کس گروہ، طبقے یا گروپ کے ساتھ ہیں۔ اگر میں نون لیگ کے لئے نرم گوشہ رکھتا ہوں تو آپ شائد پیپلزپارٹی کے جیالے ہوں، میرا دوست کسی مولانا کا اسیر گیسو ہو تو آپ کسی شوبز والی کی اداؤں پر فریفتہ ہوں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اخبار والے ان سب گروہوں، طبقوں اور گروپوں کا خیال رکھتے ہیں۔ سیاسیات تو خیر ہر اخبار والے کا پیشہ ورانہ موضوع ہے لیکن اخبار کا مالک اس موضوع کے ساتھ ساتھ شوبز، کھیل کھلاڑی، دین و ایمان، شعر و ادب، صنعت و تجارت، زراعت و آبپاشی اور تعلیم و صحت والوں کا بھی خیال رکھتا ہے۔ یہ اخبار گویا ہمہ ذائقہ معجونِ اسطخودوس اور اطریفلِ زمانی ہے۔!

اخباروں میں مضمون لکھنے والے کو کالم نویس بھی کہا جاتا ہے۔ آپ اسے خود ستائی نہ سمجھیں تو میں یہ کالم خود اپنے ہی بارے میں لکھ رہا ہوں۔ میرا سب سے مشکل مسئلہ یہ ہے کہ کس موضوع پر لکھوں اور کونسی فیلڈ کا انتخاب کروں۔ سیاسیات تو ایک بحرِ ذخار ہے، اس کو ایک طرف رکھ کر کسی دورسے موضوع کی طرف آؤں تو جو مسئلہ درپیش ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ کس فیلڈ کا انتخاب کروں۔ سیاست کے علاوہ ہر فیلڈ ایک اختصاصی فیلڈ ہے۔ یہ نہ سمجھ لیجئے کہ میں سیاست کو آسان فیلڈ سمجھ رہا ہوں۔ ایسا ہرگز نہیں۔ سیاست میں بھی ایک عمر گنوانی پڑتی ہے تب کہیں جا کر اس کی تاریخ کے چیدہ چیدہ خدو خال سامنے آتے ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی سوسائٹی کوئی ترقی پذیر سوسائٹی نہیں اور نہ ترقی یافتہ معاشروں سے کم سطح کا کوئی معاشرہ ہے۔ میری نظر میں پاکستانی معاشرہ ایک لحاظ سے ایک ترقی یافتہ معاشرہ ہے۔ ہماری سوسائٹی صرف سکولوں اور کالجوں میں پڑھنے والے معاشرے سے اٹھ کر تشکیل نہیں پاتی بلکہ ہمارے ان پڑھ اور نیم خواندہ پاکستانی بھی ماشاء اللہ سیاسیات کے موضوع پر اگر عالم فاضل نہیں تو جاہل اور اجڈ بھی نہیں کہے جا سکتے۔

میں نے 30 برس فوج کی ملازمت کی ہے اور ملک کے ہر صوبے اور حصے میں گھوما پھرا ہوں۔ ایسے علاقے بھی دیکھے ہیں جن کی اکثریت بالکل نیم خواندہ سی تھی لیکن جب ان سے بات چیت کی اور سیاست کا موضوع زیر تبصرہ آیا تو معلوم ہوا کہ میرا مخاطب مجھ سے اگرچہ کم پڑھا لکھا ہے لیکن کم با خبر نہیں۔ اس کی زبان ضرور دیہاتی ہو گی، اس کے محاورے اور ضرب الامثال بھی وہ نہیں ہوں گی جو میں نے ترقی یافتہ زبانوں کی تحصیل کے دوران پڑھی ہیں لیکن ان کے محلِ استعمال اور موضوع زیر بحث کی تفہیم میں اس نیم خواندہ شہری کا اتنا ہی حصہ ہوگا، جتنا خود میرا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہنا چاہوں گا کہ سیاست کو اگر بطور مضمون کسی تعلیمی ادارے میں نہ بھی پڑھا جائے تو پاکستانی معاشرے میں اس کی دانست کا معیار دنیا کے کئی معاشروں سے بہتر ہوگا۔ مجھے باہر کے کئی ممالک میں جانے کا اتفاق بھی ہوا ہے۔ ان کا ایک عام خواندہ شہری، سیاسیات کے موضوع پر زیادہ با خبر نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسیات کی جو مبادیات ایک پاکستانی دیہاتی کو از بر ہوتی ہیں وہ کسی غیر ملکی پڑھے لکھے شہری کے نصیب میں بھی نہیں ہوتیں۔……

