صنعتوں،سی این جی سیکٹر کو گیس بندش سے بھی گھریلوں صارفین کی مشکلات کم نہ ہو سکیں 

صنعتوں،سی این جی سیکٹر کو گیس بندش سے بھی گھریلوں صارفین کی مشکلات کم نہ ہو ...

  



لاہور،کراچی،اسلام آباد (خبر نگار،نیوز ایجنسیاں) ملک کے بیشتر شہروں میں گیس کا پریشر کم ہونے پر سوئی گیس حکام نے صنعتوں اور سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی بند کر دی۔گیس کے کم پریشر سے پریشان شہریوں نے کہا ہے کہ چولہے پر چائے بنانا پائے پکانے سے بھی زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔دوسری جانب فیصل آباد میں صنعتوں کو گیس کی سپلائی بند ہونے کی وجہ سے اندرون شہر فیکٹریوں اور کارخانوں میں متبادل ایندھن کے طور پر لکڑی اور کوئلے کا استعمال شروع ہو گیا جس سے شہریوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، متبادل ایندھن کی قیمتوں میں بھی بے دریغ اضافہ کر دیا گیا ہے۔ فضائی آلودگی میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔فیصل آباد کی صنعتوں میں کوئلہ اور لکڑی جلائی جا رہی ہے۔ سندھ بھر میں گیس کا بحران سنگین ہوگیاہے،نیوکراچی، نارتھ کراچی، انچولی، لیاقت آباد،سلطان آباد اور پنجاب کالونی سمیت متعدد علاقوں میں گیس نایاب ہوگئی۔ صنعت کاروں کو بھی گیس کی قلت کا سامنا ہے،ان کا کہنا ہے کہ گیس کی قلت کی وجہ سے پیداوار کم ہوگئی،برآمدی آرڈرز منسوخ ہونے کا خدشہ ہے۔ادھررکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں نے بھی سی این جی نہ ملنے کے باعث رکشے گیس اسٹیشنز کے باہر کھڑے کردئیے  ہیں رکشہ ڈرائیوروں نے کہاکہ حکومت یا تو گیس مکمل بند کردے یا اسکا مستقل حل تلاش کرے۔ دریں اثنا لاہور میں  گیس کا پریشر ڈاؤن ہونے پر گنجان آبادیوں کے ساتھ پوش علاقے بھی گیس کی قلت سے دو چار ہونے لگے ہیں جس کے باعث تندوروں، ہوٹلوں اور بیکریوں پر رش بڑھ گیا ہے۔ گیس کا پریشر ڈاؤن ہونے پر صارفین متبادل ایندھن استعمال کرنے پر مجبور ہیں اور مہنگے داموں ایل پی جی، لکڑی اور کوئلہ خریدنے پر مجبور ہیں۔ ایل پی جی، لکڑی اور کوئلہ کی قیمتوں میں 20روپے فی کلو اضافہ، لکڑی 30روپے اور کوئلہ 70روپے فی کلو میں فروخت ہونے لگا ہے۔ جس پر صارفین نے شدید احتجاج کیا ہے اور گیس کی قلت کو دور کرنے کے لیے گیس حکام سے مطالبہ کیا ہے۔ اس حوالے سے سوئی گیس کمپنی کے ڈی ایم ڈی سہیل گلزار نے کہا ہے کہ گیس کمپنی کے پاس 2200ملین کیوبک فٹ کے ذخائر موجود ہیں۔ جس میں گھریلو صارفین پہلی ترجیح ہیں۔ اور گیس کی ڈیمانڈ کو پورا کرنے کے لیے پوری کوشش کی جارہی ہے۔ اس میں صارفین گیس کا کم سے کم استعمال کریں۔

گیس کمی 

مزید : صفحہ اول


loading...