مشرف کو سزا بطور سربراہ سیاسی جماعت کے سنائی گئی، اے این پی

مشرف کو سزا بطور سربراہ سیاسی جماعت کے سنائی گئی، اے این پی

  



پشاور(آن لائن) عوامی نیشنل پارٹی نے مشرف کے خلاف فیصلے کو آئینی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشرف کو یہ سزا بطور ایک سیاسی جماعت کے سربراہ سنائی گئی ہے،اس معاملے پر اداروں کا ٹکراو غیر ضروری اور غیر مناسب ہے،تمام ادارے پاکستان کے ہیں اور اے این پی تمام اداروں کا احترام کرتی ہے لیکن کوئی بھی ادارہ آئین سے بالاتر نہیں۔ باچا خان مرکز پشاور میں شہید بشیر احمد بلور کے ساتویں برسی سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی،مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین،صوبائی صدر ایمل ولی خان اور مرکزی رہنماء حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ پرویز مشرف آئین پاکستان کو کاغذ کا ٹکڑا سمجھ کر ڈسٹ بن میں پھینکنے کی بات کرتا تھا،آج اُس کو اسی کاغذ کے ٹکڑے کی طاقت کا اندازہ ہوگیا ہوگا،پارلیمنٹ سپریم ہے،عدلیہ سمیت دیگر ادارے آئین و قانون کے تابع اور اپنے متعین کردہ دائرہ اختیار میں رہنے کے پابند ہیں۔اس موقع پر مرکزی سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ پرائی جنگ کو جہاد کہنے والوں نے تباہی دیکھ لی،چالیس سال تک فساد کو جہاد کہنے والوں کی طرف سے باچا خان،ولی خان اور اُن کے ساتھیوں سے معافی مانگ لینی چاہیے،کیونکہ چالیس سال پہلے جب باچا خان اور ولی خان نے فساد کو فساد کہہ دیا تھا تو اُن کو غدار ٹہرایا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ جنات کی تعاون سے جن کو حکومت ملی اس نے سب کچھ مزید تباہ کرلیا ہے،اے این پی پوچھتی ہے کہ چھ سالوں کے دوران پی ٹی آئی نے بی آر ٹی،مالم جبہ اور پرویز خٹک کے علاوہ کونسا تیر مارا ہے؟پی ٹی آئی حکومت نے ایکسٹینشن کے کاغذات بھی گندے کرلیے ہیں،امیر حیدر خان ہوتی نے مزید کہا کہ سیلکٹڈ حکومت اور سیلکٹرز نے ووٹ کا احترام نہ کرکے جو حکومت مسلط کی آج اُس کی حالت دیکھ لیں،بجلی،گیس کتنی مہنگی ہوئی،ڈالر کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے،انہوں نے کہا کہ ترکی،ایران اور مہاتیر نے مظلوم کشمیریوں پر ظلم کی مخالفت اور پاکستان کی حمایت کی تھی،عمران خان کے کہنے پر انہوں نے سمٹ بلایا،اب سعودی عرب کے ایک کال پر پاکستان لیٹ گیا ہے۔

اے این پی

مزید : علاقائی


loading...