یادِ ماضی

یادِ ماضی

  



تحریر:حافظ محمد ادریس(نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان)

بچپن عموماً سنہری کہلاتا ہے، جب کہ شباب فولادی شمار ہوتا ہے۔ گزرے ہوئے ان ادوار کو یاد کرنا کبھی خوشگوار لگتا ہے اور گاہے سوگوار کر دیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ وقت کبھی رُکتا نہیں اور انسان مسلسل اپنی منزل کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے۔ جب ریٹائرمنٹ کی عمر آتی ہے تو ماہرینِ عمرانیات کہتے ہیں کہ انسان معاشرے میں اپنا رول ادا کر چکا ہوتا ہے۔ اسلامی نقطہئ نظر سے جب تک اعضا کام کرتے رہیں، انسان ریٹائر نہیں ہوتا۔

راقم کو بھی اپنا دورِ طالب علمی اسلامی جمعیت طلبہ کے ساتھ گزارنے کا موقع ملا۔ جمعیت لاکھوں دیگر نوجوانوں کی طرح میری بھی عظیم محسن ہے۔ جمعیت نے لا تعداد نوجوانوں کو شیطانی تہذیب سے بچا کر پاکیزہ ماحول فراہم کیا۔ بہت سارے نوجوان دورِ طالب علمی کے بعد زندگی کے آخری لمحے تک اس پاکیزہ روِش پر قائم رہے۔ یہی خوش قسمت لوگ ہیں۔ ایک بڑی تعداد نے جمعیت سے بہت کچھ اخذ کیا، مگر عملی زندگی میں داخل ہو کر اُس میں سے بیشتر خصوصیات کھو کر نفعِ عاجلہ کے لیے بازار میں اپنا بھاؤ لگوا لیا۔ یہ اللہ کی طرف سے مقدر ہوتا ہے کہ کون نفع میں رہے گا اور کون گھاٹا کھائے گا مگر یہ فیصلہ کرنے کا اختیار انسان ہی کو دیا گیا ہے۔اللہ سے ہمیشہ راہِ مستقیم پر استقامت کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔

میں طالب علموں کی زندگی پر غور کرتا ہوں تو ہر طالب علم مجھے ویسے ہی نظر آتا ہے جیسے میرا دورِ طالب علمی گزرا، حالانکہ تمام انسانوں کے اپنے اپنے ذاتی حالات و واقعات، اپنی اپنی نوعیت میں خاص ہوتے ہیں۔میرے خیال میں ہر طالب علم جو سکول کے بعد کالج میں داخل ہوتا ہے، محسوس کرتا ہے کہ اگرچہ وہ ایک تعلیمی ادارے سے دوسرے تعلیمی ادارے ہی میں منتقل ہوا ہے مگر ماحول، فضا اور معمولاتِ شب و روز میں خاصا فرق اور تفاوت ہوتا ہے۔ مجھ جیسے جو طالب علم دیہات سے شہروں میں آتے ہیں، ان کو یہ فرق زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ شہری بابوؤں کے نزدیک ”پینڈو“ اور دیہاتی و دھقانی طالبان علم آدابِ زندگی اور سلیقہئ معاشرت سے بے گانہ ہوتے ہیں جبکہ دیہاتی طلبہ کو عین الیقین ہوتا ہے کہ ان کے شہری ہم جولی محض شوخے پن، اوچھی حرکات اور نمائش و دکھاوے کے مادھو ہیں۔ میرے خیال میں اس حوالے سے دونوں جانب افراط و تفریط پائی جاتی ہے۔ نہ ہر دیہاتی بھولا بھالا اور بے شعور ہوتا ہے اور نہ ہی ہر شہری محض ریاکاری و ملمع سازی کا مریض! دونوں جانب صفاتِ عالیہ بھی پائی جاتی ہیں اور شخصیت کی کمزوری و جھول بھی نظر آجاتا ہے۔ انسانِ کامل نہ یہ ہوتے ہیں، نہ وہ۔ پھر دونوں کا مقابلہ و موازنہ کیا جائے تو کمالاتِ اخلاق و معاشرت، حسنِ سیرت اور سلیقہ شعاری میں کوئی دیہاتی اعلیٰ نظر آتا ہے تو کوئی شہری ارفع۔