برطانیہ، جرمنی اور فرانس کو اگر یورپ کے نقشے سے نکال دیں تو باقی یورپی ممالک اس طرح کی سیاسی تفہیم سے آگاہ نہیں جس طرح کی سمجھ بوجھ ہم پاکستانیوں کو ہے۔ امریکہ دنیا کا امیر ترین اور شائد خواندہ ترین معاشرہ شمار ہوتا ہے لیکن وہاں کا عام شہری اتنا زیادہ بیدار مغز ”سیاست زدہ“ نہیں ہوتا جتنا ہمارا پاکستانی شہری ہے۔ وہاں سیاسیات کی پیچیدگیوں کی تفہیم اس لئے بھی مشکل ہے کہ وہاں کے تعلیمی اداروں یا بازاروں یا گھروں میں سیاسیات کا موضوع ڈسکس ہی نہیں کیا جاتا۔ ان کے ٹی وی پروگرام اور ٹاک شوز جو بالعموم کثرت سے دیکھے جاتے ہیں ان میں سیاست کی کوئی لمبی چوڑی تفصیل نہیں بتائی جاتی۔ یہی حال چین، روس اور وسط ایشیائی ریاستوں کا ہے۔ یہ شرف صرف برصغیر کے شہروں اور دیہاتوں کو حاصل ہے کہ وہاں گزشتہ تقریباً پون صدی سے سیاسیات ایک غالب موضوع تصور ہوتا چلا آ رہا ہے۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ ہم پاکستانیوں کے لئے یہ رجحان طبع نقصان دہ ہے یا فائدہ مند ہے لیکن تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس رجحانِ طبع کا آغاز پہلی عالمی جنگ کے دور میں شروع ہوا تھا۔

دنیا کی پہلی عالمی جنگ 1914ء میں شروع ہوئی اور 1918ء میں ختم ہو گئی۔ لیکن اس جنگ میں ایک خاص بات یہ ہوئی تھی کہ ہندوستان کے فوجیوں کو پہلی بار سمندر پار جا کر لڑنا پڑا تھا۔ وہ ہزاروں دیسی ٹروپس جو یورپ اور مشرق وسطیٰ کے محاذوں پر جا کر لڑتے رہے، وہ عسکری اعتبار سے کچھ زیادہ تجربہ کار اور جنگجو ٹروپس نہیں تھے۔ جدید سلاحِ جنگ کا استعمال بھی ان ہندوستانی ٹروپس نے پہلی بار دیکھا تھا۔ ٹینک، طیارے، بکتر بند گاڑیاں، بحری جنگی جہاز اور آبدوزیں ان ہندوستانی سپاہیوں (آفیسرز شامل) کو پہلی بار دیکھنے کو ملی تھیں۔ ان ہتھیاروں اور ان کی کارکردگی کی تاثیر جن جنگی نتائج پر منتج ہوئی تھی اس نے ہندوستانی سپاہ کی آنکھیں کھول کر رکھ دیں۔ اور جب 1918ء میں وہ لوگ واپس ہندوستان آئے تھے تو وہ اپنے ساتھ نہ صرف جدید جنگ کی ابجد ساتھ لائے بلکہ جدید عالمی سیاسیات کی ابجد بھی ان ہی کے توسط سے ہندوستان کی پبلک کے حصے میں آئی۔ جمہوریت کا مفہوم کیا ہوتا ہے، آزادی کی برکات کیا ہیں اور غلامی کے اثراتِ بد کا مفہوم کیا ہے ان معاملات کا عرفان ہندوستانی مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں کو 1918ء سے لے کر 1939ء تک کے درمیانی دو عشروں میں ہوا۔ اور پھر جب ستمر 1939ء میں دوسری جنگ عظیم کا آغاز ہوا اور اس میں بھی برطانوی حکومت کو لاکھوں برٹش انڈیشن آرمی ٹروپس کی ضرورت پیش آئی تو یورپ، ایشیاء اور افریقہ کے کئی محاذوں پر ہندوستانیوں کو جا کر لڑنا پڑا۔

میں اس دور کی تاریخِ جنگ آپ کو نہیں بتانا چاہتا، صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ برصغیر کے باسیوں کو آزادی کا ٹیکہ سب سے پہلے خود انگریز نے (بذریعہ جنگ) لگایا۔ ہمارے ہاں آزادی کے جو ہندوستانی جاں نثار، سپوت، شاعر، سکالر اور مقرر وغیرہ پیدا ہوئے اور ہم جن کو آج شمعِ حریت کے پروانے گردانتے ہیں وہ انہی دو عالمی جنگوں کے بالواسطہ اثرات کے رہیں احسان ہیں …… حضرت جناح، گاندھی اور نہرو اور ان کے علاوہ جو درجنوں سیاسی اکابرین 1945ء کی جنگ عظیم کے دوران یا اس کے خاتمے پر منصہء شہود پر نظر آتے ہیں، ان کے سیاسی افکار پر ان جنگوں نے بہت اثر ڈالا۔ …… لیکن یہ ”ٹیکہ“ صرف اور صرف ہم برصغیر کے باسیوں کو لگا دوسرے مغربی یا ایشیائی ملکوں کے وہ لوگ جو ان جنگوں میں شریک ہوئے، مارے گئے یا بچ گئے وہ ان جنگوں سے بہت پہلے ایسی ہی دوسری کئی جنگوں سے گزرے تھے۔ ان کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ وہ اقوام ہم سے اس ذیل میں کہیں ”سینئر“ تھیں اور ہم ان کے ”جونیئر ترین“ مقلد (Immitaters) تھے …… میرے نزدیک یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ سیاسیات سے زیادہ ”محبت“ نہیں کرتے تھے۔ اور ہم چونکہ لیلیء سیاست کے زلفوں کے نئے نئے اسیر ہوئے تھے اس لئے سیاسیات سے محبت ہماری اور ہماری آنے والی نسلوں کی رگ و پے میں سرائت کر گئی۔ اور یہی اثرات آج ہم اپنی موجودہ نسل میں بھی دیکھ رہے ہیں۔

