چیف الیکشن کمشنر،ممبران تقرری،پارلیمانی کمیٹی کے قواعد میں ترمیم کا فیصلہ واپس،کل پھر بیٹھک،تعیناتیوں پر اتفاق رائے کا امکان

چیف الیکشن کمشنر،ممبران تقرری،پارلیمانی کمیٹی کے قواعد میں ترمیم کا فیصلہ ...

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،این این آئی) پارلیمانی کمیٹی نے چیف الیکشن کمشنر اور اس کے ممبروں کے تقرر سے متعلق اپنے قواعد میں ترمیم مسترد کردی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق  قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے اپنی ویب سائٹ پر دئیے گئے نوٹس میں کہا کہ 24 دسمبر کو ہونے والے پینل کے اجلاس میں کمیٹی کے قواعد میں ترمیم کی گئی۔ تاہم اگلے ہی دن ایک ترمیمی ایجنڈا جاری کیا گیا جس میں شق نمبر 2 کو شامل نہیں کیا گیا جو قواعد میں ترمیم سے متعلق تھا۔ذرائع نے بتایا کہ اصل ایجنڈے میں ترمیم کی وضاحت نہیں کی گئی  جوچیف الیکشن کمشنر  یا کمیشن کے کسی ممبر کے تقرر کے لیے دو تہائی اکثریت کی شرط کو ختم کرنے کے بارے میں ہے۔واضح رہے کہ پارلیمنٹری کمیٹی برائے  سی ای سی تقرر کی شق 2 اور الیکشن کمیشن رولز 2011 کے مطابق چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمیشن کے ممبر کی متوقع خالی جگہ کیلئے نامزدگی پر غور کرنے کے بعد کمیٹی کسی بھی نامزدگی کی وصولی کے 14 دن کے اندر دو تہائی اکثریت کے ذریعے نامزدگی کی تصدیق کریگی۔رولز میں ترمیم کرنے کا فیصلہ سندھ اور بلوچستان سے ای سی پی کے ممبران اور سی ای سی کے تقرر میں جاری تعطل کے بعد سامنے آیا  تاکہ سادہ اکثریت سے تقرریوں کے فیصلے کی راہ ہموار ہوسکے۔ پارلیمانی کمیٹی میں 12 ارکان ہیں جس میں حکومت اور اپوزیشن کے 6، 6 ممبران ہیں۔کمیٹی کے رکن مشاہد اللہ خان نے انکشاف کیا کہ تحریک انصاف جس ترمیم کی خواہش مند ہے وہ اپوزیشن پینل کے ممبروں کے ساتھ شیئرنہیں کی گئی۔دوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ حکومت کو مذکورہ فیصلے سے  اس وقت پیچھے ہٹنا پڑا جب حکومت کو  احساس ہوا کہ قواعد میں ترمیم کے لیے بھی دوتہائی اکثریت کی ضرورت ہے اور اس طرح مجوزہ ترمیم کی منظوری حاصل نہیں ہوسکتی  جب تک مخالف پینل کے کم از کم دو ممبران مذکورہ ترمیم کی حمایت کرنے پر اتفاق نہ کریں۔قواعد کی دفعہ 10 میں درج ہے کہ کمیٹی کو ان قواعد کی کسی بھی شق میں ترمیم کرنے کا اختیار حاصل ہوگا جس میں کمیٹی کی کل رکنیت کا دو تہائی اکثریت  ضروری ہے۔واضح رہے کہ مذکورہ عہدے رواں برس جنوری میں ای سی پی کے رکنِ سندھ عبد الغفار سومرو اور رکن بلوچستان جسٹس(ر) شکیل بلوچ کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے خالی ہیں۔5 دسمبر کو ہی وزیراعظم کی جانب سے اس عہدے پر تعیناتی کیلئے بابر یعقوب، فضل عباس مکین اورعارف خان کے نام تجویز کیے گئے تھے۔واضح رہے کہ بابر یعقوب فتح محمد اس وقت سیکریٹری الیکشن کمیشن کے عہدے پر کام کر رہے ہیں جبکہ فضل عباس مکین بھی سابق سیکرٹری کے طور پر مختلف وزارتوں میں کام کر چکے ہیں، تجویز کردہ تیسری شخصیت عارف خان چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹریڈ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے عہدے پر تعینات ہیں۔اس سے قبل قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے وزیراعظم کو ایک خط ارسال کر کے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لیے نام تجویز کیے تھے۔انہوں نے وزیراعظم کو ارسال کیے گئے خط میں الیکشن کمشنر کے لیے ناصر سعید کھوسہ، جلیل عباس جیلانی اور اخلاق احمد تارڑ کے نام کی تجویز دی تھی۔ دوسری طرف چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کے تقرر کیلئے قائم پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس  کل منگل کو ہو گا جس میں چیف الیکشن کمشنر اور ممبران  کے ناموں پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق ہونے کا امکان ہے۔تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کے تقرر کیلئے قائم پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس چیئرپرسن ڈاکٹر شیریں مزاری کی زیر صدارت سہ پہر4بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہو گا۔پارلیمانی کمیٹی میں  حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کے تجویز کردہ ناموں پر غور ہو گا۔

پارلیمانی کمیٹی

مزید : صفحہ اول


loading...