بھارت میں احتجاج جاری،مزید 3ہلاک،مودی حکومت اندرونی مشکلات سے توجہ ہٹانے کیلئے کوئی ناٹک کر سکتی ہے جارحیت کا منہ توڑ جواب دینگے:شاہ محمود

بھارت میں احتجاج جاری،مزید 3ہلاک،مودی حکومت اندرونی مشکلات سے توجہ ہٹانے ...

  



نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) بھارت بھر میں متنازعہ شہریت  قانون کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ اتوار کے روز بھی  جاری  رہا  جس میں مزید 3مظاہرین  پولیس تششد اور فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، بھارتی حکومت نے توڑ پھوڑ کا الزام لگا کر مظاہرین کی پراپرٹیز ضبط کرنا شروع کر دیا جبکہ کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے آج ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا ہے کانگریس کی ریلی کی قیادت سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کرینگے۔ پولیس کی فائرنگ سے اب تک 27 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ معروف ادا کار جاوید جعفری نے کہا ملک میں لوگ بھوکے مر رہے ہیں اور مودی سرکار کو ہندو مسلمان کو لڑاوانے کی پڑی ہے۔تفصیلات کے مطابق بھارت کے مختلف شہروں میں متنازع اور مسلم مخالف شہریت کے قانون کے خلاف مظاہرے جاری  رہے، کولکتہ، چنائے، لکھنو، پٹنہ، ممبئی سمیت مختلف شہروں میں پولیس کی بھاری تعداد بھی احتجاج نہ روک پائی۔ مظاہرین نے رکاوٹیں توڑ ڈالیں، ہائیویز بلاک کر دیں، مظاہرین نے متعدد علاقوں میں ریلوے لائن پر قبضہ کر لیا۔ ممبئی ہونے والے اس مظاہرے میں طلبا اور سول سوسائٹی کے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ریاست کرناٹک کے شہر مینگلور میں کرفیو نافذ ہے، مظفرنگر میں 50 دکانیں سیل کر دی گئیں، اتر پردیش میں اسکول اور کالج بھی بند ہیں، انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔ مودی حکومت نے بھارتی ٹی وی چینلز کو مظاہروں کی کوریج سے روکنے کے لیے ایڈوائزری جاری کر دی۔۔نئی دہلی کی جامع مسجد کے باہر بڑا  احتجاجی مظاہرہ ہوا، دہلی کے 7 میٹرو اسٹیشن بند کر دیئے گئے، پولیس  ڈرونز کی مدد سے مظاہروں کی نگرانی کرتی رہی۔ناگپور میں آر ایس ایس کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے لاکھوں افراد نے احتجاج کیا۔ پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا جبکہ مشتعل مظاہرین نے موٹر سائیکلوں، گاڑیوں اور ٹرینوں کو آگ لگا دی۔ دہلی اور اترپردیش سب سے زیادہ متاثر رہے۔ اترپردیش پولیس نے بتایا ہے کہ اب تک پرتشدد احتجاج میں 16 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ دہلی میں ہوئے اب تک الگ الگ پرتشدد احتجاج کے سلسلہ میں گرفتار کئے گئے ملزمین کو دہلی ہائی کورٹ نے عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ سیلم پور تشدد میں گرفتار 11 لوگوں کو 14 دنوں کی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔سی اے اے کے خلاف کانپور اور رام پور میں تشدد کے تازہ واقعات پیش آئے پوری ریاست میں اب تک 705 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔، رام پور اور لکھنو میں زخمیوں میں 263 پولیس اہلکار شامل ہیں، جن میں سے 57 کو گولی لگی ہے۔ 4500 لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ جھڑپ کی جگہوں پر پولیس کو گولیوں کے 405 خالی کھوکھے ملے ہیں۔ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعہ قابل اعتراض پوسٹ ڈالنے کے الزام میں بھی 102 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ابھی تک 14101 سوشل میڈیا پوسٹ پر کارروائی ہوئی ہے۔ ان میں 5965 ٹویٹ، 7995 فیس بک اور 141 یوٹیوب پوسٹ شامل ہیں دریں اثنامتنازعہ شہریت ایکٹ کی منظوری کے بعد بھارت لرزنے لگا، بڑھتے ہوئے مظاہروں سے پریشان وزیراعظم نریندرا مودی نے اپنے وزراء سے ملاقات کی ہے۔ حکومتی اتحادی جماعتوں نے بھی قانون کو غیر مناسب قرار دیدیا، تر پردیش کے دارالحکومت لکھنو میں سی اے اے کے خلاف مظاہرے کے دوران یوپی کانگریس کی میڈیا ترجمان اور سابق ٹیچر صدف جعفر کو پولیس نے بربریت کا نشانہ بنایا لکھنو کی اس سابق استاد کے خلاف پولیس کی ظالمانہ کاروائی پر ملک بھر میں غم و غصہ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔  صدف جعفر کے اقارب کا الزام ہے کہ پولیس نے ان کے ہاتھوں اور پیروں پر لاٹھیاں برسائی تھیں، علاوہ ازیں ان کے پیٹ پر لاتیں ماری گئی تھیں، اس کی وجہ سے اندرونی طور پر ان کا خون بہہ رہا ہے۔لکھنو میں 19 دسمبر کو سی اے اے کے خلاف زبردست ریلی نکالی گئی تھی، صدف ظفر اس میں شامل تھیں۔دوسری طرف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ، اساتذہ اور نان ٹیچنگ سٹاف نے مشترکہ طور پر جامعہ کے وائس چانسلر اور رجسٹرار کو ان کے عہدوں سے برخاست کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ، اساتذہ اور نان ٹیچنگ سٹاف کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور اور رجسٹر عبدالحمید کو فوری اثر کے تحت ان کے عہدوں سے برخاست کیا جاتا ہے، دونوں عہدیداروں پر واضح کیا جاتا ہے کہ وہ 5 جنوری 2020 تک وی سی اور رجسٹرار لاج کو خالی کردیں بصورت دیگر طلبہ، اساتذہ اور نان ٹیچنگ سٹاف انتظامی معاملات کا بائیکاٹ کردیں گے اور یہ سلسلہ ان دونوں کے استعفیٰ تک جاری رہے گا۔قبل ازیں علی گڑھ یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس لیڈرز نے اتوار کے روز طلبہ پر ہونے والے پولیس تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی اور وی سی کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا۔کانگریس رکن پارلیمنٹ اے ریونت ریڈی نے شہریت ترمیمی قانون کو دہشت گردوں کیلئے فائدہ مند قرار دیا اور کہا کہ یہ قانون ملک کی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ ہندوستان کے دشمن ممالک سے آنے والے ہندوں اور دیگر طبقات کو شہریت دینے کا فیصلہ کیا گیا جو انتہائی عاقبت  نااندیش فیصلہ اور ملک کی سلامتی کو خطرہ میں ڈالنے کی کوشش ہے۔   انہوں نے کہا کہ اس قانون سے دہشت گردوں کو ہندوستان میں اپنی سرگرمیوں کو انجام دینے میں سہولت ہوگی کیونکہ حکومت انہیں کسی رکاوٹ کے بغیر ملک میں داخلہ کا نہ صرف لائسنس دے رہی ہے بلکہ شہریت دی جارہی ہے

