پیپلز پارٹی غریب لوگوں کے گھر گرانے کے عمل کیخلاف ہے، ٰ نثار کھوڑو 

پیپلز پارٹی غریب لوگوں کے گھر گرانے کے عمل کیخلاف ہے، ٰ نثار کھوڑو 

  



لاڑکانہ(این این آئی) محکمہ آبپاشی کی جانب سے ممکنہ طور پر تجاویزات مسمار کرنے کے خلاف رائیس کینال کے دونوں اطراف رہائش پذیر شہریوں نے مرد اور خواتین کے ہمراہ جناح باغ چوک پر احتجاجی مظاہرہ کرکے دھرنا دیا جس میں وزیراعلیٰ سندھ کے صوبائی مشیر نثار احمد کھوڑو، جی ڈی اے کے رکن سندھ اسمبلی معظم علی عباسی و دیگر نے اظہار یکجہتی کے طور پر شرکت کرکے انہیں یقین دہانی بھی کروائی، اس موقع پر علاقہ مکینوں عبدالقادر اہیر، ڈاکٹر سلیم میرانی و دیگر کا کہنا تھا کہ ہم سالوں سے رائیس کینال کے دونوں اطراف گھر بناکر رہائش پذیر ہیں لیکن عدالتی احکامات پر ہمیں نوٹسز دے کر گھر مسمار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس سے ہزاروں خاندان بے گھر ہونگے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ عدالتی فیصلے پرنظرثانی کرکے ہمیں بے گھر ہونے سے بچایا جائے، دھرنے سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کے صوبائی مشیر اور پی پی پی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ہم سب غریب لوگوں کے گھر گرانے کے عمل کے خلاف ہیں، چیئرمین بلاول بھٹو کی ھدایت پر عدالتی فیصلے پر نظرثانی کے لئے متاثرین کو وکیل فراھم کیا گیا ہے لوگوں کے گھر نہیں گرانے دینگے، نظرثانی فیصلے آنے تک انتظامیہ کو کسی کا بھی گھر مسمار کرنے کی کاروائی کرنے سے  روک دیا ہے کیونکہ پیپلز پارٹی گھر گرانے پر نہیں گھر فراھم کرنے پر یقین رکھتی ہے، انہوں نے کہا کہ آمر پرویز مشرف کے عدالتی فیصلے پر اس لئے غصے کا تاثر آ رہا ہے کیونکہ ایک آمر کی پہانسی کا فیصلہ سنایا گیا اور آرمی چیف کی توسیع کا کام پارلیمنٹ کے حوالے کیا گیا، عدالتی فیصلے کی پیراگراف 66کی قانونی حیثیت نہیں، پیراگراف 66 ایک جج صاحب کے صرف ریمارکس ہیں، آئین اور قانون پر عملداری اھم ہے۔ اور پرویز مشرف کی پہانسی کا فیصلہ آئین کے تحت ہے، انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی توسیع کے متعلق آئینی ترامیم کے لئے حکومت کے پاس دو تھائی اکثریت نہیں ہے، حکومت کو آئینی ترمیم کے لئے دو تھائی اکثریت حاصل۔کرنے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں سے رجوع کرنا پڑے گا، آرمی چیف کی توسیع کے متعلق پیپلز پارٹی کیجانب سے حمایت کرنے یا نہ کرنے کی بات قبل از وقت ہے جب وفاقی حکومت نے آرمی چیف کی توسیع کے متعلق رابطہ کیا تو مشاورت سے اس وقت کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ 

مزید : علاقائی


loading...