متحدہ لندن کے رہنماؤں انبساط ملک، بابر غوری کے گرد گھیراتنگ

  متحدہ لندن کے رہنماؤں انبساط ملک، بابر غوری کے گرد گھیراتنگ

  



کراچی(این این آئی)شہرقائد میں متحدہ قومی موومنٹ لندن کو فعال ہونے سے روکنے کے لیے حساس اداروں کی جانب سے ایک اورفیصلہ کر لیا گیاسابقہ اور موجودہ رہنما ایک مرتبہ پھرریڈار پر آ گئے متحدہ لندن کے رہنما محمد انور کے داماد انبساط ملک اور بابر غوری کی کراچی میں موجود کاروباری سرگرمیوں کی چھان بین کا آغاز کر دیا گیا آئندہ چند روز میں لندن گروپ سے تعلق رکھنے والے سابقہ اور موجودہ رہنماؤں کے غیر قانونی رقم سے کراچی میں موجود اثاثے و کاروبار ضبط کیے جائیں گے ذرائع کے مطابق کراچی سے متحدہ لندن کو بڑے پیمانے پر غیر قانونی فنڈنگ ہونے کا انکشاف سامنے آنے پر حساس اداروں کی جانب سے حکمت عملی مرتب کر لی گئی ہے جس کے پہلے مرحلے میں متحدہ لندن کے اہم رہنماں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا مسودہ تیار کیا گیا ہے اس ضمن میں گذشتہ دنوں دوران تحقیقات متحدہ لندن کے سابق رہنما انبساط ملک سے متعلق اس بات کا انکشاف سامنے آ یا ہے کہ وہ کراچی میں کیبل سسٹم کے بڑے کاروبار سے وابستہ ہیں جو صرف اور صرف بد نیتی اور متحدہ لندن کی بھاری فنڈنگ سے کھڑا کیا گیا ہے اس کاروبار کی برابر کی شراکت دار متحدہ لندن بتائی جاتی ہے جس کے تحت مذکورہ رہنما کاروباری سرگرمیوں کے لحاظ سے پارٹی کو خیر باد کہنے کے بعد بھی متحدہ لندن سے مسلسل رابطے میں ہیں جبکہ دوسری جانب بابر غوری کے دور میں نیٹی جیٹی پل کے نیچے پورٹ گرینڈ کے نام سے فوڈ اسٹریٹ قائم کرنے کے لیے کراچی پورٹ ٹرسٹ کی 13 ایکڑ سرکاری اراضی کوڑیوں کے داموں حاصل کرنے والی گرینڈ لیژر کارپوریشن (جی ایل سی)کیخلاف بھی تحقیقاتی عمل تیز کر دیا گیا ہے مذکورہ کمپنی نے لیز ملنے کے بعد قواعد کے بر خلاف ٹھیکے مختلف کمپنیوں،ریسٹورنٹس کو دیے ہیں جبکہ پورٹ گرینڈ کا ایک حصہ10 سال کے لیے متحدہ لندن سے تعلق رکھنے والے سعید بھرم کے بھا ئی عارفین کو دیا گیا ہے جس پر کاروباری سرگرمیاں تاحال جاری ہیں مذکورہ کاروبار سے حاصل ہونے والی رقم بابر غوری کو باقاعدگی سے دی جا رہی ہیں جس کے تحت تحقیقاتی اداروں نے جی ایل سی سمیت بابر غوری کے شہر قائد میں مختلف کاروبار کیخلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے آ ئندہ چند روز میں متحدہ لندن سے منسلک تمام تر عناصر کے نہ صرف کراچی میں جاری کاروبا ر ضبط کیے جائیں گے بلکہ متحدہ چھوڑ کر دوسری جماعتوں میں شمولیت حاصل کرنے والے اور نہایت کم عرصے میں وسیع کاروبار کھڑا کرنے والے دیگررہنماں کو بھی تحقیقات کے ریڈار پر لایا جائے گا۔

مزید : صفحہ آخر


loading...