بھارت احتجاج

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں)وزیر خارجہ شا ہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جب دنیا کی توجہ کرسمس کی طرف ہوگی تو اس دور ان بھارت اپنے اندرونی حالات سے توجہ ہٹانے کیلئے کوئی ناٹک رچا سکتا ہے،پوری قوم بھارت کی جارحیت کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح، پاکستان کے جغرافیے اور نظرئیے کی حفاظت کیلئے افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہو جائے،مزید خاموشی نقصان دہ ہو گی۔اتوار کو خطے میں امن و امان کی تشویشناک صورتحال کے حوالے سے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کہاکہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ بھارت میں مودی سرکار کے ہتھکنڈوں کے خلاف عوام نے علم بغاوت بلند کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پہلے مقبوضہ کشمیر میں ایسا ہوا تاہم ہندوستان نے کمیونیکیشن بلیک آؤٹ سے اس آواز کو دبانے رکھا آج مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو کو 140 روز ہو چکے ہیں لیکن پورے ہندوستان میں کرفیو نافذ کرنا ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے کہاکہ آپ نے دیکھا کہ پیر کو اپوزیش کی تمام بڑی جماعتوں نے احتجاج کی کال دے دی ہے۔ انہوں نے کہاکہ لکھنو میں اویسی صاحب کی قیادت میں ایک بڑی احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا بھر کے مختلف دارلخلافوں میں بھارت کے لوگوں نے جن میں ہندو، سکھ، مسلمان سب  شامل ہیں انہوں نے احتجاجی مظاہروں کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کینیڈا، امریکہ، شکاکو میں اور یورپ کے دیگر ممالک میں احتجاج ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج آر ایس ایس کی ہندتوا سوچ نے بھارت کو تقسیم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سیکولر بھارت کے حامی ایک طرف ہیں اور ہندتوا سوچ کے حامی دوسری جانب دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اب اس صورتحال میں وہ دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے فالس فلیگ آپریشن کا ناٹک رچا سکتے ہیں اور میں نے اس خدشے کا اظہار، سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے 12 دسمبر کے خط میں کر دیا ہے انہوں نے کہاکہ ہم نے پی فائیو کے سفراء کو بھی اس ساری صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں خدشہ ہے کہ کرسمس کی تعطیلات کے دوران جب دنیا کی توجہ کرسمَس کی طرف ہو گی تو اس دوران بھارت کوئی ناٹک رچا سکتا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ بحیثیت وزیر خارجہ میرا فرض بنتا ہے کہ میں ساری صورتحال سے قوم کو اور دنیا کو آگاہ رکھوں۔وزیر خارجہ نے کہاکہ ان حالات میں پوری قوم سے اپیل کروں گا کہ وہ ہندوستان کی جارحیت کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح، پاکستان کے جغرافیے اور نظریے کی حفاظت کیلئے افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہو جائیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے اگر کوئی حرکت کی تو اسے منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار ہیں 

شاہ محمود قریشی

مزید : صفحہ اول


loading...