مغربی معاشروں کو معلوم ہے کہ جنگ، سیاسیات ہی کی توسیع کا نام ہے۔ اور بقول کلازوٹز جب کوئی مسئلہ سیاست کاری یا سفارت کاری کے ذریعے حل نہیں ہوتا تو اس کا کوئی اور طریقہ بجز میدانِ جنگ میں کودنے کے، کوئی اور نہیں رہتا۔ اس جنگی سرگرمی کی خونریزی، ان مغربی ممالک نے 19 ویں اور 20 ویں صدی کی جنگوں میں خوب خوب دیکھ لی تھی۔ کروڑوں انسانوں کی موت اور اربوں انسانوں کی جراحت ان جنگوں کا براہِ راست تلخ ثمر تھی اس لئے وہ لوگ دوسری عالمی جنگ کے آخری تین دنوں کے ہولناک جوہری تجربے کو دیکھنے کے بعد براہِ راست جنگی تصادموں سے گریزاں بلکہ تائب ہو گئے۔

لیکن جنگ و جدال کا جذبہ تو انسان کی فطرت میں رکھ دیا گیا ہے۔ ہابیل اور قابیل کی لڑائی اس امر کا ثبوت ہے کہ حضرتِ آدم کی پہلی نسل ہی جنگ سے ”فیضیاب“ ہو گئی تھی اور پھر تادمِ تحریر ہوتی چلی آئی ہے۔ لہٰذا اگر آج کا لکھاری صرف سیاسیات پر لکھتا ہے تو وہ آدھی حقیقت کا شارح ہے اور دوسری آدھی کو بھی واشگاف نہیں کرتا۔ میں اسی وجہ سے ایک طویل عرصے سے لکھتا چلا آ رہا ہوں کہ ہم لکھاریوں کو سیاست سے آگے نکل کر اس کے دوسرے نصف رخ کو بھی دیکھنا چاہئے۔ اس دوسرے رخ کے اتنے پہلو اور اتنی اطراف و جوانب ہیں کہ ان پر دوسری اقوام تو مسلسل لکھتی آئی ہیں لیکن ہم پاکستانی اس طرف توجہ نہیں ”فرماتے“…… ہمارا معاشرہ صرف سیاست زدگی کا شکار رہتا ہے اور اس سے اوپر نہیں اٹھتا۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم زندگی کے نصف ِ اول یعنی سیاسیات کے موضوع سے اوپر اور آگے نکل کر زندگی کے نصف دوم یعنی جنگ کی کوئی تفصیل بھی احاطہ تحریر میں لائیں۔ میری نگاہیں ترس گئی ہیں کہ کوئی ایسی تحریر کسی پاکستانی بھائی کی طرف سے لکھی دیکھوں جس میں جنگ کی پروفیشنل باریک بینیاں، موشگافیاں، نزاکتیں اور ادائیں ہوں تاکہ ہم اس قتالہء عالم کے جسمانی خدو خال ا ور اخلاقی خیر و شر سے بھی آگاہ ہوں۔ مجھے خبر نہیں میرے کالم نگار پیٹی بھائیوں کے دوسرے مسائل کیا ہیں لیکن خدا کے لئے صرف سیاست ہی کو اوڑھنا، بچھونا نہ بنائیے۔ سال میں ایسے موسم بھی آتے ہیں جب تیز و تند ہوائیں چلتی ہیں اور یہ اوڑھنیاں اور بچھونے ہوا میں اڑ کر انسان کو برہنہ کر دیتے ہیں۔ برہنگی کے اس پہلو کو اگر آج ہم لکھنے والے فراموش کئے رکھیں گے تو کبھی نہ کبھی توموسم بدلے گا، جھکڑ چلیں گے اور اوڑھنے، بچھونے اس طوفانِ باد و باراں کے بگولوں میں اڑ کر ہمیں ننگا تو کر جائیں گے…… خدارا اس آنے والی برہنگی کی نقشہ کشی بھی کریں اور معاشرے کو بتائیں کہ ایسی صورتِ حال سے کیسے نمٹنا ہے!

مزید : رائے /کالم