پولیس ہی ظالم، پو لیس ہی مظلوم۔۔۔۔

پولیس ہی ظالم، پو لیس ہی مظلوم۔۔۔۔
پولیس ہی ظالم، پو لیس ہی مظلوم۔۔۔۔

  



راولپنڈی کے ایک انسپکٹربشارت عباسی جو Sho صادق آباد راولپنڈی تعینات تھے سی پی او راولپنڈی احسن یونس کے جارحانہ اور پرتشدد رویہ سے تنگ آکر انھوں نے ایس ایچ او شپ چھوڑ کر لائن میں حاضر رہنے کو ترجیح دی ہے۔ رپٹ میں اْس نے وجوہات بھی لکھی ہیں کہ افسران کا رویہ رینکرز سے غلاموں سے بدتر ہے صرف ذاتی پسند ناپسند کو مد نظر رکھا جا تا ہے اورجسے چاہیں جب چاہیں یہ بے عزت کر دیتے ہیں۔موصوف انسپکٹر کا کہنا ہے کہ وہ کچھ عر صہ قبل سہالہ ٹریننگ سنٹر میں تعینات تھے کہ اس دوران پولیس کا ایک اہلکار شہید ہوتا ہے جس تھانے میں شہید کا یہ واقعہ پیش آیا بعد ازاں اس کی پو سٹنگ وہاں کردی گئی، آنے سے قبل ہی ملزمان چالان ہو چکے تھے ملزمان پر جو اسلحہ ڈالا گیا خول میچ نہ کرنے پرعدالت نے انھیں باعذت بری کر دیا ہے۔ مدعی مقد مہ نے اس بارے میں سابق ڈی پی او فیصل رانا کو شکایت کی جس پر انھیں معطل کرکے انکوائری میں بے گناہ ہونے پر دوبارہ ایس ایچ اولگا دیا، احسن یونس کے چارج سنبھالنے پر مدعی دوبارہ ان کے ہاں پیش ہو ئے،سی پی او نے اپنے دفتر بلوا کر ماں بہن کی،گالیوں سے لیکربے عزت کرنے کا جو جارحانہ رویہ اپنایا وہ سوچ رہا تھا کہ یہ دن آنے سے قبل بہتر تھا کہ اسے موت آچکی ہوتی وہ روتا ہوا سی پی او آفس سے نکلا اور موت کے لیے خودکشی کا فیصلہ کرتے ہوئے اسی سوچ میں گھم تھانے پہنچ کر ایس ایچ او شپ کو خیر باد کہہ دیا۔اگربیوی بچوں کی محبت نہ تڑپائے تو شاید وہ مر ہی جائے۔ اس طرح کے واقعات سے فورس ڈی مورال ہوتی ہے احسن یونس نے ملتان میں بھی جب بطور سی پی او تعینات تھے وہاں بھی اسی طرح کا ایک ملا جلا واقعہ ایک ایس ایچ او کے ساتھ پیش آنے پر اس نے اس کی آڈیو ریکارڈنگ وائرل کردی تھی، یہ لمحہ فکریہ ہے ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں امن و امان کے خراب ہو نے کی ایک اہم وجہ پی ایس پی افسران اور رینکرزکے درمیان پیشہ وارانہ تعلقات کا فقدان ہے جس کی وجہ پولیس اصلاحات کے تمام تر وعدوں اور دعوؤں پر سوالا ت اٹھ رہے ہیں، افسران کے رویوں سے تنگ آکرماتحتوں کی خود کشیوں کے واقعات آئے روز ٹی وی چینل اور اخبارات کا حصہ بنتے رہتے ہیں۔خودکشی آخری کارروائی ہے جو آدمی اپنے ساتھ کرتا ہے۔ کوئی نہیں جان سکتا کہ اس پر کیا گزری۔ مجبوری اور بے بسی کی آخری حد پر کھڑے آدمی کو وہ خود بھی روک نہیں سکتا۔ تھانہ شمالی چھاؤنی انویسٹی گیشن کے سب انسپکٹر وارث نے بھی اس وقت کے انویسٹی گیشن کے ڈی آئی جی کی بدتمیزی ڈانٹ ڈپٹ اور گالی گلوچ سے دلبرداشتہ ہو کر اپنے تھانے میں وردی سمیت سرکاری پستول سے خودکشی کر لی تھی۔ کوئی ایک واقعہ نہیں تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ لاہور میں آنے والے افسران نے بھی آتے ہی ماتحتوں کی خوب حوصلہ افزائی کی ہے سی سی پی او نے چارج لیتے ہی داخلی ناکوں پر چھاپے مار کرکئی ملازمین کی سرزنش کے علاوہ بہت سارے اہلکاروں کو معطل کر دیا، نئے ڈی آئی جی نے متعدد تھانوں میں چھاپے مار کرایس ایچ او کی سرزنش کے ساتھ کئی ایک کو معطل اوربہت سار ے کرپٹ اور سفارشیوں کو ایس ایچ او لگادیا ہے، زراغور کریں جنہیں اب لگایا گیا ہے کیا وہ فرشتہ صفت ہیں۔ رائے بابر سعید نے جب تھانہ وحدت کالونی کا دورہ کیا تو انھوں نے ایک اچھی شہرت کے حامل انسپکٹرحسن عسکری کو جب معطل کیا تو وہ ڈی آئی جی کے سامنے کھڑے ہوکر بولے کہ انھیں ایک اعلی افسر کے قمار بازی اڈے کو بند کروانے پر ایسا کیا گیا ہے، ان کی جگہ جس انسپکٹر کو اب لگایا گیا ہے پوارا محکمہ جانتا ہے کہ اس کا بھائی پورے لا ہور کا سب سے بڑا جواریا ہے پی آئی سی واقعہ کا پیش آنا اور اب تک ان دواداروں میں ٹھراؤ نہ آنا بھی لا ہور پولیس کی کار کردگی پر سوالیہ نشان ہے۔افسران اور پولیس افسران کو میں افسران تہہ و بالا کہتا ہوں۔ ان میں سے کسی کے اندر کوئی بھلائی کی رمق ہوتی بھی ہے۔ تو وہ کچھ دنوں کے بعد بجھا دی جاتی ہے۔ کچھ لوگ تھے اور ہیں جو اس محکمے کے لئے بہتری کی خواہش تو کرتے رہے مگر انھیں موقع نہیں دیا گیا۔ تھوڑی بہت روشنی گھٹا ٹوپ اندھیرے کو شکست کس طرح دے سکتی ہے۔ مگر یہ بھی غنیمت ہے پولیس کے اندر دیکھیں وہاں ظالم بھی ہیں اور مظلوم بھی۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے موجودہ پو لیس نظام میں نقائص موجود ہیں اور محکمہ پولیس میں دو طبقے پیدا ہو چکے ہیں یعنی ایلیٹ کلاس اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افسران، اس کے برعکس برطانیہ سمیت دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں پو لیس میں بھرتی ہو نے کا ایک ہی طر یقہ کا ر ہے اور وہاں پر لو گ کا نسٹیبل بھرتی ہو تے ہیں اور چیف کا نسٹیبل کے عہدے تک پہنچ جا تے ہیں۔ وزیر اعظم اور وزیر اعلی پنجاب سے لاہور کہ باسی جاننا چاہتے ہیں کہ سانحہ پی آئی سی کے ذمہ داران پو لیس افسران کیخلاف کارروائی تاحال عمل میں کیوں نہیں لا ئی گئی۔

مزید : رائے /کالم


loading...