میں ایک چھوٹے سے صاف ستھرے گاؤں چک میانہ کا باشندہ، ایک اور چھوٹے سے خوب صورت گاؤں چنن کے ملت ہائی سکول سے میٹرک کا امتحان بہت امتیازی نمبروں سے پاس کرکے 1963ء کے ماہِ ستمبر میں عازم لاہور ہوا۔ اس سے پہلے ایک آدھ مرتبہ لاہور دیکھ چکا تھا مگر پھر بھی یہ شہر میرے لیے اجنبی ہی تھا۔ میرے استاد محترم کنور سعید اللہ خاں صاحب نے راہ نمائی فرمائی کہ میں گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لوں اور ہاسٹل میں مقیم ہو کر اپنی تعلیم بی اے تک مکمل کروں۔ میرے ایک ہم جماعت اور دوست میاں محمد عثمان تھے۔ ان کا آبائی تعلق تو ہمارے علاقے ہی سے تھا مگر ان کے باپ دادا کافی عرصہ قبل بھلوال ضلع سرگودھا کے ایک چک میں مقیم ہوگئے تھے۔ محمد عثمان کے بہت قریبی رشتے دار چنن گاؤں میں مقیم تھے اور وہ اپنے انھی رشتہ داروں کے ہاں رہ کر تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ کنور سعید اللہ خاں صاحب اور خود محمد عثمان کی خواہش تھی کہ موصوف بھی اسی کالج میں داخلہ لیں جہاں میں داخلہ لوں۔ ہم دونوں فارم داخلہ جمع کرانے لاہور آئے۔ فارم حاصل کیے اور اپنے سرٹیفکیٹس کی کاپیاں منسلک کرکے ایف اے میں داخلے کے لیے جمع کراکے واپس چلے گئے۔ کالج دفتر کے کلرک صاحبان نے بتایا کہ آپ فلاں تاریخ کو آکر بورڈ پر دیکھ لیجیے کہ آپ کا داخلہ ہوا یا نہیں۔ مجھے یہ عجیب لگا، ہمارا داخلہ بھی کوئی مشکوک ہے؟ تاہم محمد عثمان قدرے پریشان ہوگیا۔ ہم بس کے ذریعے واپس روانہ ہوئے۔ دوران سفر میں نے اس کا دل بہلانے کی کوشش کی اور رات گئے ہم گھر پہنچ گئے۔

تاریخِ مقررہ پر ہم لاہور آئے تو بورڈ پر آرٹس کے طلبہ کی فہرست میں میرا نام سرفہرست تھا، تاہم محمد عثمان کا نام جی سی میں نہ آسکا۔ وہ بہت پریشان ہوا۔ کنور سعید اللہ خاں صاحب ہمارے استاد اور مربیّ ہی نہیں بلکہ بے تکلف دوست بھی تھے۔ ہمیں انھوں نے بتایا تھا کہ اگر جی سی میں داخلہ نہ ہوا تو اسلامیہ کالج میں کوشش کرنا۔ لاہور میں جی سی کے بعداس کالج کا نام آتا ہے۔ اس زمانے میں اسلامیہ کالج کے ریلوے روڈ کیمپس میں انٹر اور سول لائنز میں بی اے، بی ایس سی کی کلاسیں ہوا کرتی تھیں۔ عثمان نے جب رونا دھونا شروع کر دیا تو مجھے استادِ محترم کی راہ نمائی یاد آئی۔ میں نے اس سے کہا کہ کوئی بات نہیں چلو اسلامیہ کالج چلتے ہیں اور تمھارے ساتھ میں بھی وہیں فارم داخل کرادوں گا۔ چنانچہ ہم نے اسلامیہ کالج میں داخلہ فارم جمع کرادیے۔ یہاں مقررہ تاریخ پر ہم دونوں کا نام آگیا۔ اب ہوا یہ کہ محمد عثمان لاہور جانے کے لیے آمادہ ہی نہ ہوسکا۔ اس دوران جی سی کی تاریخ گزر گئی اور مجھے مجبوراً اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں داخلہ لینا پڑا۔ یہاں سے دو سال بعد بی اے میں داخلے کے لیے میں گورنمنٹ کالج آیا اور دو سال یہاں صرف کیے۔ ایک دلچسپ لطیفہ بھی یاد آگیا۔ محمد عثمان نے زمیندار کالج گجرات میں اپنی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا۔ پتا نہیں کہاں تک پڑھا مگر کچھ عرصہ بعد موصوب جرمنی سدھار گئے۔ اب سال ہا سال سے وہیں مقیم ہیں، جرمن شہری اور خوشحال پاکستانی ہیں۔ جب بھی ملتے، میں ازراہِ مذاق ان سے کہتا ”بھگوڑے بھائی کیا حال ہے؟“ وہ بھی خوب ہنستے اور محظوظ ہوتے۔ چار پانچ سال قبل جب میرا بیٹا ہارون ادریس جرمنی میں پی ایچ ڈی کر رہا تھا تو مجھے یورپ کے سفر کے دوران جرمنی جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ جرمنی کا میرا دوسرا یا تیسرا سفر تھا۔ محمد عثمان برلن سے دور ایک شہر میں مقیم ہے۔ ہمارا اس شہر جانے کا بھی پروگرام بنا۔ وہاں ایک بڑی جامع مسجد میں شام کے وقت ایک اجتماع تھا جو بہت ایمان پرور تھا۔ محمد عثمان نے آگے بڑھ کر استقبال کیا۔ میں نے وہی فقرے دہرائے جو اوپر نقل کیے ہیں۔ حسب معمول عثمان ہنستا رہا مگر ہارون کو قدرے تعجب ہوا۔ میں نے اس کے سوال پر اسے بتایا کہ موصوف اس کے چچا ہیں اور پھر سارا واقعہ سنایا تو وہ بھی کھلکھلا کر ہنسا۔ یوں زندگی میں کئی محبوب دوستوں نے کئی گل کھلائے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1